کو ان کی کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
قلم کاری
کچھ یادیں، کچھ باتیں
اتوار، 3 اگست، 2025
کتاب پر تبصرہ، 'موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ: میری کینیڈین پاکستانی کہانیاں'
کو ان کی کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
ہفتہ، 5 اکتوبر، 2024
ٹیکسلا: باقیات گندھارا
انتساب:
برادرم ضیاء عزیزی
جُولیاں
ایک طلسماتی خانقاہ معلوم ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کے جوگی تھوڑی دیر میں
اپنے آسن رمانے کو آ موجود ہوں گےجو ابھی ابھی اٹھ کر کہیں گئے ہیں۔ یہ عمارت شاید
بنا چھت کے ہی رہی ہوگی اور دروازے کھڑکیاں ابھی بنائے ہی نہیں گئے ہیں۔ مگر یہ سب
تصور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں پر باورچی خانہ، خوراک ذخیرہ کرنے کا گودام،
نہانے کا تالاب ، خطاب کے لیے دالان، عبادت و یک سوئی کے واسطے کمرے اور دروازے
کھڑکیاں سب ہوتے تھے۔ چھتیں ڈھے چکی ہیں، لیکن ایک آدھ جگہ پر کمروں کی چھت قائم
ہے کہ وہاں دوسری منزل کو جاتی سیڑھیاں ابھی تک موجود ہیں۔ خانقاہ سے اتصال کرتی
ہوئی ایک محفوظ عمارت سمادھی یعنی اسٹوپا کی ہے اس کے اوپر چھت بنائی گئی ہے اور
باقاعدہ جنگلے لگا کر اسے محصور کیا ہے۔
اس سال موسمِ گرما میں
ہمارا ٹھکانہ عارضی طور پر اسلام آباد میں رہا جہاں ہم آٹھ ہفتوں کے مقیم تھے اور
مقصد تھا ایک مینیجمینٹ کورس کرنا۔ اس کورس میں ہمارے دفتر سے دیگر اشخاص کے ساتھ
ساتھ سو سے زائد افسران ملک بھر سے شریک تھے اور سب کے سب اچھے بچوں کی طرح صبح نو
تا سہ پہر تک پڑھائی کرتے تھے اور اس کے بعد جن کی دفتر کی مصروفیت نہ تھی ان کے
لئے راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ بقول ہمارے برخوردار محمد علی کے، آج کل کی سب سے
بڑی عیاشی ابا کے خرچے پر اچھی جامعہ میں پڑھنا ہے کہ یہ سہولت تو امریکیوں کو بھی
حاصل نہیں۔ جبکہ ہم تو دفتر کے خرچے پر پڑھ رہے تھے وہ بھی وفاقی دارالحکومت میں
اور اِس عمر میں، گویا یہ عیاشی اس لحاظ سے کافی بڑی تھی۔
ہمارے
پرانے یار ضیاء عزیزی کم و بیش ربع صدی سے دارالحکومت میں ہی مقیم ہیں۔ اسلام آباد
آتے ہی ان سے رابطہ ہوا تو پہلے ہفتہ میں ہی ان سے سینٹورس میں ملاقات ہوئی اور
عشائیہ ساتھ کیا۔ اس دوران مزید ملاقاتوں کے مہورت بھی نکال لئے۔ جولائی کے آخری
ہفتہ میں محمد علی اور شہیر شہباز (بھتیجے صاحب) بھی اسلا آباد آ پہنچے اور ہمارے
ساتھ ہی دفتر کے ہاسٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ انھیں آئی ایس ٹی میں کچھ کام پر لگایا
اور شام میں اسلام آباد کے قریبی بازار اور قابل دید عمارات دکھانے نکل پڑتےـ
ضیاء
سے پہلے ہی طے کر چکے تھے کہ لڑکوں کے آنے ہر سیر و تفریح کا کوئی بڑا منصوبہ بنائیں
گے۔ سو انھوں نے دفتر سے گاڑی لی اور بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے ہمیں لینے کے لئے بھیج
دیا۔ گاڑی ایک عدد ٹیوٹا ہائی ایس تھی اور ڈرائیور گاڑی چلانا تو جانتا تھا مگر
راستوں سے واقفیت کے معاملہ میں ہمارے کراچی دفتر میں فائز ڈرائیور شمس الاسلام کا
بھائی تھا۔ شمس اکثر لمبے راستے سے شارٹ کٹ لیتے ہیں اور اس پر معصومیت کے ساتھ
داد کے بھی طلب گار رہتے ہیں۔ سچ میں معصوم اور بے ضرر انسان ہیں۔ گاڑی چلانے میں
مشاق ہیں مگر ان کے ساتھ کسی نا معلوم منزل کیلئے ان سے زیادہ گوگل آنٹی پر اعتبار
کرنا پڑتا ہے۔
ہماری پہلی منزل جمیل
سوئیس تھی جہاں حلوہ پوری، چھولے اور لسی کے دیسی ناشتے کے بعد ہمیں ضیاء عزیزی کو
انکے دولت خانے سے لینا تھا، یہاں بھی ڈرائیور نے ہمیں ڈی بارہ سیکٹر کی گلیاں ایک
سے زیادہ مرتبہ دکھا دیں۔ بالآخر ضیاء کو فون کیا اور پتہ منگوایا، گوگل آنٹی کی
مدد سے ان کے گھر پہنچے اور انہیں لیا۔
ہمارا
ارادہ ٹیکسلا جانے کا تھا۔ موٹر وے (شاہراہ) پر کھونے کا امکان کم تھا کیونکہ آپ
آگے یا پیچھے تو جا سکتے تھے مگر گُم نہیں ہو سکتے۔ ہمارے مرحوم چھوٹے چچا ریاض نے
اسی کی دہائی کے آخر میں یُو اِی ٹی ٹیکسلا کہ جب وہ کالج تھا سے سِول میں بی اِی
کیا تھا۔ ہم لڑکوں کولے کر سیدھے وہاں پہنچے۔ سِول کے شعبہ سمیت پوری جامعہ ہفتہ
وار تعطیل کے باعث بند تھی- چوکیدار سے درخواست کی کہ ہمیں شعبہ کی راہداریاں اور
کھڑکیاں ہی دیکھ لینے دو کہ چچا یہاں چار سال پڑھا کئے، مگر اس کا کہنا تھا کہ حضور آپ سکورٹی سے اجازت
لے آئیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ضیا بھائی ہار مارنے والے نہیں ہیں، لہٰذا ہمیں
پکڑ کر کیمپس سیکیورٹی کے دفتر پہنچے اور انہیں سرکار کا واسطہ دے کر ایک نمائندہ
کے ساتھ واپس اجازت مع ایک عدد گارڈ کے آئے اور ہمیں اندر سے پوری عمارت دکھائی۔
جس
دور میں چچا یہاں سے اپنی انجینیئر کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ہم اور برادرِ خُرد
شہباز، والدین کے ہمراہ اپنے گاؤں خانیوال آتے تو موسمِ گرما کی چھٹیوں میں چچا بھی
گاؤں آتے، وہ جون جولائی اورگاؤں کی گرمی ہماری عیاشی کے دن ہوتے تھے جب چچا کے
ساتھ گھر کے بڑے سے صحن میں کرکٹ کھیلنا ، ٹوکرا لگا کرپرندوں کا شکار کرنا، لاہور
موڑ پر سموسے اور جلیبی کھانے پیدل یا سائیکل پر جانا اور دیگر غیر تعمیری سرگرمیاں
کرنے میں ہم چچا بھتیجے سہولت کار اور نامعلوم افراد کے کردار ادا کیا کرتے تھے۔
ان ساری یادوں کے ساتھ ہم نے شعبہ سول کے درودیوار اور راہداریوں کا مشاہدہ کیا کہ
چچا یہاں سے بھی گزرے ہوں گے اور کیا پتہ اس سیڑھی پر بیٹھے ہوں اور اس کمرہ میں لیکچر
سنا ہو۔
تاریخ
کے اوراق پلٹیں تو لگ بھگ بارہ سو قبل مسیح میں گندھارا تہذیب کا آغاز ہوا۔ اس وقت
انسانی آبادی پانیوں کے باعث ہوا کرتی تھیں،
یہ پانی کے ذخائر تالاب، کنویں، ندی نالوں یا دریاوں کی صورت میں ہوتے تھے، پانی
کے سُوکھ جانے پر یا طویل عرصہ تک بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے خانہ بدوشی اختیار کی
جاتی۔جب ہمارے خطے کے قدیم مقامات کا ذکر آتا ہے تو موئن جو ڈرو اور ہڑپہ کے
کھنڈرات کا نام لیا جاتا ہے ۔ مگر بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے ان دو مقامات کے
ساتھ ساتھ پوٹھوہار سے وادی سوات تک کے تمام مقامات قابلِ احترام ہیں۔ پشاور،
مردان اور ان سے ملحقہ علاقے اس وقت کے معروف بازار اور شہر رہے ہیں اور سکندر
اعظم کا ٹیکسلا میں آنا اور قیام کرنا تاریخ
کا حصہ ہے کیونکہ اس نے نہ صرف یہ کہ یہاں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کیا بلکہ اس
خطے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔ ٹکشا شیلا یہاں کی وہ جامعہ تھی کہ جہاں جدید علوم
کی تعلیم دی جاتی تھی اس میں خفیہ پیغام
رسانی یعنی میسج انکرپش کا نصاب بھی شامل تھا۔ دیگر علوم میں سائنس، ریاضی، موسیقی،
رقص، سپاہ گری اور مروجہ مضامین سب کی تعلیم دی جاتی تھی۔گویا سکندرِ اعظم کا ٹیکسلا
سے متاثر ہونا بنتا تھا ۔ جب سکندر یہاں کے طلسم کا شکار ہونے سے نہ بچ سکا تو ہم
اکیسویں صدی کے مصنوعی ذہانت سے بھر پور دور میں بسنے والے سائنس کے ایک ادنا طالب
علم اور قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کے
دِلدادا، ٹیکسلا کی خانقاہ اوراسٹوپا کے خاموش آسیب کا شکار کیسے نہ بنتے۔
جُولیاں
طلسمانی خانقاہ معلوم ہوتی ہے جِسےکوئی دیو پہاڑ کی چوٹی پر رکھ گیا ہے ۔ جب اس کی
تعمیر کی گئی ہوگی تو دور دور تک کوئی آبادی نہ رہی ہوگی اور ایسا سکوت رہا ہوگا
کہ بقول شاعر،
کبھی
اتنا گہرا سکوت ہو، سُنوں پھول کھلنے کی آہٹیں
آج
بھی یہاں قدر ےسکوت ہی ہے۔ اس سے متصل سمادھی میں بھی مجاوروں اور جوگیوں کے کمرے
ہیں جن میں پہروں آسن رمایا جا سکتا ہے۔ اب اس مقام کو یونیسکو کے بین الاقوامی
وراثتی اثاثہ میں شامل کر لیا گیا ہے اور تمام اسٹوپا اوپر سے ڈھک دیئے گئے ہیں۔
نجانے کتنے گمنام اور ناموروں کی راکھ ان میں مدفون ہے اور قیامت کے صور پھونکنے کی
منتظر ہے۔
جُولیاں
تک آنے کے لئے ہمیں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحد پر آنا پڑا۔لب سڑک اونیکس یعنی
سنگِ سلیمانی کےظروف بیچے جارہے تھے اور چند ایک ہٹی نما دوکانیں بنی ہوئی تھیں
جہاں چارپائیوں اور بنچ پر بیٹھنے کا انتظام تھا۔ جمیل سوئیٹس سے نکلتے وقت ہم نے
وہاں سے چنا چاٹ اور دہی بھلےپارسل کرا لئے تھے جو اس وقت کام میں لائے گئے ۔ اور
پھر اُوپر کو سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ مکئی کے کھیت راستے کی سیڑھیوں کے دائیں
جانب تھے اور ہری من بھری، دوشالا اوڑھے کھڑی نظر بھی آئی۔ بائیں جانب چند ایک گھر
اس پو ٹھو ہاری زمین پر تعمیر کئے گئے
تھے۔ ایک ٹھنڈے پانی کی نہر، جس کے کنارے پختہ تھے راستے سے گزری۔ دونوں لڑکے جوتے
اتار کر اس میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ غضب کا حبس اور گرمی تھی ایسے میں پانی کا
نظر آجانا ہی کسی نعمت سے کم نہ تھا۔
ہمت
کر کے اوپر پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر مبہوت ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اسٹوپا میں
بڑی تعداد میں الگ الگ چوکور سمادھیاں بنی ہیں اور مستطیل احاطے میں عبادت کے کمرے
ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جسے تزئین و آرائش کے بعد محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس میں غالباً
تھائی لینڈ کی حکومت کی مالی معاونت شامل ہے کیونکہ ان کے ہاں بدھ مت کے پیروکار ایک
کثیر تعداد میں ہیں اور تھائی حکومت کا سرکاری مذہب بھی یہی ہے۔
اس
اسٹوپا کے صحن میں قطار در قطار بھی کمرے بنے ہوئے ہیں جنہیں جنگلے میں نہیں لیا گیا۔
غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت زندوں اور مُردوں کی باقیات کو مدغم نہیں ہونے دینا
چاہتی۔ ایک کھُلا صحن ان کمروں کو جنگلے سے جدا کرتا ہے۔ اس احاطے کے بائیں پہلو میں
خانقاہ ہے اور یہ دونوں احاطے ایک پہاڑی پر قائم ہیں۔ صدیوں پہلے یہاں تک رسائی کیسے
اور کیوںکر ہوا کرتی تھی یہ ایک مشکل سوال ہے۔
یہاں
آنے سے پہلے ہم ٹیکسلا کے عجائب خانہ میں محو حیرت رہے اور مختلف نو اورات کا
مشاہدہ کیا ۔ ان میں سِکوں سے لے کر بڑے بڑے سنگی ستون اور فانوس سبھی کچھ شامل
تھا۔ دھات اورپتھر کے دور کے ظروف، روز مرہ استعمال کے آلات، آرائشی سامان، تعمیراتی
اشیاء، غرض یہ کہ انسانی تاریخ و تمدن کا عروج و زوال ان تمام نوادرات سے عیاں
تھا۔ گندھارا دور کی یہ نوادرات سرجان مارشل نے دریافت کی تھیں۔ ان کو خراج تحسین
پیش کرنے کی خاطر ان کی تصویر اور خدمات کی تفصیل عجائب خانے کے مرکزی دروازے پر
دائیں جانب لگائی گئی ہیں۔ نوادرات کے مشاہدہ کے بعد عمارت سے متصل باغ میں تصاویر
بنائیں اور اگلےپڑاؤ ، سِرکپ نامی شہر کے کھنڈرات پر پہنچے۔
کراچی کے لحاظ سے بات
کریں تو یہ شہر کم و بیش گلشن یا سوسائٹی کا ایک بلاک معلوم ہوتا تھا ۔ فرق صرف
اتنا تھا کہ سِرکپ کی شہری منصوبہ بندی گلشن اور سوسائٹی سے بہتر تھی۔شہر ایک
مرکرنی سڑک کے دونوں جانب تعمیر کیا گیا تھا۔ اس میں اسٹوپا ، عبادت گاہیں ،
بازار، محملات، دفاتر اور عام رہائش گاہیں سب شامل تھے۔ مضبوط پتھروں کو چونے سے
جوڑا گیا تھا اور دیواروں میں کوئی رخنہ یا روزن ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا تھا ۔ گو
کہ دیواریں اب ایک آدھ جگہ پر ہی موجود ہیں لیکن بنیادیں پوری طرح بر قرار ہیں اور
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر پورے شہر کا کھینچ دیا گیا ہے اور بنیادیں بھری جا
چکی ہیں، بس اب دیواریں اٹھانے کی دیر ہے ۔ پانی اور ہواکے گزر کے لئے راستے بنائے
گئے تھے ۔ یقیناً صدیوں پہلے یہ ایک جدید اور مکمل شہر کا منظر پیش کرتا ہوگا۔
سِرکپ
دیکھنے کے بعد ہم نے جُولیاں کی راہ لی اور راستے سے تارہ گنے کا رس پیا۔ جس اور
گرمی میں اس گنے کے رس نے ہمیں تازہ دم کر دیا اور ہم مزید سفر کے لئے روانہ ہو گئے۔جولیاں دیکھنے کے
بعد لب سڑک واقع ایک مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی اور مسجد کے صحن میں کمیٹی کے دو
اشخاص کے درمیان ہونے والے جھگڑے کا شاہدہ کیا۔ وہ دونوں صاحبان جن میں سے ایک ضعیف
اور باریش بزرگ دوسرے قدرے کم عمر والے
صاحب سے بحث میں الجھے ہوئے تھےاور مسئلہ مسجد میں پانی کی فراہمی کا تھا کہ کنواں
کھُدوایا جائے کہ نہیں۔ باتوں کی گرما گرمی میں
ان دونوں اللہ کے بندوں کو اس بات کی پرواہ نہ تھی کہ مسافر نماز ادا کر
رہے ہیں اور وہ رفاح عامہ کی خاطر اپنی بحث جاری رکھے ہوئے تھے۔
ہماری
اگلی منزل خانپور ڈیم تھی۔ اس کا ڈرائیور کو بخوبی علم تھا لہٰذا وہ اللہ کا بندہ
ہمیں سیدھا پیراسیلنگ والے مقام پر لے آیا۔ یہاں تک آنے کے لئے ہمیں گاڑی جھیل کے
ایک عارضی راستے سے گزارنی پڑی جہاں پانی کے راستے میں جھیل میں پائپ بچھا کر اوپر
کچھ مٹی ڈال دی گئی تھی، پانی پائپز کے اندر اور اُوپر دونوں جگہ سے بہہ رہا تھا ۔
یہاں
ہر طرح کے آبی کھیل فراہم کئے گئے ہیں۔ ان میں کشتی رانی سے لے کرہوا میں تَیرنے
اور اُڑنے کے کمالات شامل ہیں۔ پیرا گلائڈنگ کرنی ہو تو صبح سویرے تشریف لائیں اور
اکیلے یا کسی ماہر کے ساتھ ہوا میں پنکھ کے زور پر اُڑان بھریں۔ پیرا سیلنگ میں پیرا
شُوٹ کو رسی کی مدد سے موٹر بوٹ سے باندھ دیا جاتا ہے اور پھر کشتی رسی کو کھینچ
کر آپ سمیت ہوا بھرے پیرا شوٹ کو اوپر
اٹھنے میں مدد کرتی ہے۔ یوں ہوا کے دوش پر آپ اوپر تیرنے لگ جاتے ہیں۔ کشتی ایک
چکر لگا کر آپ کو دوبارہ کنارے پر لے آتی ہے اور آپ ہاتھوں کی مدد سے پیراشوٹ کے
گھوڑے کی لگا میں کھینچتے ہیں یوں ہوا کے دوش پر یہ رَخش زمین پر اتر جاتا ہے۔ اس
کی سائنس نہایت دلچسپ ہے، مائعات کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اَرشمیدس کا نام ضرور لیا
جاتا ہے۔ پانی میں تیرنا ہو یا ہوا میں اُڑان بھرنا دونوں اصول اَرشمیدس سے ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار مع سمت یعنی
ولاسٹی، رسی کی لمبائی، پیرا شوٹ کا پھیلاو یعنی محیط، آپ کا وزن اور کششِ ثقل سب
مل کر آپ کو ہوا میں اٹھاتے ہیں اور موٹر
بوٹ کی رفتار آپ کے ٹیک آف اور لینڈنگ کو قابو کرتی ہے اور آپ کا وزن یہ سب مل کر
آپ کو ہوا میں اٹھاتےہیں۔ لڑکوں کو ہم نےیہاں آنے سے پہلے ہی اس کے لئے ذہنی طور
پر تیار کرلیا تھا گویا وہ علم ایقین کے درجہ پر تھے۔اور جب انھوں نے یہاں کا منظر
دیکھ کر عین الیقین بھی کر لیا تو حق الیقین کے لئے راضی ہوئے. ہم نے پیرا شوٹ کا
کرایہ پیشگی ادا کر دیا اور لڑکوں کو لائف جیکٹ پہنا دی گئی اس دوران یہ سرگرمی
اچانک روک دی گئی کیونکہ ہوا کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آگئی تھی ۔ ایسے میں
پرواز پھر نا تو آسان ہوتا ہے مگر اتر نا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہمیں چند
منچلوں کو دیکھ کر ہوا کہ جیسے سے ہی کشتی انہیں کنارے لگاتی اور وہ پیرا شوٹ کی
رسی کھینچتے مگر ہوا پھر انہیں اوپر اٹھا دیتی، ایک خاتون کئی بار ہوا میں غوطے
کھاتی نظر آئیں۔ گو کہ وہ اس سے لطف اندوز ہو رہی تھی مگر ان کی گود کی بچی جو کہ
نیچے اپنے ابا کے پاس تھی نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ خیر کچھ دیر بعد
شہیر اور علی کی باری آگئی پہلےشہیر نے اڑان بھری اور خیر و عافیت سے مزے کرتے
ہوئے اتر گئے ۔ پھر علی صاحب گئے اورسرعت کے ساتھ پورا عمل طے کر گئے۔
اس کا روائی کے دوران
سہ پہر ہو چکی تھی اور ہم نےنہیں کھانا نہیں کھایا تھا۔ جُولیاں کی سیڑھیاں چَڑھنے
اور اُترنے میں چاٹ اور دہی بھلے تو کب کے ہضم ہو چکے تھے۔ٹیکسلا سے نکل کر خانپور
آتے ہوئے راستے میں ہمارے ہمدرد کے زمانے کے ساتھی عبداللہ سے موبائل پر بات ہوئی
تھی۔ انھوں نے بتایا کہ شریف اللہ ان دنوں واہ کینٹ میں ہیں ویسے وہ سعودی عرب میں
مُدرس ہیں۔ ہم نےشریف سے رابطہ کیا تو وہ نسلی پٹھان فرمانے لگے کہ آپ لوگ سیدھا میرے
ہاں تشریف لے آئیں۔ فوراً ہی اپنا پتا بھی بھیج دیا اور ساتھ ہی ہمیں اپنی لوکیشن
آن کرنے کا حکم دیا۔ ان سے بھی پرانی دوستی ہے اور ہمدرد کے دور کی اچھی یادیں
وابستہ ہیں جن میں اسٹاف روم میں لطیفہ سُنانے سے لے کر خالی دنوں میں ٹیبل ٹینس
اور کسوٹی کھیلنا، سلیم صاحب کے ڈیرے پر ظہرانے اور عشائیہ اڑانا سب شامل ہیں ، تو
ہم نے ان کے حکم پر لبیک کہا اور گوگل آنٹی کی راہنمائی میں ان کے ہاں پہنچ گئے۔
انھوں نے پٹھانوں والی روایتی مہمانوازی کا مظاہرہ کیا اور باقاعدہ مردانے کا
بندوبست کر کے ہمیں تازہ دم ہونے کا حکم صادر فرمایا۔ یہ مردانہ بیٹھک ان کے ایک
قریبی عزیز کی تھی جو ان کے پڑوسی بھی تھے۔ ہم سب وہاں تازہ دم ہوئے اور اس کے بعد
بریانی اڑائی ۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران ہم نے زیادہ تر سرکاری خانساموں کے
ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھایا۔ جس میں مرغی کا سالن اور چاولوں کے طعام شامل رہے۔
ہم اپنے معدے کو تسلی دینے کی خاطران تمام کھانوں کو سالن اور طعام یا چاول کہتے
تھے تاکہ ہماری زبان کے ذائقہ کو بریانی، پلاو، قورمہ کے مخمصے میں نہ پڑنا پڑے
اور نہ ہی پہچانا پڑے کر دراصل کیا پکا یا گیا ہے ۔ لیکن واہ کینٹ کی شریف اللہ کے
گھر کی بریانی میں کراچی والا مزہ اور ذائقہ تھا اور وہ بجا طور پر بریانی کی تعریف
پر پوری اترتی تھی اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ شریف الله حال ہی میں کراچی سے
واہ کینٹ منتقل ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے تو ساری زندگی کراچی میں
گزارنے کے باوجود بھی انھیں یہاں گھر کرتے ہوئے وقت نہیں ہوئی۔ ان کے بچے اور اہلیہ
بخوشی یہاں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بلکہ اب تو ان کے یہاں قیام کو ایک برس ہو
چلا ہے۔یوں ان کے رہن سہن میں کراچی سے خیبر تک کی ثقافت اور ازلی اکرامِ آدم کے
تمام رنگ جھلکتے ہیں۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور پھر عصر کے بعد ہم نےان سے
اجازت لی۔ واپسی میں ہاسٹل پہنچتے پہنچتے عشاء ہوگئی یوں ہمارا یہ بھر پوردن
اختتام کو پہنچا۔
جو
لوگ اب تک ٹیکسلا نہیں جا سکے ان سے اِلتماس ہے کہ ضرور وہاں کا چکر لگائیں اور
گردو نواح کے تمام مقامات دیکھیں۔ ہم یہاں موجود اٹھارہ تا بیس مقامات میں سے محض
دو جگہ پر گندھارا کی تہذیب سے وابسطہ عمارات کا مشاہدہ کر سکے جبکہ ٹیکسلا کے
تمام کھنڈرات دیکھنے کے لئے کافی وقت درکار ہے ۔ ہمیں اس بات کا اطمینان ہے کر
جُولیاں دیکھ لیا تو گویا سب دیکھ لیا۔ کیونکہ جُولیاں ایک طلسماتی خانقاہ معلوم
ہوتی ہے۔
ایم
اے امین
ختم شُد
اتوار، 7 مئی، 2023
جنوب مشرقی چین میں
ہفتہ، 8 اپریل، 2023
تصویرِ ہمدرداں، باتیں ٹینٹھ اے کی
ہفتہ، 25 مارچ، 2023
رمضان سڈنی میں
ہمارے مستقل قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ ہم سن دو ہزار نو سے دو ہزار گیارہ تک سڈنی میں رہے، یہ دورانیہ پورے چوبیس ماہ کا تھا کیونکہ ہم اگست کے مہینہ میں وہاں گئے تھے اور اگست میں ہی واپس وطن آئے تھے۔ اُن دنوں روزے بھی اگست میں تھے۔ یوں مسلسل تین رمضان ہم وہاں تھے۔ اس بلاگ کا متن گو کہ پرانے بلاگز پر ہی مشتمل ہے لیکن ہمارا بلاگ ہماری مرضی کے مصداق ہم اسے نئے انداز میں پیش کر رہے ہیں ۔
بالکل شروع کے روزے تھے جب ہم سڈنی پہنچے۔ بلکہ جس دن ہماری پرواز برائے دوبئی تھی اسی شام وطن عزیز میں پہلے روزہ کا اعلان ہوا تھا۔ پرواز سے پہلے ہی کراچی کے ہوائی اڈہ پر اماراتی ہوائی باز ادارے والوں نے سحری کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ ہم نے جہاز کی روانگی سے قبل سحری کرلی اور دوبئی سے سڈنی کی پرواز میں روزے سے ہی رہے۔ اس پرواز میں فضائی میزبان نے ہمارے روزے کا خیال رکھا اور دوران پرواز افطار کا اہتمام کیا، کھجوروں کی رکابی اور دودھ کے جام کے ساتھ روزہ کھُلوایا گیا اور نماز مغرب کے بعد پُرتعیش عشائیہ پیش کیا گیا۔
سحری ہم نے سڈنی کے قریب کی جب جہاز میں ناشتہ کا وقت ہوا۔ یوں سڈنی اُترتے ہوئے ہم روزہ سے ہی تھے۔ اُن دِنوں ہم کچھ زیادہ ہی بنیاد پرست تھے اور سفر کے دوران روزہ قضا کرنے کی سہولت سے استفادہ نہ کیا۔ خیرسڈنی پہنچے تو فہد الٰہی، احسن شیخ اور شہباز واڈی والا محض تین افراد گھرکے مکین تھے اور گھر نیا نیا کرایہ پر لیا گیا تھا۔ باورچی خانہ میں چیدہ چیدہ برتن اور لوازمات موجود تھے۔ افطارمیں ہمت کرکے پکوڑے بنائے اور جیسے تیسے روزہ کھول لیا۔ جب گھر سے چلے تھے تو محض چائے بنانا اور انڈا اُبالنا جانتے تھے اور واپس وطن آئے تو کھانا پکانے میں اتنے مشاق ہو چکے تھے کہ قورمہ اور بریانی بھی بنا لیتے تھے۔
سحری میں بھی مل جل کر فروزن پراٹھے اور انڈوں کی مدد سے روزہ رکھا گیا۔ یوں ابتداء میں ہم باورچی خانہ میں اتنے متحرک نہ تھے، مگر آہستہ آہستہ منکشف ہوا کہ یہاں ہمارے گھر والے کھانا پکانے میں ہم سے بھی گئے گزرے تھے۔ لہٰذا خود سے باورچی خانہ میں قدم رکھنا پڑا۔ یاد رہے کہ سڈنی چونکہ جنوبی نصف کرہ میں واقع ہے اس لئے وہاں موسم ہمارے نصف کُرہ کے لحاظ سے بالعکس ہوتا ہے، ہمارے ہاں گرمیاں اپنے اختتام پر تھیں تو وہاں سردیاں ختم ہوا چاہتی تھیں اور بہار کی آمد آمد تھی۔ اس لئے روزہ خاصے کم دورانیہ کا ہوتا تھا۔
محمود جامی نام کے ایک مصری اُن دِنوں جامعہ یو این ایس ڈبلیو میں مسلم مُصلہ کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ اور اُنکا پورا خاندان اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ مُصلہ اُس دور میں اَنزیک پریڈ سے متصل اِسکوائر ہاوس میں ہوا کرتا تھا جہاں مسلم طلبہ و طالبات نمازیں ادا کرنے آتے تھے۔ پہلی تراویح ہم نے عربوں کے طریقہ پر پڑھی اور خاصے حیران ہوئے کہ یہ بھی انداز ہوسکتا ہے عبادت کا۔ وطن میں تو ہم دین کی باتیں اور احکامات سُن سُن کر سنی بن ہی چکے تھے مگر دین کی صحیح سمجھ تب آئی جب اسے روایات اور ثقافت سے الگ کر کے دیکھا۔
مُصلہ پر ہر دوسرے روز کسی نہ کسی گروہِ طلبہ کی جانب سے افطار کا بندوبست کر دیا جاتا۔ کبھی ملائیشیا والے روزہ کھُلوا رہے ہوتے تو کبھی انڈونیشائی برادران۔ مزہ تب آتا جب سعودی عرب والوں کی باری آتی، اُن کے افطار کے اتنظام میں روایتی مہمان نوازی دیکھنے کو ملتی کہ جب دستر خوان بے شمار اور اعلٰی قسم کی اشیائے خورد و نوش سے بھر جاتا۔ ہم پاکستانی بھی پیچھے نہ رہتے اور بریانی کا خاص اہتمام کیا جاتا جسے کھانے کے شوق میں روزے خوروں سمیت گورے بھی دوڑے چلے آتے۔ بقول غالب
عید پر چاند کی رویت کے لحاظ سے وطن والا تذبذب وہاں بھی دیکھنے میں آیا، عرب تو اُمت کے ساتھ عید مناتے کہ جب سعودی عرب میں عید ہو گی تو ہم بھی عید کر لیں گے، مگر ہم کیونکہ سائنس کے طالب علم ٹھہرے تو وہاں بھی چاند کی سائنس کھوجنے سے باز نہ آئے اور رویت کے مطابق ہی عید منائی۔ پہلی عید نماز بھی ہم نے اپنی جامعہ میں ہی پڑھی۔ ایک بنگلہ دیشی مُصلہ نے یہ سہولت بھی دی ہوئی تھی کہ آپ دو میں سے کسی بھی دن عید نماز ادا کرسکتے ہیں، چاہیں تو سعودی عرب والوں کے ساتھ عید منا لیں یا چاند کی مقامی رویت کے مطابق۔
ستمبر سن دوہزار نو میں رمضان کے دوران ہی تابش خان کراچی سے ہمارے ساتھ رہنے تشریف لائے، یہ ہمارے تین ہم رہائش ارکان کے مشترکہ دوست تھے جو سب کے سب سزابسٹ کے گریجویٹ تھے اور اب یواین ایس ڈبلیو کا اسٹیکر لینے آئے تھے، جی ہاں ان سب کو کراچی میں جامعہ کے اسٹیکر نے موٹیویٹ کیا تھا۔ اور یہ پیسے جمع کر کے یہاں سند حاصل کرنے پہنچے تھے۔
خیر تابش سے جہاں باورچی خانے کے برتن اور دیگر اوزار کراچی سے منگوائے گئے وہیں انھیں لوٹا لانے کا بھی حکم دیا گیا۔ پہلے تو وہ مذاق سمجھے مگر جب انھیں بتایا گیا کہ گورا کیا جانے لوٹے کا استعمال تو وہ مان گئے اور ان کی آمد پرجہاں ان کا سامان کھولا گیا تو لوٹے کو خاص تکریم کے ساتھ ان سے لے کرغسل خانے کی زینت بنایا گیا کہ ہمیں بیت الخلاء اور غسل خانہ الگ الگ دستیاب نہیں تھے۔
اگر تو آپ جَدی پُشتی امیر ہیں تو آپ کے لئے وطن یا دیارِ غیر ایک ہی جیسا ہے لیکن اگر آپ ہماری طرح مڈل کلاسیئے ہیں تو جان لیں کہ دیار غیر میں آپ کا حال ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کسی پناہ گزین یا نئے نئے مہاجر کا کسی اور ملک میں۔ اپنے ملک والی عیاشی اور مُلکوں میں نہیں ملتی، وہاں آپ کو اپنا بیت الخلاء بھی خود صاف کرنا پڑتا ہے اور اپنے برتن بھی خود دھونے ہوتے ہیں۔ کپڑے دھونے ہیں تو ساتھ میں استری بھی کرنا ہوں گے، ورنہ دھوبی سے کرانے میں ڈالر خرچ ہوں گے۔ کھانا ایک آدھ بار تو باہر سے کھایا جا سکتا ہے مگر زندہ رہنے کےلئے مستقل باہر سے کھانا ممکن نہیں، یوں جن لڑکوں اور مردوں نے وطن میں ہوتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں ہِل کر پانی نہیں پیا ہوتا وہ بیرون ملک جاکر اپنا سب کام خود کر رہے ہوتے ہیں اور وہ وہ کام بھی کرتے ہیں جو ہمارے ہاں نوکر یا کام والی ملازماوں سے ہی منسوب ہیں۔ یہاں ہماری جھوٹی شان و شوکت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ان کاموں کو چھوٹا اور معیوب جانا جاتا ہے جبکہ باہر یہ کام ضرورت اور وقت پڑنے پر کرنے میں ہم کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تو گویا ہم نے اپنے معاشرے کی بُنیاد ہی کھوکھلے پن پر رکھی ہے۔ ہمارا مقصد اصلاح معاشرہ کا نہیں مگر قارئین کو سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ جب نبی پیغمبر اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھوں سے کیا کرتے تھے تو ہم کس کھیت کی مولی اور گاجر ہیں کہ ہماری گردنوں کا سریہ اور کمر کا درد ہی ختم نہیں ہوتا جبکہ ہم اپنے قدموں سے زمین کو پھاڑ بھی نہیں سکتے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کاموں کے لئے نوکر نہ سہی گھر کی خواتین تو ہیں جن میں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی سب شامل ہیں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ گھر کے مردوں کی خدمت کریں۔ وہ بھی اس میں خوش ہیں کہ اپنے گھر والوں کے آرام کا خیال کر رہی ہیں، لیکن در حقیقت انھیں ناکارہ بنا رہی ہیں کہ اُن کی جھوٹی مردانہ وجاہت اور انا کو ٹھیس پہنچ جائے گی اگر وہ اپنا کام خود سے کر لیں گے۔ ہمارے ہاں وہ مرد اقلیت میں ہیں جنھوں نے کبھی اپنی بہن کوناشتہ بنا کر دیا ہو یا بخوشی اپنی بیگم کو فل کورس میل نہ سہی ناشتے میں انڈہ ہی تل کر دیا ہو۔
افطار تو ہم اجتماعی طور پر کر لیتے تھے مگر سحری خود سے کرنی پڑتی تھی، کیونکہ سردیوں کے روزے تھے تو انڈوں کی شامت آتی تھی۔ ایک بنگلہ دیشی کے دیسی اسٹور سے ہمارا ہفتہ بھر کا سودا آتا تھا ، جس بازار میں یہ اور اس جیسے دیگر پنساری دوکان کرتے تھے کچھ کچھ کراچی کے گول مارکیٹ کی پرچون کی دوکانوں کا منظر ہوتا تھا، مگر یہ گول مارکیٹ صفائی اور سلیقہ میں انگریز ہی تھی۔ یہاں شان کے مصالحے، اچار و چٹنی سب مل جاتا تھا، روح افزا اور جام شیریں بھی دستیاب تھے۔ اس حوالے سے بے وطنی کا احساس قطعی نہیں ہوا۔ تو سحری میں ہم دو دو فروزن پراٹھے بنا لیتے اور فی کس دو دو انڈے آدھے تلے جاتے یعنی سنی سائیڈ اپ کرکے ایک ایک لسی کے جام کے ساتھ سحری کی جاتی۔ اس قدر دیسی سحری میں پیش پیش محمد عمران تھے جو پہلے رمضان کے بعد سے ہمارے گھر کے مکین بنے تھے، اس دوران ہم باورچی خانہ پر اپنا تسلط پوری طرح قائم کر چکے تھے اور شوق سے سحری تیار کرتے تھے۔
ایک برس تراویح ہم نے ایک آسٹریلیائی مسلمان حافظ کے پیچھے پڑھی کہ ان کے والدین لبنان سے ترک وطن کر نے یہاں آ آباد ہوئے تھے اور ان کی مادری زبان عربی ہونے کی بدولت انکو قرآن سے محبت ورثہ میں ملی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پورے آسٹریلیا میں مساجد میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی نماز کا بھی بندوبست دیکھنے کو ملا۔ اور یہ نہایت اچھا انتظام تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہمارے مُصلہ میں بھی خواتین نماز کے لئے آتی تھی تو اس میں سہولت کا پہلو زیادہ ہے۔ وطن میں بھی ہم نے چند مساجد دیکھی ہیں جہاں یہ سہولت مہیا کی جاتی ہے مگر اس قدر عام نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنا دین اپنے ہاتھوں سے مذہب کے ٹھیکیداروں کو دے دیا ہے اور ان کے فیصلوں پر راضی برضا ہیں، جبکہ قیامت کے روز اس بات کے جوابدہ ہم خود ہوں گے کہ ہم نے اپنے دین پر عمل قرآن اور سنت سے ہٹ کر کیوں کیا۔
آخری رمضان میں ہمارے گھر کے مکین بدل چکے تھے اور حافظ عمار انیس ہمارے ساتھ رہنے آگئے تھے۔ تو ان کی امامت میں ہم نے اپنے سڈنی کے قیام کے آخری ایام کی تراویح پڑھی۔ ان کی رفتار اور روانی خاص دیسی حفاظ والی تھی کہ آواز سے زیادہ روشنی کی رفتار کا ساتھ دیتے اور کلام بھول جاتے پھر واپس پلٹے اور درست کرتے۔ یوں بیس رکتیں ادا ہوتیں۔
جھلکیاں
ایک رمضان ہماری پسندیدہ گلوکارہ شریا گھوشال سڈنی میں کانسرٹ کرنے آئیں مگر ہم ان کا پروگرام نہ دیکھ پائے اور اپنے شیطان کو قید ہی رہنے دیا۔
ایک بار افطار کے انتظام کی خاطربازار سے خود بریانی لینے گئے۔
پاکستانیوں کی جانب سے جامعہ میں چندہ بھی جمع کیا اور افطار کا اہتمام کیا۔
سڈنی سے وطن واپسی براستہ کوالالمپور تھی، اب کی بار ہماری شدید بُنیاد پرستی ختم ہوچکی تھی اس لئے ہم نے سفر میں روزہ نہ رکھا۔
اتوار، 12 فروری، 2023
امجد اسلام امجد کی یاد میں
ہمیں جب اردو شعر و ادب کی سمجھ آنا شروع ہوئی
اور اشعار یاد ہونے لگے تو 'اگر کبھی میری یاد آئے'، 'گلاب چہرے پہ مسکراہٹ، چمکتی
آنکھوں میں شوخ جذبے' اور 'ایک کمرہ امتحان میں'، منہ زبانی دھرایا کرتے اور سر
دھنا کرتے کہ میر اور غالب کا مقام اپنی جگہ مگر امجد ہمارے عہد کے شاعر تھے اور
آپ بیتی کو جگ بیتی بنانا خوب جانتے تھے کہ بقول غالب، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ
بھی میرے دل میں ہے۔ دورِ حاضرکی نسل کی کول زبان میں بیان کریں تو امجد اسلام
امجد ہمارا چائلڈ ہوڈ کرش تھے۔
جامعہ کراچی میں طالب علمی کے زمانے میں ہماری
دلی مراد بھر آئی جب انھیں روبرو سُنا اورپھر بارہا ساکنان شہر قائد کے سالانہ
مشاعروں میں ان کے کلام سے محظوظ ہوئے ساتھ ہی انکی کتب پر انکے دستخط بھی لئے۔ اُنکا
مشفقانہ اور دھیما انداز انکی انسان دوست شخصیت کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ جب بھی انکی
شاعری کی نئی کتاب آتی ہم خود سے خرید کر اسے پڑھتے، ان میں سے موجود بعض کتب اب
ہماری اولاد پڑھتی ہے۔
جہاں 'سیلف میڈ لوگوں کا المیہ' اور 'تو چل اے
موسم گریہ' نے اردو شاعری میں تہلکہ مچایا وہیں 'زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے
ریلے میں' بھی زبان زد خاص و عام رہی۔ 'اسے بھول جا' کی طویل بحر ہو یا 'تمہیں
نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے' کی ترکیب، انکے کلام کا ہر ہر حرف خود بخود نظروں
یا سماعتوں سے گزر کر دماغ سے ہوتا ہوا دل میں جا پیوست ہوتا۔ حال ہی میں انکی ایک
تازہ نظم 'اے میرے دوستوبھلے لوگو' ہمارے معاشرے میں موجود عدم برداشت کی عکاسی
کرتی ہے اور اس بات کا درس دیتی ہے کہ جس معافی یا سہولت کو ہم اپنا استحقاق
سمجھتے ہیں وہی رعایت اگر دوسروں کو بھی دے دیں تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔
'موسم میرے دل کی باتیں تم سے کہنے آیا ہے' جیسی
سطر یا 'محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا' جیسا خیال
امجد کے سوا کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔ ان کے کلام کی نزاکت، ندرت، اچھوتے پن اور بے
ساختگی کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ جو تھوڑی بہت بھی امجد فہمی رکھتا ہے وہ بخوبی
ان کے کلام کو دیگر شعراء کے کلام سے ممتاز کر کے دیکھ اور پہچان سکتا ہے۔
ہم طبیعات کے مدرس ہونے کے دوران گاہے بگاہے
طلبہ کو اشعار سُنایا کرتے تھے، ایک بار انکی نظم 'محبت کی طبیعت میں یہ کیسا
بچپننا قدرت نے رکھا ہے' پری میڈیکل کے بارہوں جماعت کے سیکشن میں منہ زبانی سُنا
ڈالی اور نئی نسل کو امجد کے تخیل پرواز سے روشناس کرایا۔
'علی ذیشان کے لئے ایک نظم' میں انھوں نے نئی
نسل کو مخاطب کیا ہے اور عرفان یعنی خود آگاہی کے اس لمحہ کی بات کی ہے جو ہر کسی
کے لئے الگ اور منفرد تجربہ ہو تا ہے۔
ہم امجد کی شاعری پر لکھتے چلے جائیں گے اور ورق
تمام ہوتے جائیں گے۔ خرم سہیل نے لکھا ہے کہ امجد کی خواہش تھی کہ وہ تاریخ کے
اوراق میں بحیثیت شاعر زندہ رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انکی یہ خواہش بجا تھی اور
اردو ادب اس پر فخر کرے گا کہ اسے امجد اسلام امجد جیسا شاعر ملا۔
انکے انتقال پرجہاں ہم افسردہ ہیں کہ خوبصورت
لفظوں کا ایک با کمال خالق اس دنیا سے رخصت ہوا وہیں ہمیں اس بات کا بھی دکھ ہے کہ پچیس فروری
کو ہونے والے مشاعرہ میں وہ موجود نہیں ہوں گے اور ہماری اولاد انھیں پہلی بار روبرو دیکھنے
اور سُننے سے محروم ہو گئی۔
وہ یقینا چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
ستارہ بن چکے ہیں جو نہ صرف اپنا اجالا رکھتا ہے بلکہ مسافروں کے لئے بھی چراغ منزل
کا کام کرتا ہے۔
حق مغفرت کرے۔






