اتوار، 3 اگست، 2025

کتاب پر تبصرہ، 'موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ: میری کینیڈین پاکستانی کہانیاں'

سر رئیس الدین احمد کی شخصیت ہمدرد پبلک اسکول اور کالج سے وابسطہ کسی بھی فرد کے لئے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے دور کے تمام طالب علم آج اپنی عملی زندگیوں میں ان سے حاصل کردہ علم و دانش کو نافذ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انھوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی تعلیم دی اور ساتھ ساتھ اردو زبان، تاریخ اور علم و ادب کی بھی ترویج پر زور دیا۔

ہماری خوش قسمتی کہ گذشتہ دنوں وہ غریب خانہ پر تشریف لائے اور ایک کتاب بعنوان 'موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ: میری کینیڈین پاکستانی کہانیاں' ہمیں پڑھنے کے لئے دی۔ اس سے پیشتر وہ سرسری طور پر ادیب آن لائن کا تذکرہ کر چکے تھے، ان کی عادت ہے کہ وہ نہایت سادگی اور بناوٹ سے پاک گفتگو کرتے ہیں کہیں پر بھی اپنی علمیت یا قابلیت کا شور نہیں مچاتے۔ اسی لئے انھوں کے ادیب آن لائن اور اس سے اپنی نسبت کو عام انداز میں بیان کیا۔ یہ کتاب ادیب آن لائن نے چھاپی ہے۔ 

خیر ہم نے کتاب لگ بھگ دو ہفتوں میں پڑھ ڈالی۔ گو کہ ایک نشست میں پڑھی جاسکتی تھی، مگر غم دل اور غم روزگار کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہ تھا۔ کتاب میں مصنفہ محترمہ قرۃ العین صبا کے سوشل میڈیا کا رابطہ دیا ہوا تھا، سو ان سے رابطہ کیا اور مثبت جواب آنے پر ان سے کتاب پر تبصرہ لکھنے کا وعدہ کیا۔ اس دوران سر رئیس الدین سے بھی محترمہ کی بابت مزید معلومات حاصل کیں۔ جنابہ سر رئیس کی رشتہ دار ہیں اور کئی برس سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔

ہم بھی کینیڈا میں ایک ہفتہ قیام کر چکے ہیں اور ٹورنٹو اور گرد و نواح کے ساتھ ساتھ نیاگرا تک ہو آئے تھے۔ گو کہ یہ سن ۲۰۰۸ کی بات ہے، مگر جھیلوں کے دیس کا سحر ابھی بھی خیالوں کی دنیا میں تازہ ہے۔

 قرۃ العین صبا کی آپ بیتی نے جگ میتی کا مزہ دیا اور ہم ایک کے بعد ایک انشائیہ پڑھتے اور غالب کے ہمنواہوتے جاتے 
 ع میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے 

 صبا جی کے اسلوب میں سادگی اور روانی ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ ایک کہانی گو سے اسکی داستان خود اس کی زبانی سن رہے ہیں۔ کینڈا کی جھیلوں کا ذکر ہو یا چاند کا، موسم کی بات ہو یا کہ اردو زبان کی، پکوڑوں کی کتھا ہو کہ ٹین ایجرز کے مسائل غرض یہ کہ ادب، جغرافیہ، زبان، فلسفہ، شخصی خاکے، سماجی معاملات، کینیڈا کی ملٹی کلچرل سوسائٹی کے رنگ، کتابوں پر تبصرہ، حالات حاضرہ یا مصنفہ کی روز مرہ زندگی کے حالات، اس مجموعہ میں ایک قاری کو سب کچھ میسر آئے گا۔

 کہیں آپ ان کے ساتھ خود کو کراچی کی راشد منہاس روڈ پر واقع دانشکدہ سے کتابیں خریدتا پائیں گے تو کبھی اماں کے ساتھ لاڈ کرتا، ایک جگہ وہ کالج کی دوشیزہ ہیں تو دوسرے انشائیہ میں خود ایک ماں، غرض قاری ہر ہر مقام پر خود
کو ان کی کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔

 ہم جیسے امجد اسلام امجد کو اپنا چائلڈ ہوڈ کرش ماننے والے تو گویا صبا جی کے امجد پر تحریر کردہ خاکے کے گرویدہ ہو جائیں گے بلکہ ان کے کتاب خریدنے کے پیسے فہرست مضامین پڑھ کر ہی وصول ہو جائیں گے۔ 

 ہم کوئی ادیب یا نقاد تو ہیں نہیں کہ علمی ادبی قسم کا تبصرہ کریں، لیکن اتنا ضرور کہ سکتے ہیں کہ ان کی ہر تحریر میں احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ یہ صرف ہمارا مشاہدہ نہیں بلکہ محترمہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا صاحبہ کا بھی فرمانا ہے۔ ڈاکٹر عارفہ کے ساتھ ساتھ کتاب پر تبصرہ محمد احمد، ڈرامہ نگار اور انجینیئر ڈاکٹر محمد نقاب خان صاحب نے بھی لکھا ہے۔ 

 محترمہ قرۃ العین صبا کینیڈا کی سیر تو کراتی ہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ قاری کو اسکی جلاوطنی یا ہجرت کا بھی احساس دلاتی ہیں۔ ایسا ہم نے بھی محسوس کیا کیونکہ ہمارا دو برس کا آسٹریلیا کا قیام اور وہاں کی روداد صبا جی کی تحاریر میں جا بجا بکھری پڑی ہے۔

 حدیث مبارکہ ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہوتا ہے۔ ہمیں موتیے کی خوشبو اور میپل کے رنگ میں اپنا ہی عکس نظر آیا۔ انگریزی میں کہیں تو، اٹ از آ مسٹ ریڈ بک۔
 نوٹ: کتاب کے تصویر ادیب آن لائن کے فیس بک پیج سے لی گئی ہے۔

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2024

ٹیکسلا: باقیات گندھارا

انتساب: برادرم ضیاء عزیزی

 

جُولیاں ایک طلسماتی خانقاہ معلوم ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کے جوگی تھوڑی دیر میں اپنے آسن رمانے کو آ موجود ہوں گےجو ابھی ابھی اٹھ کر کہیں گئے ہیں۔ یہ عمارت شاید بنا چھت کے ہی رہی ہوگی اور دروازے کھڑکیاں ابھی بنائے ہی نہیں گئے ہیں۔ مگر یہ سب تصور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں پر باورچی خانہ، خوراک ذخیرہ کرنے کا گودام، نہانے کا تالاب ، خطاب کے لیے دالان، عبادت و یک سوئی کے واسطے کمرے اور دروازے کھڑکیاں سب ہوتے تھے۔ چھتیں ڈھے چکی ہیں، لیکن ایک آدھ جگہ پر کمروں کی چھت قائم ہے کہ وہاں دوسری منزل کو جاتی سیڑھیاں ابھی تک موجود ہیں۔ خانقاہ سے اتصال کرتی ہوئی ایک محفوظ عمارت سمادھی یعنی اسٹوپا کی ہے اس کے اوپر چھت بنائی گئی ہے اور باقاعدہ جنگلے لگا کر اسے محصور کیا ہے۔

 اس سال موسمِ گرما میں ہمارا ٹھکانہ عارضی طور پر اسلام آباد میں رہا جہاں ہم آٹھ ہفتوں کے مقیم تھے اور مقصد تھا ایک مینیجمینٹ کورس کرنا۔ اس کورس میں ہمارے دفتر سے دیگر اشخاص کے ساتھ ساتھ سو سے زائد افسران ملک بھر سے شریک تھے اور سب کے سب اچھے بچوں کی طرح صبح نو تا سہ پہر تک پڑھائی کرتے تھے اور اس کے بعد جن کی دفتر کی مصروفیت نہ تھی ان کے لئے راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ بقول ہمارے برخوردار محمد علی کے، آج کل کی سب سے بڑی عیاشی ابا کے خرچے پر اچھی جامعہ میں پڑھنا ہے کہ یہ سہولت تو امریکیوں کو بھی حاصل نہیں۔ جبکہ ہم تو دفتر کے خرچے پر پڑھ رہے تھے وہ بھی وفاقی دارالحکومت میں اور اِس عمر میں، گویا یہ عیاشی اس لحاظ سے کافی بڑی تھی۔

ہمارے پرانے یار ضیاء عزیزی کم و بیش ربع صدی سے دارالحکومت میں ہی مقیم ہیں۔ اسلام آباد آتے ہی ان سے رابطہ ہوا تو پہلے ہفتہ میں ہی ان سے سینٹورس میں ملاقات ہوئی اور عشائیہ ساتھ کیا۔ اس دوران مزید ملاقاتوں کے مہورت بھی نکال لئے۔ جولائی کے آخری ہفتہ میں محمد علی اور شہیر شہباز (بھتیجے صاحب) بھی اسلا آباد آ پہنچے اور ہمارے ساتھ ہی دفتر کے ہاسٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ انھیں آئی ایس ٹی میں کچھ کام پر لگایا اور شام میں اسلام آباد کے قریبی بازار اور قابل دید عمارات دکھانے نکل پڑتےـ

ضیاء سے پہلے ہی طے کر چکے تھے کہ لڑکوں کے آنے ہر سیر و تفریح کا کوئی بڑا منصوبہ بنائیں گے۔ سو انھوں نے دفتر سے گاڑی لی اور بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے ہمیں لینے کے لئے بھیج دیا۔ گاڑی ایک عدد ٹیوٹا ہائی ایس تھی اور ڈرائیور گاڑی چلانا تو جانتا تھا مگر راستوں سے واقفیت کے معاملہ میں ہمارے کراچی دفتر میں فائز ڈرائیور شمس الاسلام کا بھائی تھا۔ شمس اکثر لمبے راستے سے شارٹ کٹ لیتے ہیں اور اس پر معصومیت کے ساتھ داد کے بھی طلب گار رہتے ہیں۔ سچ میں معصوم اور بے ضرر انسان ہیں۔ گاڑی چلانے میں مشاق ہیں مگر ان کے ساتھ کسی نا معلوم منزل کیلئے ان سے زیادہ گوگل آنٹی پر اعتبار کرنا پڑتا ہے۔

 ہماری پہلی منزل جمیل سوئیس تھی جہاں حلوہ پوری، چھولے اور لسی کے دیسی ناشتے کے بعد ہمیں ضیاء عزیزی کو انکے دولت خانے سے لینا تھا، یہاں بھی ڈرائیور نے ہمیں ڈی بارہ سیکٹر کی گلیاں ایک سے زیادہ مرتبہ دکھا دیں۔ بالآخر ضیاء کو فون کیا اور پتہ منگوایا، گوگل آنٹی کی مدد سے ان کے گھر پہنچے اور انہیں لیا۔

ہمارا ارادہ ٹیکسلا جانے کا تھا۔ موٹر وے (شاہراہ) پر کھونے کا امکان کم تھا کیونکہ آپ آگے یا پیچھے تو جا سکتے تھے مگر گُم نہیں ہو سکتے۔ ہمارے مرحوم چھوٹے چچا ریاض نے اسی کی دہائی کے آخر میں یُو اِی ٹی ٹیکسلا کہ جب وہ کالج تھا سے سِول میں بی اِی کیا تھا۔ ہم لڑکوں کولے کر سیدھے وہاں پہنچے۔ سِول کے شعبہ سمیت پوری جامعہ ہفتہ وار تعطیل کے باعث بند تھی- چوکیدار سے درخواست کی کہ ہمیں شعبہ کی راہداریاں اور کھڑکیاں ہی دیکھ لینے دو کہ چچا یہاں چار سال پڑھا کئے،  مگر اس کا کہنا تھا کہ حضور آپ سکورٹی سے اجازت لے آئیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ضیا بھائی ہار مارنے والے نہیں ہیں، لہٰذا ہمیں پکڑ کر کیمپس سیکیورٹی کے دفتر پہنچے اور انہیں سرکار کا واسطہ دے کر ایک نمائندہ کے ساتھ واپس اجازت مع ایک عدد گارڈ کے آئے اور ہمیں اندر سے پوری عمارت دکھائی۔

جس دور میں چچا یہاں سے اپنی انجینیئر کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ہم اور برادرِ خُرد شہباز، والدین کے ہمراہ اپنے گاؤں خانیوال آتے تو موسمِ گرما کی چھٹیوں میں چچا بھی گاؤں آتے، وہ جون جولائی اورگاؤں کی گرمی ہماری عیاشی کے دن ہوتے تھے جب چچا کے ساتھ گھر کے بڑے سے صحن میں کرکٹ کھیلنا ، ٹوکرا لگا کرپرندوں کا شکار کرنا، لاہور موڑ پر سموسے اور جلیبی کھانے پیدل یا سائیکل پر جانا اور دیگر غیر تعمیری سرگرمیاں کرنے میں ہم چچا بھتیجے سہولت کار اور نامعلوم افراد کے کردار ادا کیا کرتے تھے۔ ان ساری یادوں کے ساتھ ہم نے شعبہ سول کے درودیوار اور راہداریوں کا مشاہدہ کیا کہ چچا یہاں سے بھی گزرے ہوں گے اور کیا پتہ اس سیڑھی پر بیٹھے ہوں اور اس کمرہ میں لیکچر سنا ہو۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو لگ بھگ بارہ سو قبل مسیح میں گندھارا تہذیب کا آغاز ہوا۔ اس وقت انسانی آبادی پانیوں کے باعث  ہوا کرتی تھیں، یہ پانی کے ذخائر تالاب، کنویں، ندی نالوں یا دریاوں کی صورت میں ہوتے تھے، پانی کے سُوکھ جانے پر یا طویل عرصہ تک بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے خانہ بدوشی اختیار کی جاتی۔جب ہمارے خطے کے قدیم مقامات کا ذکر آتا ہے تو موئن جو ڈرو اور ہڑپہ کے کھنڈرات کا نام لیا جاتا ہے ۔ مگر بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے ان دو مقامات کے ساتھ ساتھ پوٹھوہار سے وادی سوات تک کے تمام مقامات قابلِ احترام ہیں۔ پشاور، مردان اور ان سے ملحقہ علاقے اس وقت کے معروف بازار اور شہر رہے ہیں اور سکندر اعظم کا ٹیکسلا میں  آنا اور قیام کرنا تاریخ کا حصہ ہے کیونکہ اس نے نہ صرف یہ کہ یہاں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کیا بلکہ اس خطے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔ ٹکشا شیلا یہاں کی وہ جامعہ تھی کہ جہاں جدید علوم کی تعلیم دی جاتی تھی اس میں خفیہ  پیغام رسانی یعنی میسج انکرپش کا نصاب بھی شامل تھا۔ دیگر علوم میں سائنس، ریاضی، موسیقی، رقص، سپاہ گری اور مروجہ مضامین سب کی تعلیم دی جاتی تھی۔گویا سکندرِ اعظم کا ٹیکسلا سے متاثر ہونا بنتا تھا ۔ جب سکندر یہاں کے طلسم کا شکار ہونے سے نہ بچ سکا تو ہم اکیسویں صدی کے مصنوعی ذہانت سے بھر پور دور میں بسنے والے سائنس کے ایک ادنا طالب علم اور قدرتی مناظر  اور تاریخی مقامات کے دِلدادا، ٹیکسلا کی خانقاہ اوراسٹوپا کے خاموش آسیب کا شکار کیسے نہ بنتے۔

جُولیاں طلسمانی خانقاہ معلوم ہوتی ہے جِسےکوئی دیو پہاڑ کی چوٹی پر رکھ گیا ہے ۔ جب اس کی تعمیر کی گئی ہوگی تو دور دور تک کوئی آبادی نہ رہی ہوگی اور ایسا سکوت رہا ہوگا کہ بقول شاعر،

کبھی اتنا گہرا سکوت ہو، سُنوں پھول کھلنے کی آہٹیں

آج بھی یہاں قدر ےسکوت ہی ہے۔ اس سے متصل سمادھی میں بھی مجاوروں اور جوگیوں کے کمرے ہیں جن میں پہروں آسن رمایا جا سکتا ہے۔ اب اس مقام کو یونیسکو کے بین الاقوامی وراثتی اثاثہ میں شامل کر لیا گیا ہے اور تمام اسٹوپا اوپر سے ڈھک دیئے گئے ہیں۔ نجانے کتنے گمنام اور ناموروں کی راکھ ان میں مدفون ہے اور قیامت کے صور پھونکنے کی منتظر ہے۔

جُولیاں تک آنے کے لئے ہمیں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحد پر آنا پڑا۔لب سڑک اونیکس یعنی سنگِ سلیمانی کےظروف بیچے جارہے تھے اور چند ایک ہٹی نما دوکانیں بنی ہوئی تھیں جہاں چارپائیوں اور بنچ پر بیٹھنے کا انتظام تھا۔ جمیل سوئیٹس سے نکلتے وقت ہم نے وہاں سے چنا چاٹ اور دہی بھلےپارسل کرا لئے تھے جو اس وقت کام میں لائے گئے ۔ اور پھر اُوپر کو سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ مکئی کے کھیت راستے کی سیڑھیوں کے دائیں جانب تھے اور ہری من بھری، دوشالا اوڑھے کھڑی نظر بھی آئی۔ بائیں جانب چند ایک گھر اس  پو ٹھو ہاری زمین پر تعمیر کئے گئے تھے۔ ایک ٹھنڈے پانی کی نہر، جس کے کنارے پختہ تھے راستے سے گزری۔ دونوں لڑکے جوتے اتار کر اس میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ غضب کا حبس اور گرمی تھی ایسے میں پانی کا نظر آجانا ہی کسی نعمت سے کم نہ تھا۔

ہمت کر کے اوپر پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر مبہوت ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اسٹوپا میں بڑی تعداد میں الگ الگ چوکور سمادھیاں بنی ہیں اور مستطیل احاطے میں عبادت کے کمرے ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جسے تزئین و آرائش کے بعد محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس میں غالباً تھائی لینڈ کی حکومت کی مالی معاونت شامل ہے کیونکہ ان کے ہاں بدھ مت کے پیروکار ایک کثیر تعداد میں ہیں اور تھائی حکومت کا سرکاری مذہب بھی یہی ہے۔

اس اسٹوپا کے صحن میں قطار در قطار بھی کمرے بنے ہوئے ہیں جنہیں جنگلے میں نہیں لیا گیا۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت زندوں اور مُردوں کی باقیات کو مدغم نہیں ہونے دینا چاہتی۔ ایک کھُلا صحن ان کمروں کو جنگلے سے جدا کرتا ہے۔ اس احاطے کے بائیں پہلو میں خانقاہ ہے اور یہ دونوں احاطے ایک پہاڑی پر قائم ہیں۔ صدیوں پہلے یہاں تک رسائی کیسے اور کیوںکر ہوا کرتی تھی یہ ایک مشکل سوال ہے۔

یہاں آنے سے پہلے ہم ٹیکسلا کے عجائب خانہ میں محو حیرت رہے اور مختلف نو اورات کا مشاہدہ کیا ۔ ان میں سِکوں سے لے کر بڑے بڑے سنگی ستون اور فانوس سبھی کچھ شامل تھا۔ دھات اورپتھر کے دور کے ظروف، روز مرہ استعمال کے آلات، آرائشی سامان، تعمیراتی اشیاء، غرض یہ کہ انسانی تاریخ و تمدن کا عروج و زوال ان تمام نوادرات سے عیاں تھا۔ گندھارا دور کی یہ نوادرات سرجان مارشل نے دریافت کی تھیں۔ ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی خاطر ان کی تصویر اور خدمات کی تفصیل عجائب خانے کے مرکزی دروازے پر دائیں جانب لگائی گئی ہیں۔ نوادرات کے مشاہدہ کے بعد عمارت سے متصل باغ میں تصاویر بنائیں اور اگلےپڑاؤ ، سِرکپ نامی شہر کے کھنڈرات پر پہنچے۔

 کراچی کے لحاظ سے بات کریں تو یہ شہر کم و بیش گلشن یا سوسائٹی کا ایک بلاک معلوم ہوتا تھا ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ سِرکپ کی شہری منصوبہ بندی گلشن اور سوسائٹی سے بہتر تھی۔شہر ایک مرکرنی سڑک کے دونوں جانب تعمیر کیا گیا تھا۔ اس میں اسٹوپا ، عبادت گاہیں ، بازار، محملات، دفاتر اور عام رہائش گاہیں سب شامل تھے۔ مضبوط پتھروں کو چونے سے جوڑا گیا تھا اور دیواروں میں کوئی رخنہ یا روزن ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا تھا ۔ گو کہ دیواریں اب ایک آدھ جگہ پر ہی موجود ہیں لیکن بنیادیں پوری طرح بر قرار ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر پورے شہر کا کھینچ دیا گیا ہے اور بنیادیں بھری جا چکی ہیں، بس اب دیواریں اٹھانے کی دیر ہے ۔ پانی اور ہواکے گزر کے لئے راستے بنائے گئے تھے ۔ یقیناً صدیوں پہلے یہ ایک جدید اور مکمل شہر کا منظر پیش کرتا ہوگا۔

سِرکپ دیکھنے کے بعد ہم نے جُولیاں کی راہ لی اور راستے سے تارہ گنے کا رس پیا۔ جس اور گرمی میں اس گنے کے رس نے ہمیں تازہ دم کر دیا اور ہم  مزید سفر کے لئے روانہ ہو گئے۔جولیاں دیکھنے کے بعد لب سڑک واقع ایک مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی اور مسجد کے صحن میں کمیٹی کے دو اشخاص کے درمیان ہونے والے جھگڑے کا شاہدہ کیا۔ وہ دونوں صاحبان جن میں سے ایک ضعیف اور باریش بزرگ دوسرے قدرے کم عمر  والے صاحب سے بحث میں الجھے ہوئے تھےاور مسئلہ مسجد میں پانی کی فراہمی کا تھا کہ کنواں کھُدوایا جائے کہ نہیں۔ باتوں کی گرما گرمی میں  ان دونوں اللہ کے بندوں کو اس بات کی پرواہ نہ تھی کہ مسافر نماز ادا کر رہے ہیں اور وہ رفاح عامہ کی خاطر اپنی بحث جاری رکھے ہوئے تھے۔

ہماری اگلی منزل خانپور ڈیم تھی۔ اس کا ڈرائیور کو بخوبی علم تھا لہٰذا وہ اللہ کا بندہ ہمیں سیدھا پیراسیلنگ والے مقام پر لے آیا۔ یہاں تک آنے کے لئے ہمیں گاڑی جھیل کے ایک عارضی راستے سے گزارنی پڑی جہاں پانی کے راستے میں جھیل میں پائپ بچھا کر اوپر کچھ مٹی ڈال دی گئی تھی، پانی پائپز کے اندر اور اُوپر دونوں جگہ سے بہہ رہا تھا ۔

یہاں ہر طرح کے آبی کھیل فراہم کئے گئے ہیں۔ ان میں کشتی رانی سے لے کرہوا میں تَیرنے اور اُڑنے کے کمالات شامل ہیں۔ پیرا گلائڈنگ کرنی ہو تو صبح سویرے تشریف لائیں اور اکیلے یا کسی ماہر کے ساتھ ہوا میں پنکھ کے زور پر اُڑان بھریں۔ پیرا سیلنگ میں پیرا شُوٹ کو رسی کی مدد سے موٹر بوٹ سے باندھ دیا جاتا ہے اور پھر کشتی رسی کو کھینچ کر  آپ سمیت ہوا بھرے پیرا شوٹ کو اوپر اٹھنے میں مدد کرتی ہے۔ یوں ہوا کے دوش پر آپ اوپر تیرنے لگ جاتے ہیں۔ کشتی ایک چکر لگا کر آپ کو دوبارہ کنارے پر لے آتی ہے اور آپ ہاتھوں کی مدد سے پیراشوٹ کے گھوڑے کی لگا میں کھینچتے ہیں یوں ہوا کے دوش پر یہ رَخش زمین پر اتر جاتا ہے۔ اس کی سائنس نہایت دلچسپ ہے، مائعات کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اَرشمیدس کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ پانی میں تیرنا ہو یا ہوا میں اُڑان بھرنا دونوں اصول اَرشمیدس  سے ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار مع سمت یعنی ولاسٹی، رسی کی لمبائی، پیرا شوٹ کا پھیلاو یعنی محیط، آپ کا وزن اور کششِ ثقل سب مل کر آپ کو ہوا میں اٹھاتے ہیں اور  موٹر بوٹ کی رفتار آپ کے ٹیک آف اور لینڈنگ کو قابو کرتی ہے اور آپ کا وزن یہ سب مل کر آپ کو ہوا میں اٹھاتےہیں۔ لڑکوں کو ہم نےیہاں آنے سے پہلے ہی اس کے لئے ذہنی طور پر تیار کرلیا تھا گویا وہ علم ایقین کے درجہ پر تھے۔اور جب انھوں نے یہاں کا منظر دیکھ کر عین الیقین بھی کر لیا تو حق الیقین کے لئے راضی ہوئے. ہم نے پیرا شوٹ کا کرایہ پیشگی ادا کر دیا اور لڑکوں کو لائف جیکٹ پہنا دی گئی اس دوران یہ سرگرمی اچانک روک دی گئی کیونکہ ہوا کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آگئی تھی ۔ ایسے میں پرواز پھر نا تو آسان ہوتا ہے مگر اتر نا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہمیں چند منچلوں کو دیکھ کر ہوا کہ جیسے سے ہی کشتی انہیں کنارے لگاتی اور وہ پیرا شوٹ کی رسی کھینچتے مگر ہوا پھر انہیں اوپر اٹھا دیتی، ایک خاتون کئی بار ہوا میں غوطے کھاتی نظر آئیں۔ گو کہ وہ اس سے لطف اندوز ہو رہی تھی مگر ان کی گود کی بچی جو کہ نیچے اپنے ابا کے پاس تھی نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ خیر کچھ دیر بعد شہیر اور علی کی باری آگئی پہلےشہیر نے اڑان بھری اور خیر و عافیت سے مزے کرتے ہوئے اتر گئے ۔ پھر علی صاحب گئے اورسرعت کے ساتھ پورا عمل طے کر گئے۔

 اس کا روائی کے دوران سہ پہر ہو چکی تھی اور ہم نےنہیں کھانا نہیں کھایا تھا۔ جُولیاں کی سیڑھیاں چَڑھنے اور اُترنے میں چاٹ اور دہی بھلے تو کب کے ہضم ہو چکے تھے۔ٹیکسلا سے نکل کر خانپور آتے ہوئے راستے میں ہمارے ہمدرد کے زمانے کے ساتھی عبداللہ سے موبائل پر بات ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ شریف اللہ ان دنوں واہ کینٹ میں ہیں ویسے وہ سعودی عرب میں مُدرس ہیں۔ ہم نےشریف سے رابطہ کیا تو وہ نسلی پٹھان فرمانے لگے کہ آپ لوگ سیدھا میرے ہاں تشریف لے آئیں۔ فوراً ہی اپنا پتا بھی بھیج دیا اور ساتھ ہی ہمیں اپنی لوکیشن آن کرنے کا حکم دیا۔ ان سے بھی پرانی دوستی ہے اور ہمدرد کے دور کی اچھی یادیں وابستہ ہیں جن میں اسٹاف روم میں لطیفہ سُنانے سے لے کر خالی دنوں میں ٹیبل ٹینس اور کسوٹی کھیلنا، سلیم صاحب کے ڈیرے پر ظہرانے اور عشائیہ اڑانا سب شامل ہیں ، تو ہم نے ان کے حکم پر لبیک کہا اور گوگل آنٹی کی راہنمائی میں ان کے ہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے پٹھانوں والی روایتی مہمانوازی کا مظاہرہ کیا اور باقاعدہ مردانے کا بندوبست کر کے ہمیں تازہ دم ہونے کا حکم صادر فرمایا۔ یہ مردانہ بیٹھک ان کے ایک قریبی عزیز کی تھی جو ان کے پڑوسی بھی تھے۔ ہم سب وہاں تازہ دم ہوئے اور اس کے بعد بریانی اڑائی ۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران ہم نے زیادہ تر سرکاری خانساموں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھایا۔ جس میں مرغی کا سالن اور چاولوں کے طعام شامل رہے۔ ہم اپنے معدے کو تسلی دینے کی خاطران تمام کھانوں کو سالن اور طعام یا چاول کہتے تھے تاکہ ہماری زبان کے ذائقہ کو بریانی، پلاو، قورمہ کے مخمصے میں نہ پڑنا پڑے اور نہ ہی پہچانا پڑے کر دراصل کیا پکا یا گیا ہے ۔ لیکن واہ کینٹ کی شریف اللہ کے گھر کی بریانی میں کراچی والا مزہ اور ذائقہ تھا اور وہ بجا طور پر بریانی کی تعریف پر پوری اترتی تھی اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ شریف الله حال ہی میں کراچی سے واہ کینٹ منتقل ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے تو ساری زندگی کراچی میں گزارنے کے باوجود بھی انھیں یہاں گھر کرتے ہوئے وقت نہیں ہوئی۔ ان کے بچے اور اہلیہ بخوشی یہاں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بلکہ اب تو ان کے یہاں قیام کو ایک برس ہو چلا ہے۔یوں ان کے رہن سہن میں کراچی سے خیبر تک کی ثقافت اور ازلی اکرامِ آدم کے تمام رنگ جھلکتے ہیں۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور پھر عصر کے بعد ہم نےان سے اجازت لی۔ واپسی میں ہاسٹل پہنچتے پہنچتے عشاء ہوگئی یوں ہمارا یہ بھر پوردن اختتام کو پہنچا۔

جو لوگ اب تک ٹیکسلا نہیں جا سکے ان سے اِلتماس ہے کہ ضرور وہاں کا چکر لگائیں اور گردو نواح کے تمام مقامات دیکھیں۔ ہم یہاں موجود اٹھارہ تا بیس مقامات میں سے محض دو جگہ پر گندھارا کی تہذیب سے وابسطہ عمارات کا مشاہدہ کر سکے جبکہ ٹیکسلا کے تمام کھنڈرات دیکھنے کے لئے کافی وقت درکار ہے ۔ ہمیں اس بات کا اطمینان ہے کر جُولیاں دیکھ لیا تو گویا سب دیکھ لیا۔ کیونکہ جُولیاں ایک طلسماتی خانقاہ معلوم ہوتی ہے۔

ایم اے امین

 ختم شُد

اتوار، 7 مئی، 2023

جنوب مشرقی چین میں

تھائی ایئر ویز سے سفر کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو کہ کافی خوشگوار رہا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جناح انٹرنیشنل کے ہوائی اڈے سے جہاز نے اڑان بھری تو ہم نشستی پیٹی سے بندھے سفر کی دعا پڑھ رہے تھے۔ ہماری منزل جنوب مشرقی چین کے صوبے فوجیان کا شہر شیان تھی جو کہ بحیرہ چین میں آبنائے تائیوان سے لگا ہوا ہے۔سترہ سو مربع کلومیٹر کے رقبہ پر پھیلا یہ شہر ، دو مرکزی جریروں اور خشکی کے ساتھ ساتھ چند ننھے منھے جزائر پر مشتمل ہے۔ اسکے چھ قصبے ہیں، مرکزی حیثیت بڑے جزیرے کی ہے، جسے شیامن کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انگریز سرکار نے بیسویں صدی کے آغاز تک اس پر قبضہ کئے رکھا اور پہلی جنگ عظیم کے بعد یہاں سے واپس وطن سدھارا۔ سن 1912 سےیہ چین کے قبضہ میں آیا۔ بندرگاہ یہاں پہلے سے ہی تھی چینیوں نے اسے مزید ترقی دی اور آج شیان ایک مصروف منڈی کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
 ہوائی سفر براستہ بنکاک تھا جہاں ہم سویرے سات بجے سے پیشتر اترے اور ہوائی اڈے پر ایک حلال ریسٹورانٹ سے ناشتہ کیا۔ اگلی پرواز دس بجے کے قریب تھی سو بنکاک کا ہوائی اڈا تھا اور انٹرنیٹ کا ساتھ تھا۔ اگلی پرواز میں نشستیں خالی تھیں لہٰذا ہم استراحت فرما کر با آسانی شیامن مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے اترے۔
ہمارے میزبان نے ہوائی اڈے کے باہر ہمارا خیرمقدم کیا۔ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنےوالے ایک مندوب  بھی ہمارے نامعلوم ہم پرواز تھے اور انہی میزبان کے منتظر تھے، لہذا ہم تینوں پوگاٹی میں پین پیسیفک ہوٹل پہنچے- ہوٹل چار پانچ ستاورں والا تھا اور ستاروں سے کچھ قریب سترہویں منزل پر ہمیں کمرہ عنایت فرمایا گیا۔ نہا دھو کر تازہ دم ہوئے اور گردوپیش سے آگاہی حاصل کی۔ ہوٹل میں ہی ہمارے طعام کا بندوبست کیا گیا تھا، ناشتہ صبح سات بجے شروع ہوتا تھا، ظہرانہ بارہ تا دو بجے تک اور عشائیہ کا آغاز شام چھ ہوتا تھا- کھانا بوفے انداز کا تھا، ہم ملکوں ملکوں گھوم کر قابل خورد ونوش خوراک سے کافی حد تک واقفیت حاصل کر چکے ہیں لہٰذا اب باآسانی چھانٹ کر اپنے کھانے کے لوزمات الگ کر لیتے ہیں۔ عشائیہ کرکے کمرے میں آئے اور اگلے دن کی تیاری کر کے سوپڑے۔
اگلے دن میٹنگ تھی جس میں معمول کی کاروائی بھگتائی اور دو دن کی میٹنگ کا کام ایک ہی دن میں مکمل کر ڈالا۔ اس میں ہمارا ساتھ ہمارے میزبان اور دیگر مندوبین بھی دیتے ہیں اور ہم بنا کسی اختلاف کے گھنٹوں صرف کر کے میٹنگ کے منٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دن کے اختتام پر ہمارے میزبانوں نے ہمیں اگلے دن کے پروگرام سے آگاہ کیا۔
اگلے دن ناشتہ کے فورا بعد ہمیں شیامن کے محکمہ موسمیات کے دورہ پر جانا تھا، ایک بڑی گاڑی میں لد کر ہم قریبی دفتر پہنچے۔ محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے جو کہ ایک پہاڑی پر واقع ہیں۔ اس کے اہم شعبہ جات میں ایک ٹاور شامل ہے جو کہ بیس منزلہ ہے اور اس پر ایک بڑا ڈش انٹیانصب کیا گیا ہے جو موسمیاتی ڈیٹا سیارے سے وصول کرتا ہے۔ مرکزی عمارت میں موسمیاتی مراکز ہیں اور ایک ٹی وی کا اسٹوڈیو بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بالا فضائی وخلائی تحقیق کے آلات بھی ایک الگ عمارت میں نصب کئے گئے ہیں۔ ہماری دلچسپی کا سامان آئنوسفیئر سے متعلق آلات تھے جن کا ہم نے بغور مشاہدہ کیا اور دیگر مندوبین سے اس کے متعلق گفتگو میں حصہ لیا۔
تمام افراد نے موسمیاتی مرکز کے ٹی وی اسٹودیو میں بطور خاص دلچسپی لی کیونکہ ہمارے میزبانوں نے ہمیں نا صرف وہاں کی نیوزکاسٹر سے ملاوایا  بلکہ سب نے فردا فردا اس حسینہ کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ ساتھ ہی تمام افراد نے ایک ایک کرکے ٹی وی کیمرے کے سامنے بھی تصاویر بنوائیں۔ یہ ایک منفرد تجربہ تھا۔
آخر میں ہمیں ٹاور کی سترہویں اور انیسویں منازل پر لے جایا گیا، جن پر بالترتیب ایک عجائب گھر اور مشاہدہ گاہ ہیں۔ عجائب گھر میں شیامن شہر کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا تھا، دلچسپ امر یہ تھا کہ تمام نودرات اور پرانی اشیاء اس منزل کے فرش میں تھیں اور اوپر شیشے کا ایک اور فرش چہل قدمی کے لئے بنایا گیا تھا۔ گویا آپ کو ان نوادرات کے مشاہدہ کے لئے اپنے جوتوں کی سمت دیکھنا پڑتا تھا۔
انیسویں منزل پر تین سو ساٹھ کے زاویہ پر آپ شہر کا مشاہدہ کر سکتے تھے۔ بلند و بالا عمارات، بندرگاہ، لمبے  پل اور سمندر ہمارے شوق مشاہدہ کی تسکین کر رہے تھے۔ عام تاثر ہے کہ کسی ملک کے بڑے شہر جدید ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے شہروں میں سہولیات محدود ہوتی ہیں، لیکن شیامن کے درودیوار اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ یہ شہر گو کہ چھوٹا ہے مگر یہاں دنیا کی تمام سہولیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اور چینیوں نے بیجنگ شہر جیسی بلند وبالا عمارات اس جزیرے پر بھی تعمیر کر رکھی ہیں۔
شہر کے خوبصورت مشاہدہ کے بعد ہمیں ظہرانے کے لئے واپس ہوٹل پہنچایا گیا اور تاکید  کی گئی کہ کھانے کے بعد جامعہ شیامن کے لئے تیار رہیں۔ ڈائننگ ہال میں غیر حلال اشیاء الگ کرنے کےعمل سے گزرے اورپیٹ پوجا کے بعد وین میں جا بیٹھے۔ اعلان ہوا کہ شیامن یونیورسٹی ایک رومانوی جامعہ ہے، کیونکہ یہاں گل و بلبل کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اس لئے علم کے متلاشی اس کے ماحول کے زیر اثر خود بھی پھول و بھنورے بن جاتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈگری کے ساتھ نکاح نامہ اضافی ہاتھ آتا ہے۔
لیکن ہم اس گلستان کے دورے سے محروم رہے، شیامن شہر کی طویل سرنگوں سے گزر کر جب ہم وہاں پہنچے تو جامعہ کے مرکزی دروازے پر مامور سنتری نے ہمیں ٹھینگا دکھاتے ہوئے کہا کہ آج کے زائرین کی جامعہ یاترا کی گنتی پوری ہوچکی ہے، آپ کو اگر اتنا ہی شوق تماشہ ہے تو کل تشریف لے آئیے گا۔
اس کوچے سے بے آبرو ہوکر نکلے تو ساحل کی راہ لی اور تپتی دوپہر میں سمندر کا نظارہ کیا۔ ہمارے میزبان بضد تھے کہ وہ کوئی نہ کوئی جامعہ تو ہمیں ضرور دکھائیں گے، چناچہ ہم جزیرے سے خشکی کے سفر پر روانہ ہوئے اور ایک نہایت ہی طویل پل بنام شیامن برج پار کرکے جامعہ ہوُاکُن پہنچے۔ یہ یونیورسٹی بطور خاص بحریہ سے متعلق علوم پر ڈگری دیتی ہے جسے اس وقت کے ایک سمندری سوداگر یعنی نیول مرچنٹ نے تعمیر کرایا تھا اور بعد میں حکومتی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ ان صاحب کا مجسمہ یہاں ایستادہ ہے۔
جامعہ کی سیر کے بعد ہم ایک نہر کے کنارے پہنچے، یہ نہر سمندر کے پانی کی گزرگاہ کے طور پر بنائی گئی ہے، اس کے ایک کنارے پر تعلیمی اداروں کی ایک طویل قطار ہے، جس میں اسکول سے لے کر یونیورسٹی، ہنر مندی کے کالج وغیرہ سب شامل ہیں اور اس مجموعہ کو ایجوکیشن ولیج کا نام دیا گیا ہے۔ نہر کے دوسرے کنارے پر سڑک ہے جس پر آپ گاڑی چلاتے ہوئے نہر کا دیدار کر سکتے ہیں، دل چاہے تو گاڑی پارک کر کے چہل قدمی فرما لیں اور نہر والے پل پر بیٹھ کر اپنے ماہی کا انتظار کرتے ہوئے گانا گائیں یا خوانچہ فروشوں کے بھٹوں، آئسکریم اور دیگر اشیائے خوردونوش سے لطف اٹھائیں۔
ہوٹل واپسی کے سفر کے دوران ہم نے فرمائش کی کہ ہمیں کمپیئوٹر مارکیٹ پہنچا دیا جائے۔ وہاں سے ہم ہوٹل خود پہنچ جائیں گے۔ ہماری خواہش کے مطابق ہمیں بائی ناو نامی مارکیٹ پر اتار دیا گیا۔ہماری ضرورت کی شے ہمیں اس مارکیٹ میں نہ ملی مگر ایک دوکان والے نے ہمیں ہماری کافی مدد کی ہم نے انھیں بتایا کہ ہم پاکستان سے ہیں تو وہ اس پر کافی خوش ہوئے اور ہم سے لکھ کر بات چیت کی۔ انکا نام مکمل چینی سا تھا مگر ہمیں شینگ یاد رہ گیا۔ شینگ صاحب چینی زبان میں لکھتے اور انٹرنیٹ پر اس کا انگریزی ترجمہ کر کے ہمیں پڑھوا دیتے ہم انگریزی میں لکھتے اور وہ اسکا ترجمہ اپنی دیومالائی زبان میں کر ڈالتے۔ اس بندہ خدا نے ہمیں پانی کی بوتل خرید کر پانی پیش کیا اور جب ہم نے ان سے رخصت چاہی تو ہوٹل کا پتہ پوچھنے لگے، ہم نے ہوٹل کا چابی والا کارڈ انھیں دکھایا تو انھوں نے اپنے موبائل سے 'اُوبر' کے ذریعے ٹیکسی بک کرائی اور فرمایا کہ کرایہ ہمارے اکاونٹ سے کاٹ لیا گیا ہے لہذا کرایہ ادا نہ کیجیئے گا، ہم نے کہا کہ تم ہم سے کرایہ لے لو تو انھوں نے منع کردیا اس پر ہم نے کہا اللہ کے بندے تم نے ہم پر احسان کیا، اس کا بندلہ ہم کیسے چکائیں گے۔ کہنے لگے کہ اگر آپ کا کوئی جاننے والا شیامن آئے اور اسے کمپیئوٹر سے متعلق کچھ خریدنا ہو تو میری دکان کا پتہ بتا دیجیئے گا، احسان کا بدلہ اتر ہو جائے گا۔ ان کے ان الفاظ نے ہماری چینیوں کے ساتھ دوستی کے جذبے کو مزید پختہ کیا اور ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ وطن جانے سے پیشتر ہم انکی دوکان پر دوبارہ ضرور آئیں گے۔ہوٹل پہنچے تو مغرب ہو چکی تھی اور عشائیہ کا وقت ہونے والا تھا۔عشائیہ میں اندازہ ہوا کہ ہمارے میزبانوں کے مہمان بڑھ چکے ہیں،   کیونکہ بنگلہ دیش، ایران اور ترکی کے احباب تشریف لا چکے تھے۔
اگلی صبح ٹریننگ کا دن تھا، میٹنگ میں تو محض نو افراد تھے جن میں چین کے ساتھ ساتھ، تھائی لینڈ اور پاکستان کی شمولیت تھی، مگر ٹریننگ میں بیس افراد شامل تھے۔ ان میں بڑی تعداد چینی دوستوں کی تھی جنھوں نے سوفٹ ویئر بنائے تھے اور ان کی سکھلائی کے لئے دو دن مختص کئے گئے تھے۔ پہلے دن ان سوفٹ ویئرز کا تعارف پیش کیا گیا۔ درمیان میں کافی کے دو وقفے بھی دیئے گئے۔ اس دن ہوٹل سے باہر نہ نکل سکے اور اچھے بچوں کی طرح پڑھائی کرتے رہے۔
اگلا پورا دن بھی تربیت پر مشتمل تھا، مگر ہم سب اچھے طالب علم ثابت ہوئے اور جلد ہی سوفٹ ویئر چلانا سیکھ لئے تو اساتذہ نے ہمیں آدھے دن کی چھٹی دے دی۔ ظہرانے کے بعد ترکی سے آئے ہوئے مندوب جن کا نام علی الپ تھا کے ساتھ آوارہ گردی کے لئے نکل پڑے۔ علی انقرہ کی ایک جامعہ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں اور پہلی دفعہ ملک سے باہر آئے تھے۔ کیونکہ آج کے دور کے جوان ہیں تو ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کی معلومات اپنی جیب میں آئی فون کی صورت میں  رکھتے ہیں۔ انکا آئی فون ترکی کے موبائل نمبر کے ساتھ چین میں بھی چل رہا تھا اور گوگل فیس بک کہ جو چین میں کام نہیں کرتے، ان کے موبائل پر سب نشر ہو رہے تھے۔
ہوٹل سے نکل کر ہم نے ٹیکسی لی اور ایس ایم لائف اسٹائل نامی مارکیٹ پہنچے۔ جہاں ہم نے جی بھر کے ونڈو شاپنگ کی اور اسٹار بکس سے کافی پی۔ بچوں کے لئے کچھ تحائف لئے اور شیامن کے لوگوں کو دیکھا کئے۔ وہاں ایک ایپل اسٹور بھی تھا جسکا مینیجر ایک کینیڈیائی گورا تھا اور اہل زبان تھا، چین میں شائستہ انگریزی خال خال ہی سننے کو ملتی ہے، اس لئے ہم نے اس سے خوب گپ شپ کی۔ اسٹور بہت بڑا تھا اور اس میں فرنیچر نہایت سادہ رکھا گیا تھا۔ دیوار پر بیس فٹ سے بھی بڑی اسکرین لگی تھی اور اسٹور کے سیلز مین اور گرلز بڑی مستعدی سے گاہکوں کا سواگت کر رہے تھے۔
واپسی پر ہم نے آدھا راستہ شوق شوق میں پیدل طے کیا اور جب بری طرح تھک گئے تو ٹیکسی میں بیٹھ کر ہوٹل پہنچے، عشائیہ کے بعد سو پڑے، کیونکہ اگلے دن ہمیں ایک قریبی چھوٹے جزیرے کی سیر کو جانا تھا جس کا انتطام ہمارے میزبانوں نے کیا تھا۔
کشتی اگر صراط مستقیم پر چلے تو پانچ منٹ میں آپ سامنے والے جزیرے' گولانگیو' پر اتر سکتے ہیں جو جزیرہ شیامن اور مرکزی بری فوجیان صوبے کے درمیان واقع ہے۔لیکن سیاحوں کے لئے یہ سفر بیس منٹوں کا ہے کیونکہ انھیں سیر کرانا مقصود ہے۔یہ چھوٹا سا بحری سفر ایک بیڑی یعنی فیری میں کیا جاتا ہے جس میں چارسو کے لگ بھگ مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔
ناشتہ کے بعد ایک چینی گائیڈ نے ہمیں ہوٹل سے ایک بس میں سوار کرایا اور اپنی تقریر شروع کردی، اس کا چینی نام کچھ اور تھا مگر اپنی پسند سے اس نے اپنا نام مائیکل، باسکٹ بال کےایک  کھلاڑی سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔اس نے ہمیں سیر کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ گولانگیو کو ایک صدی قبل انگریز سرکار کے تسلط سے آزاد کرایا گیا تھا۔ سلطنت برطانیہ کے سورج کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، اس کے باوجود تہمت ہم پر ہے کہ ہمارے آباواجداد نے تلوار کے زور پراپنا مذہب پھیلایا۔
 اس کے مطابق ہمیں اپنے اپنے پاسپورٹ ٹکٹ خریدنے کے لئے دکھانا ضروری تھے۔ جب ہم لانچ کے اڈے کی جانب محو سفر تھے تو ذہن میں منوڑا کے لئے جانے والی لانچ کا تصور تھا جو کیماڑی سے چلتی ہیں، مگر وہاں پہنچ کر جب ہم نے فیری ٹرمینل دیکھا تو وہ سڈنی کے سرکولرکی سے کسی طور کم نہ تھا، چینیوں نے اپنے ملک کی ہر چیز کو خوب سجا سنوار کر رکھا ہے اوریہ سب کے سب کم از کم  آدھے مومن  صفائی کی وجہ سے ہیں۔فیری کا سفر خاصا ہموار تھا، اس میں حفاظتی بند باندھنے کا مظاہرہ ہوائی سفر کی طرح کیا گیا۔ ایک بڑے ٹی وی پر گولانگیو سے متعلق دستاویزی فلم چل رہی تھی، ایک بڑے پیانو پر  دھن بجائی گئی، یہ سب کچھ چینی زبان میں تھا۔ البتہ موسیقی کی زبان اپنی ہی تھی۔ اس پیانو کی منطق بعد میں سمجھ آئی۔
دوسری طرف اترے تو پتہ چلا کہ اس جزیرے پر کوئی ایندھن والی گاڑی نہیں چلائی جا سکتی۔ گرمی بلا کی تھی اور سنمدر کا پانی بھی ماحول میں نمی کو بڑھا رہا تھا۔ ہمارے میزبانوں نے ہمیں مائیکل کے حوالے کر رکھا تھا، اس نے ہمیں خوب پیدل چلایا۔
چہل قدمی کا آغاز لانچ سے اترتے ہی ہو گیا تھا، پہلا پڑاو ایک ساحلی مقام تھا کہ جس پے غار نما پتھر اُگے ہوئے تھے۔ اس سے اوپر چلے تو ایک خوبصورت باغ میں پہنچے جس میں پتھروں سے راہ داریاں اور جھروکے نما گھر بنے ہوئے تھے، ساتھ ہی تالاب بھی تھا جس میں رنگ برنگی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ یہاں کچھ دیر سستانے کو رکے اور پھر مزید اونچائی کا سفر شروع ہوا۔اب ہمارے سامنے ایک دومنزلہ عمارت تھی جس کے مرکزی دروزے سے داخل ہوتے ہی ہم ایک بہت بڑے ہال میں آگئِے جس میں دنیا جہاں سے اکھٹا کردہ سو کے قریب پیانوسجائے گئے تھے۔ ہمیں بیاتا گیا کہ یہ جزیرہ ان پیانوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے، اس پیانو کے عجائب گھر کو سن دو ہزار ایک میں عوام کے لئے کھولا گیا تھا اور یہ تمام پیانو ایک مقامی پیانو نواز ہُویویی نے جمع کئے تھے۔اب ہمیں فیری میں پیانو بجائے جانے کی منطق سمجھ آگئی۔
ان کا درشن کرنے کے بعد ہم نے پھر سے اپنی آوارہ گردی کا آغاز کیا۔ واضح رہے کہ اس جزیرے کی قدرتی حیات یعنی جانوروں اور پودوں کا خیال رکھنے کی خاطر حکومت نے باقاعدہ ایک محکمہ تشکیل دے رکھا ہے اور آپ یہاں کسی قسم کی حیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، حتٰی کہ درخت کاٹنا بھی منع ہے، اگر آندھی طوفان کی وجہ سے کوئی درخت گر بھی جائے تو بھی وہ حکومت کی ملکیت رہتا ہےاور اسکی لکڑی یا شاخیں وغیرہ لے جانا جرم ہے۔ ایسے ہی چند درختوں کے تنے ہم نے لب سڑک دیکھے جنھیں محفوظ کرلیا گیا تھا۔  راستے میں اسی جزیرے کے درختوں پر اُگے پھل فروخت کئے جا رہے تھے، ہم نے بھی تازہ شہتوت خرید کر کھائے، ہمارے میزبان ہمیں کہنے لگے کہ ان کودھو کر کھایئے گا، مگر ہم اپنے شہر میں ریڑھی والے سے انڈے والا بن کباب خریدتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ بن کباب والے نے ہاتھ دھوئے ہیں یا نہیں تو یہ اَن دھُلے شہتوت ہمارا کیا بگاڑ لیتے۔ شہتوت بلاشبہ بہت میٹھے تھے اور ان کو کھانے سے ہماری انگلیاں رنگدار اور چپچپی ہو گئی تھیں۔
اب ہم ایک بازار سے گزر رہے تھے، راستے کے دونوں اطراف مختلف اشیاء کی دوکانیں تھیں۔ زیادہ تر دوکانوں پر خشک و تر سمندری حیات فروخت کی جارہی تھیں۔ آپ کسی بھی آبی مخلوق کا انتخاب کریں، دوکاندار آپ کے سامنے اسے پانی سے نکالے گا اور حسب منشا کچا یا پکا کر آپ کو پیش کر دے گا۔ رہی بات خشک حالت کی تو ان تمام سمندری حیات کو مومی لفافوں میں ملفوف کیا گیا تھا جن سے آپ حسب ذائقہ لطف اٹھا سکتے تھے۔
چلتے چلتے ہم ایک پرانی انگریزی طرز کی حویلی میں آن پہنچے، یہاں نان بائی 'پائی' بناتے ہیں۔ یہ حویلی ایک صدی پرانی تھی جو اب ایک جدید مارکیٹ بن چکی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ شہرت تو پائی تھی، مگر یہاں خشک کردہ پھل اور سمندری حیات کے پیکٹ بھی دستیاب تھے، اس کے علاوہ سچے موتیوں کے ہار اور زیورات بھی سیاحوں کی دلچسپی کا محور تھے، اوپری منزل پر میوزیکل باکسز بھی فروخت کئے جارہے تھے۔
خاظرین کو دیکھتے ہی وہاں موجود حسینائیں انھیں اسٹول پر بیٹھنے کی دعوت دیتی ہیں اور گرم یا سرد قہوہ پیش کرتی ہیں، ساتھ ہی میزوں پر سجی چھوٹی چھوٹی خانے والی پلاسٹک کی رکابیوں میں مختلف خشک خوراک کھانے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یہ نفاست سے کاٹے گئے پھلوں اور آبی حیات کے سوکھے ٹکڑے ہوتے ہیں جنھیں کھانے کے لئے خلال یعنی تیلیاں موجود ہوتی ہیں۔ آپ مفت کا قہوہ پیئیں اور ساتھ ہی پھل، جانور وغیرہ کے ٹکڑے حسب ذوق و پسند اپنے معدے میں انڈیلتے جائیں۔ اس دوران وہ حسینائیں پائی اورپیش کردہ تمام خوراک کے پیکٹ لاکر آپ کے سامنے رکھتی چلی جاتی ہیں اور آپ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں سے ایک آدھ پیکٹ خرید لیتے ہیں۔ ہم نے مفت کا قہوہ تو خوب پیا اور خشک خوراک میں سے صرف پھلوں پر ہاتھ صاف کیا، جس میں آم اور کیلے کے ٹکڑوں کی تعداد زیادہ تھی، البتہ آبی حیات والے ٹکڑوں سے خود کو محفوظ رکھا کہ کہیں ہم کسی سانپ یا دریائی گھوڑے کے جسموں کے کچھ حصے اپنے خون میں شامل نہ کر لیں۔
اپنی ایک میزبان پروفیسر خاتون کی مدد سے ہم نے موتیوں کے زیورات بھی پرکھے اور ان کے ایما پر چھوٹی موٹی خریداری کر ڈالی، کیونکہ ایک تو موتی سچے تھے اور دوسرا انکی قیمت خاصی معقول تھی۔ ہماری دیکھا دیکھی دیگر مندوبین نے بھی موتیوں کے ہار وغیرہ خریدے۔
یہاں سے نکل کر پھر پیدل مارچ کا آغاز کیا اور مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے ونڈو شاپنگ کی۔ ایک بڑے چوک پر نئے شادی شدہ جوڑے بھری دوپہر میں اپنی شادی کے البم کے لئے فوٹو سیشنز کروا رہے تھے، دولہا حضرات تو خیر پینٹ کوٹ میں ملبوس تھے مگر شاباش ہے ان چینی دولہنوں پر جو اپنے وزن سے کہیں زیادہ کی سفید فراک یا غرارہ سنبھالے کیمرے کے سامنے پوز دئیے جا رہی تھیں۔ یہ جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتیں تو فراک کے کئی گز کا گھیر لپیٹ کر کسی بطخ کی مانند پھدکتی پھرتیں۔ فوٹو سیشن کے وقت ان کے لباس کا یہی پھیلاو ہوا میں لہرانے کے کئی انداز بنانے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور ماہر عکسبند عین اس وقت کیمرہ کلک کرتا جب ہوا میں اڑتا جاتا وہ سفید کپڑا ریشم کا۔
اسکے بعد ہم کھو گئے، ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ساتھ ترکی مندوب تھے اور ہم دونوں باقی لوگوں سے کچھ پیچھے چل رہے تھے، ایک چوک پر پہنچ کر باقی تمام افراد ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ کافی تلاش کے بعد ہم انھیں قریبی فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹ میں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے۔ پتہ چلا کہ ظہرانے کےلئے سب نے وہاں رکنا مناسب سمجھا اور ہمارا انتظار کئے بغیر مرغی کا آرڈر بھی دے ڈالا کہ انکی معلومات کے مطابق مرغی تو ہمارے لئے حلال تھی اور لحم خنزیر حرام۔ اب ہم حلال ہونے اور حلال کرنے کا فرق انھیں اسوقت نہیں سمجھا سکتے تھے، لہذا صبر شکر کر کےآلو کے چپس اور کولڈ ڈرنک سے کام چلایا۔
ظہرانے کے بعد ہمیں آبی حیات دکھانے کی خاطر ایک مچھلی گھر لے جایا گیا۔ اسے مچھلی گھر کہنا زیادتی ہوگی۔ ان لوگوں نے اس کا نام اوشنیریئم رکھا ہوا تھا اوراس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں تھا۔گولڈفش سے لے کر کیچھوے اور جیلی فش سے لے کر پینگوئن تک یہاں موجود تھے، جنھیں کافی حد تک ان کے قدرتی ماحول میں رکھا گیا تھا۔سب سے زیادہ دلچسپی کا مظہر، شارک کا ٹھکانہ تھا جو ہمارے سروں پر تھا اور ہم ایک سرنگ میں چل رہے تھے۔ گو کہ ایسا ہی منظر ہم سڈنی میں بھی دیکھ چکے تھے لیکن چین کی آبادی کے مصداق یہاں ہر شے بڑی اور وافر مقدار و تعداد میں پائی جاتی ہے لہذا یہ سرنگ بھی سڈنی کے مچھلی گھر سے کہیں زیادہ طویل تھی۔
جب ہم اس مچھلی گھر کی سیر کر کے باہر نکلے تو بری طرح تھک چکے تھے لہذا سمندر کے ساتھ بنی دیوار پر سستانے کے لئے آن بیٹھے یہ دیوار ہمارے سی ویو جیسی تھی، لیکن صفائی قابل دید تھی، دیوار کے ساتھ باغ بنایا گیا تھا، جس کے کنارے مختلف اشیاء کے خوانچہ فروش موجود تھے۔ ان میں قابل دید ایک ضعیف خاتون تھیں جو وہیل چیئر پر بیٹھی آئس بکس میں رکھی آئس کریم بیچ رہی تھیں۔  اس بات سے چینی قوم کے محنتی اور خوددار ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
شام ڈھلنے کے قریب ہم فیری میں سوار ہونے کے لئے مسافروں کی قطار میں آ لگے۔ واپسی کا سفر ہم نے فیری میں کھڑے ہو کیا کیونکہ مسافروں کی تعداد زیادہ تھی اور فیری میں نشستیں کم تھیں۔ کھڑے رہنے کی وجہ سے ہم سمندر سے زیادہ لطف اٹھا سکے کہ پانی کے ہلکے ہلکے چھینٹے اور سمندری ہوا ہماری تھکن میں کمی کر رہے تھے۔
فیری اسٹیشن پر ہماری بس موجود تھی جس میں سوار ہو کر ہم ہوٹل پہنچے۔ عشائیہ جلد کر لیا اور اسکے بعد کمرے میں سکونت اختیار کی۔
اگلے دن ہماری وطن واپسی تھی، سکون سے ناشتہ کیا اور پھر ترکی دوست علی الپ کے ساتھ بائی ناو کی راہ لی کیونکہ ہم نےجناب شینگ سے وعدہ کیا تھا کہ انکی کمپیوٹر کی دوکان  پر دوبارہ آئیں گے۔ وہ صاھب ہمیں وہاں نہ ملے اور ہم ونڈوشاپنگ کر کے واپس ہوٹل آگئے، ہماری پرواز کا وقت دوپہر میں تھا، یوں ظہرانہ جلد کیا اور میزبانوں کی جانب سے مہیا کردہ ٹیکسی میں ہوائی اڈہ پہنچے، واپسی کے سفر میں تھائی لینڈ کے مندوب پھر ہمارے ساتھ تھے، انکا سفر بنکاک تک کا تھا جبکہ ہم نے وہاں سے کراچی کی پرواز بھرنا تھی۔
واپسی کا سفر پر سکون گزرا، مغرب کے وقت بنکاک پہنچے اور اگلی پرواز کے لئے بھاگم بھاگ روانگی کے مقام تک آئے، کراچی، پاکستان کے معیاری وقت کے 
مطابق رات دس بجے پہنچے۔
نوٹ: یہ سفر ماہ اکتوبر سن دو ہزار سولہ میں کیا گیا تھا۔

ہفتہ، 8 اپریل، 2023

تصویرِ ہمدرداں، باتیں ٹینٹھ اے کی

تمہید: سن دو ہزار دس میں جب ہم نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تو اسکا عنوان 'کچھ سُنی کچھ ان سُنی' رکھا، مگر بعد میں 'بیادِ سڈنی' کر دیا۔ اب ایک دہائی گزرنے کے بعد اسے ایک اور نیا نام 'قلم کاری' دے دیا ہے۔ قلم کاری فنکاری کی طرز پر ایک عمل بھی ہے اور قلم کی صفت بھی کاری ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ تلوار کا وار بھر جاتا ہے مگر زبان کا نہیں بھرتا، اگر اس میں قلم بھی شامل کر لیا جائے تو قلم کی مار بھی بھرپور ہوتی ہے اور اس سے تخت یا تختہ کا فیصلہ لکھا جا سکتا ہے۔ یوں ہم نے اپنے بلاگ کو یہ عنوان دے ڈالا۔ ذیلی سرخی  اس بلاگ کی'کچھ یادیں، کچھ باتیں' ہے، تو گویا ہم ماضی کا تذکرہ بھی کریں گے اور اِدھر اُدھر کی گفتگو بھی۔ چیٹ جی پی ٹی کے زمانے میں خودنوشت لکھنے کا کوئی مشینی طریقہ بھی آ ہی جائے گا، مگر جب تک نہیں آتا ہم اصل انسانی تجربات تحاریر کے ذریعہ اپنے قارئین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اب اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں۔

تصویرِ ہمدرداں: اس عنوان کے تحت پہلے کافی بلاگ لکھے جاچکے ہیں اور ہمارے مستقل قاری اس ے واقف ہیں۔ نئے قارئین پرانی پوسٹس میں وہ بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔
مسز گلزار کا طریقہ تھا کہ درجہ نہم کے بعد دہم میں آنے والے طلبا و طالبات کو کسی نہ کسی بنیاد پر نئے سیکشنز میں تقسیم کر تیں۔ اس طرح بہت سی دوستیاں ٹوٹ جاتیں اور نئے دوست یا سہیلیاں بن جاتیں۔ مگر جو شاگرد درجہ اول سے ہمدرد پبلک اسکول میں زیرِ تعلیم تھے یہ تقسیم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ پاتی۔ کیونکہ دوستیوں کی بنیاد صرف ہم جماعت ہونا ہی نہ تھی، بلکہ اکثر طلبہ ایک ہی بس کے ہمسفر ہوتے تھے، چند ایک ہی محلہ یا گلی سے آتے تھے، بس الگ ہونے کے باوجود کچھ کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں اور بیشتر اسکول کے ہی دوست تھے۔ یوں پرانی دوستیاں محض جماعت کا سیکشن الگ ہونے سے ٹوٹنے والی نہ تھیں۔
دہم کے ان بننے والے سیکشنز میں لڑکیوں کے عموما دو اور لڑکوں کے تین سیکشنز بنتے تھے۔ اس وقت طبیعات صرف دہم میں پڑھائی جاتی تھی تو ہمارا واسطہ اسکول میں دسویں جماعت سے پڑتا تھا ورنہ ہم کالج پڑھاتے تھے۔ ٹینٹھ اے کا سیکشن لڑکیوں کا ہی ہوتا تھا اور میڈم گلزار کا پسندیدہ ترین ہوتا تھا، اس میں پڑھنے والی طالبات کو وہ پیار سے bright beauties کہا کرتی تھیں۔ اس سیکشن میں پڑھانا ایک منفرد تجربہ ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جماعت صلاحیتوں، شرارتوں، باتوں اور ذہانتوں سے بھرپور ہوا کرتی تھی اور کوئی بھی نا تجربہ کار استاد ان کی باتوں کے ریلے کے سامنے آسانی سے نہیں ٹھہر پاتا تھا۔ انھیں کلاس کا وقت گزارنے میں مہارت حاصل تھی، مگر ہم انھی کے استاد تھے۔ 
ایک سال اس سیکشن میں ہم نے ایک طالبہ کو ہماری ہی نقل اتارنے کو کہا تو ہم ان کے مشاہدہ پر حیران رہ گئے کہ بچے کتنی باریک بینی سے ٹیچر کا ایکس رے کر لیتے ہیں کہ ہماری غیر محسوس پر کی گئی حرکات بھی انھوں نے اس پیروڈی کا حصہ بنا ڈالیں۔ وہ محترمہ اب شہر کراچی کی معروف دندان ساز ہیں۔ 
سن دو ہزار چار ہمارا  ہمدرد میں پڑھاتے ہوئے چھٹا برس تھا، اس سال کی ٹینٹھ اے بھی نرالی تھی۔ ایک بار اردو کے پیریئڈ میں ہمارا فکسچر لگا دیا گیا۔ ہم کلاس میں گئے تو کوئی طبیعات پڑھنے کو تیار ہی نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دن فزکس کی کلاس نہ تھی تو کوئی بھی کتاب نہیں لایا تھا۔ اور مسز گلزار کا اصول تھا کہ نو بُک نو کلاس۔ ہم نے کہا کہ پھر کیا کیا جائے، جواب آیا سر اردو پڑھا دیں۔
اردو کی ٹیچر بہت منجھی ہوئی استاد تھیں اور نفس مضمون پر خوب گرفت رکھتی تھیں۔ جب بچوں کا کام جانچتی تھیں تو بقول ٹینٹھ اے کے کاپیاں واپسی پر دلہن بن کر آتی تھیں۔
اب ایسی ٹیچر کے مضون کو ہاتھ لگانا آبیل مجھے مار کے مترادف تھا۔ مگر ہم ٹھہرے سدا کے اردو پرست تو پوچھا کہ کیا پڑھ رہیں ہیں آپ اردو میں، جواب ملا کہ اقبال کی شکوہ، جوابِ شکوہ۔ ہم نے کہا کہ نکالیں کتابیں۔ اور خود بنا کتاب کے اقبال کا تعارف بیان کر ڈالا۔ ایک بند کی تشریح بھی کر ڈالی۔ کلاس کے وقت کے تمام ہونے کا پتہ گھنٹی بجنے پر چلا۔ کلاس سے سیدھا مسز گلزار کے آفس میں پہنچے اور انھیں بتایا کہ آج مابدولت نے ٹینٹھ اے میں اردو پڑھا دی ہے۔ اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگیں ' بَرا اچھا کیا'۔
مزہ تب آیا جب اگلی بار ہم ٹینٹھ اے میں گئے ۔ بر سبیلِ تذکرہ پوچھا کہ اقبال کی نظم مکمل ہو گئی؟ جواب ملا کہ اردو کی ٹیچر کو جب ہم نے بتایا کہ فزکس کے سر نے ہمیں اس کا تعارف اور ایک بند پڑھا دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ باقی نظم بھی آپ فزکس کے سر سے پڑھ لیجیئے گا۔
مگر ہم بھی باز آنے والے نہ تھے، شُدھ انگریزی میں طبیعات کے نوٹس زبانی لکھوانے کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کا تکڑا ضرور لگاتے۔ ایک طالبہ نے ایک بار پوچھا کہ سر یہ نوٹس جو آپ ڈکٹیٹ کراتے ہیں تو کیا یاد کر کے آتے ہیں۔
ایک بار نوٹس لکھواتے ہوئے  بیچ میں کوئی اور بات نکل آئی۔ ایک طالبہ اس دوران بات کو نہ پکڑ سکیں تو ہم نے انھیں ٹیوب لائٹ کا خطاب دے ڈالا۔ یہ خطاب ایک اور طالبہ نے نوٹس میں روانی میں لکھ دیا کہ سر نے اگلا لفظ ٹیوب لائٹ کہا ہے۔
ان باتوں سے اندازہ کر لیں کہ حکیم صاحب جتنے سادہ خود تھے اتنے ہی سادہ دل ہمدرد کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ بھی تھے۔
ع زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے
باقی باتیں پھر کبھی۔ 

ہفتہ، 25 مارچ، 2023

رمضان سڈنی میں

 ہمارے مستقل قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ ہم سن دو ہزار نو سے دو ہزار گیارہ تک سڈنی میں رہے، یہ دورانیہ پورے چوبیس ماہ کا تھا کیونکہ ہم اگست کے مہینہ میں وہاں گئے تھے اور اگست میں ہی واپس وطن آئے تھے۔ اُن دنوں روزے بھی  اگست میں تھے۔ یوں مسلسل تین رمضان ہم وہاں تھے۔  اس بلاگ کا متن گو کہ پرانے بلاگز پر ہی مشتمل ہے لیکن ہمارا بلاگ ہماری مرضی کے مصداق ہم اسے نئے انداز میں پیش کر رہے ہیں ۔

بالکل شروع کے روزے تھے جب ہم سڈنی پہنچے۔ بلکہ جس دن ہماری پرواز برائے دوبئی تھی اسی شام وطن عزیز میں پہلے روزہ کا اعلان ہوا تھا۔ پرواز سے پہلے ہی کراچی کے ہوائی اڈہ پر اماراتی  ہوائی باز ادارے والوں نے سحری کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ ہم نے جہاز کی روانگی سے قبل سحری کرلی اور دوبئی سے سڈنی کی پرواز میں روزے سے ہی رہے۔ اس پرواز میں فضائی میزبان نے ہمارے روزے کا خیال رکھا اور دوران پرواز افطار کا اہتمام کیا، کھجوروں کی رکابی اور دودھ کے جام کے ساتھ روزہ کھُلوایا گیا اور نماز مغرب کے بعد پُرتعیش عشائیہ پیش کیا گیا۔

سحری ہم نے سڈنی کے قریب کی جب جہاز میں ناشتہ کا وقت ہوا۔ یوں سڈنی اُترتے ہوئے ہم روزہ سے ہی تھے۔ اُن دِنوں ہم کچھ زیادہ ہی بنیاد پرست تھے اور سفر کے دوران روزہ  قضا کرنے کی سہولت سے استفادہ نہ کیا۔ خیرسڈنی پہنچے تو فہد الٰہی، احسن شیخ اور شہباز واڈی والا محض تین افراد گھرکے مکین تھے اور گھر نیا نیا کرایہ پر لیا گیا تھا۔ باورچی خانہ میں چیدہ چیدہ برتن اور لوازمات موجود تھے۔ افطارمیں ہمت کرکے پکوڑے بنائے اور جیسے تیسے روزہ کھول لیا۔ جب گھر سے چلے تھے تو محض چائے بنانا اور انڈا اُبالنا جانتے تھے اور واپس وطن آئے تو کھانا پکانے میں اتنے مشاق ہو چکے تھے کہ قورمہ اور بریانی بھی بنا لیتے تھے۔

سحری میں بھی مل جل کر فروزن پراٹھے اور انڈوں کی مدد سے روزہ رکھا گیا۔ یوں ابتداء میں ہم باورچی خانہ میں اتنے متحرک نہ تھے، مگر آہستہ آہستہ منکشف ہوا کہ یہاں ہمارے گھر والے کھانا پکانے میں ہم سے بھی گئے گزرے تھے۔ لہٰذا خود سے  باورچی خانہ میں قدم رکھنا پڑا۔ یاد رہے کہ سڈنی چونکہ جنوبی نصف کرہ میں واقع ہے اس لئے وہاں موسم ہمارے نصف کُرہ کے لحاظ سے بالعکس ہوتا ہے، ہمارے ہاں گرمیاں اپنے اختتام پر تھیں تو وہاں سردیاں ختم ہوا چاہتی تھیں اور بہار کی آمد آمد تھی۔ اس لئے روزہ خاصے کم دورانیہ کا ہوتا تھا۔

 محمود جامی نام کے ایک مصری اُن دِنوں جامعہ یو این ایس ڈبلیو میں مسلم مُصلہ کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ اور اُنکا پورا خاندان اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ مُصلہ اُس دور میں اَنزیک پریڈ سے متصل اِسکوائر ہاوس میں ہوا کرتا تھا جہاں مسلم طلبہ و طالبات نمازیں ادا کرنے آتے تھے۔ پہلی تراویح ہم نے عربوں کے طریقہ پر پڑھی اور خاصے حیران ہوئے کہ یہ بھی انداز ہوسکتا ہے عبادت کا۔ وطن میں تو ہم دین کی باتیں اور احکامات سُن سُن کر سنی بن ہی چکے تھے مگر دین کی صحیح سمجھ تب آئی جب اسے روایات اور ثقافت سے الگ کر کے دیکھا۔

مُصلہ پر ہر دوسرے روز کسی نہ کسی گروہِ طلبہ کی جانب سے افطار کا بندوبست کر دیا جاتا۔ کبھی ملائیشیا والے روزہ کھُلوا رہے ہوتے تو کبھی انڈونیشائی برادران۔ مزہ تب آتا جب سعودی عرب والوں کی باری آتی، اُن کے افطار کے اتنظام میں روایتی مہمان نوازی دیکھنے کو ملتی کہ جب دستر خوان بے شمار اور اعلٰی قسم کی اشیائے خورد و نوش سے بھر جاتا۔ ہم پاکستانی بھی پیچھے نہ رہتے اور بریانی کا خاص اہتمام کیا جاتا جسے کھانے کے شوق میں روزے خوروں سمیت گورے بھی دوڑے چلے آتے۔  بقول غالب

افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

عید پر چاند کی رویت کے لحاظ سے وطن والا تذبذب وہاں بھی دیکھنے میں آیا، عرب تو اُمت کے ساتھ عید مناتے کہ جب سعودی عرب میں عید ہو گی تو ہم بھی عید کر لیں گے، مگر ہم کیونکہ سائنس کے طالب علم ٹھہرے تو وہاں بھی چاند کی سائنس کھوجنے سے باز نہ آئے اور رویت کے مطابق ہی عید منائی۔ پہلی عید نماز بھی ہم  نے اپنی جامعہ میں ہی پڑھی۔ ایک بنگلہ دیشی مُصلہ نے یہ سہولت بھی دی ہوئی تھی کہ آپ دو میں سے کسی بھی دن عید نماز ادا کرسکتے ہیں، چاہیں تو سعودی عرب والوں کے ساتھ عید منا لیں یا چاند کی مقامی رویت کے مطابق۔


بلاگ میں لگائی گئی تصویرستمبر اسن دو ہزار نو کوعیدالفطر پر لی گئی تھی، دائیں سے بائیں، یاسر آفندی، احسن شیخ، حافظ عمار انیس، حسن علی،فہد الٰہی، راقم السطوراور شہباز واڈی والا۔

ستمبر سن دوہزار نو میں رمضان کے دوران ہی تابش خان کراچی سے ہمارے ساتھ رہنے تشریف لائے، یہ ہمارے تین ہم رہائش ارکان کے مشترکہ دوست تھے جو سب کے سب سزابسٹ کے گریجویٹ تھے اور اب یواین ایس ڈبلیو کا اسٹیکر لینے آئے تھے، جی ہاں ان سب کو کراچی میں جامعہ کے اسٹیکر نے موٹیویٹ کیا تھا۔ اور یہ پیسے جمع کر کے یہاں سند حاصل کرنے پہنچے تھے۔

خیر تابش سے جہاں باورچی خانے کے برتن اور دیگر اوزار کراچی سے منگوائے گئے وہیں انھیں لوٹا لانے کا بھی حکم دیا گیا۔ پہلے تو وہ مذاق سمجھے مگر جب انھیں بتایا گیا کہ گورا کیا جانے لوٹے کا استعمال تو وہ مان گئے اور ان کی آمد پرجہاں ان کا سامان کھولا گیا تو لوٹے کو خاص تکریم کے ساتھ ان سے لے کرغسل خانے کی زینت بنایا گیا کہ ہمیں بیت الخلاء اور غسل خانہ الگ الگ دستیاب نہیں تھے۔

اگر تو آپ جَدی پُشتی امیر ہیں تو آپ کے لئے وطن یا دیارِ غیر ایک ہی جیسا ہے لیکن اگر آپ ہماری طرح مڈل کلاسیئے ہیں تو جان لیں کہ دیار غیر میں آپ کا حال ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کسی پناہ گزین یا نئے نئے مہاجر کا کسی اور ملک میں۔ اپنے ملک والی عیاشی اور مُلکوں میں نہیں ملتی، وہاں آپ کو اپنا بیت الخلاء بھی خود صاف کرنا پڑتا ہے اور  اپنے برتن بھی خود دھونے ہوتے ہیں۔ کپڑے دھونے ہیں تو ساتھ میں استری بھی کرنا ہوں گے، ورنہ دھوبی سے کرانے میں ڈالر خرچ ہوں گے۔ کھانا ایک آدھ بار تو باہر سے کھایا جا سکتا ہے مگر زندہ رہنے کےلئے مستقل باہر سے کھانا ممکن نہیں، یوں جن لڑکوں اور مردوں نے وطن میں ہوتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں ہِل کر پانی نہیں پیا ہوتا وہ بیرون ملک جاکر اپنا سب کام خود کر رہے ہوتے ہیں اور وہ وہ کام بھی کرتے ہیں جو ہمارے ہاں نوکر یا کام والی ملازماوں سے ہی منسوب ہیں۔ یہاں ہماری جھوٹی شان و شوکت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ان کاموں کو چھوٹا اور معیوب جانا جاتا ہے جبکہ باہر یہ کام ضرورت اور وقت پڑنے پر کرنے میں ہم  کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تو گویا ہم نے اپنے معاشرے کی بُنیاد ہی کھوکھلے پن پر رکھی ہے۔ ہمارا مقصد اصلاح معاشرہ کا نہیں مگر قارئین کو سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ جب نبی پیغمبر اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھوں سے کیا کرتے تھے تو ہم کس کھیت کی مولی اور گاجر ہیں کہ ہماری گردنوں کا سریہ اور کمر کا درد ہی ختم نہیں ہوتا جبکہ ہم اپنے قدموں سے زمین کو پھاڑ بھی نہیں سکتے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کاموں کے لئے نوکر نہ سہی گھر کی خواتین تو ہیں جن میں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی سب شامل ہیں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ گھر کے مردوں کی خدمت کریں۔ وہ بھی اس میں خوش ہیں کہ اپنے گھر والوں کے آرام کا خیال کر رہی ہیں، لیکن در حقیقت انھیں ناکارہ بنا رہی ہیں کہ اُن کی جھوٹی مردانہ وجاہت اور انا کو ٹھیس پہنچ جائے گی اگر وہ اپنا کام خود سے  کر لیں گے۔ ہمارے ہاں وہ مرد اقلیت میں ہیں جنھوں نے کبھی اپنی بہن کوناشتہ بنا کر دیا ہو یا بخوشی اپنی بیگم کو فل کورس میل نہ سہی ناشتے میں انڈہ ہی تل کر دیا ہو۔

افطار تو ہم اجتماعی طور پر کر لیتے تھے مگر سحری خود سے کرنی پڑتی تھی، کیونکہ سردیوں کے روزے تھے تو انڈوں کی شامت آتی تھی۔ ایک بنگلہ دیشی کے دیسی اسٹور سے ہمارا ہفتہ بھر کا سودا آتا تھا ، جس بازار میں یہ اور اس جیسے دیگر پنساری دوکان کرتے تھے کچھ کچھ کراچی کے گول مارکیٹ کی پرچون کی دوکانوں کا منظر ہوتا تھا، مگر یہ گول مارکیٹ صفائی اور سلیقہ میں انگریز ہی تھی۔ یہاں شان کے مصالحے، اچار و چٹنی سب مل جاتا تھا، روح افزا اور جام شیریں بھی دستیاب تھے۔ اس حوالے سے بے وطنی کا احساس قطعی نہیں ہوا۔ تو سحری میں ہم دو دو فروزن پراٹھے بنا لیتے اور فی کس دو دو انڈے آدھے تلے جاتے یعنی سنی سائیڈ اپ کرکے ایک ایک لسی کے جام کے ساتھ سحری کی جاتی۔ اس قدر دیسی سحری میں پیش پیش محمد عمران تھے جو پہلے رمضان کے بعد سے ہمارے گھر کے مکین بنے تھے، اس دوران ہم باورچی خانہ پر اپنا تسلط پوری طرح قائم کر چکے تھے اور شوق سے سحری تیار کرتے تھے۔

ایک برس تراویح ہم نے ایک آسٹریلیائی مسلمان حافظ کے پیچھے پڑھی کہ ان کے والدین لبنان سے ترک وطن کر نے یہاں آ آباد ہوئے تھے اور ان کی مادری زبان عربی ہونے کی بدولت انکو قرآن سے محبت ورثہ میں ملی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پورے آسٹریلیا میں مساجد میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی نماز کا بھی بندوبست دیکھنے کو ملا۔ اور یہ نہایت اچھا انتظام تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہمارے مُصلہ میں بھی خواتین نماز کے لئے آتی تھی تو اس میں سہولت کا پہلو زیادہ ہے۔ وطن میں بھی ہم نے چند مساجد دیکھی ہیں جہاں یہ سہولت مہیا کی جاتی ہے مگر اس قدر عام نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنا دین اپنے ہاتھوں سے مذہب کے ٹھیکیداروں کو دے دیا ہے اور ان کے فیصلوں پر راضی برضا ہیں، جبکہ قیامت کے روز اس بات کے جوابدہ ہم خود ہوں گے کہ ہم نے اپنے دین پر عمل قرآن اور سنت سے ہٹ کر کیوں کیا۔

آخری رمضان میں ہمارے گھر کے مکین بدل چکے تھے اور حافظ عمار انیس ہمارے ساتھ رہنے آگئے تھے۔ تو ان کی امامت میں ہم نے اپنے سڈنی کے قیام کے آخری ایام کی تراویح پڑھی۔ ان کی رفتار اور روانی خاص دیسی حفاظ والی تھی کہ آواز سے زیادہ روشنی کی رفتار کا ساتھ دیتے اور کلام بھول جاتے پھر واپس پلٹے اور درست کرتے۔ یوں بیس رکتیں ادا ہوتیں۔

جھلکیاں

ایک رمضان ہماری پسندیدہ گلوکارہ شریا گھوشال سڈنی میں کانسرٹ کرنے آئیں مگر ہم ان کا پروگرام نہ دیکھ پائے اور اپنے شیطان کو قید ہی رہنے دیا۔

ایک بار افطار کے انتظام کی خاطربازار سے خود بریانی لینے گئے۔

پاکستانیوں کی جانب سے جامعہ میں چندہ بھی جمع کیا اور افطار کا اہتمام کیا۔

سڈنی سے وطن واپسی براستہ کوالالمپور تھی، اب کی بار ہماری شدید بُنیاد پرستی ختم ہوچکی تھی اس لئے ہم نے سفر میں روزہ نہ رکھا۔

اتوار، 12 فروری، 2023

امجد اسلام امجد کی یاد میں

 

ہمیں جب اردو شعر و ادب کی سمجھ آنا شروع ہوئی اور اشعار یاد ہونے لگے تو 'اگر کبھی میری یاد آئے'، 'گلاب چہرے پہ مسکراہٹ، چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے' اور 'ایک کمرہ امتحان میں'، منہ زبانی دھرایا کرتے اور سر دھنا کرتے کہ میر اور غالب کا مقام اپنی جگہ مگر امجد ہمارے عہد کے شاعر تھے اور آپ بیتی کو جگ بیتی بنانا خوب جانتے تھے کہ بقول غالب، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ دورِ حاضرکی نسل کی کول زبان میں بیان کریں تو امجد اسلام امجد ہمارا چائلڈ ہوڈ کرش تھے۔

جامعہ کراچی میں طالب علمی کے زمانے میں ہماری دلی مراد بھر آئی جب انھیں روبرو سُنا اورپھر بارہا ساکنان شہر قائد کے سالانہ مشاعروں میں ان کے کلام سے محظوظ ہوئے ساتھ ہی انکی کتب پر انکے دستخط بھی لئے۔ اُنکا مشفقانہ اور دھیما انداز انکی انسان دوست شخصیت کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ جب بھی انکی شاعری کی نئی کتاب آتی ہم خود سے خرید کر اسے پڑھتے، ان میں سے موجود بعض کتب اب ہماری اولاد پڑھتی ہے۔

جہاں 'سیلف میڈ لوگوں کا المیہ' اور 'تو چل اے موسم گریہ' نے اردو شاعری میں تہلکہ مچایا وہیں 'زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں' بھی زبان زد خاص و عام رہی۔ 'اسے بھول جا' کی طویل بحر ہو یا 'تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے' کی ترکیب، انکے کلام کا ہر ہر حرف خود بخود نظروں یا سماعتوں سے گزر کر دماغ سے ہوتا ہوا دل میں جا پیوست ہوتا۔ حال ہی میں انکی ایک تازہ نظم 'اے میرے دوستوبھلے لوگو' ہمارے معاشرے میں موجود عدم برداشت کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کا درس دیتی ہے کہ جس معافی یا سہولت کو ہم اپنا استحقاق سمجھتے ہیں وہی رعایت اگر دوسروں کو بھی دے دیں تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

'موسم میرے دل کی باتیں تم سے کہنے آیا ہے' جیسی سطر یا 'محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا' جیسا خیال امجد کے سوا کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔ ان کے کلام کی نزاکت، ندرت، اچھوتے پن اور بے ساختگی کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ جو تھوڑی بہت بھی امجد فہمی رکھتا ہے وہ بخوبی ان کے کلام کو دیگر شعراء کے کلام سے ممتاز کر کے دیکھ اور پہچان سکتا ہے۔

ہم طبیعات کے مدرس ہونے کے دوران گاہے بگاہے طلبہ کو اشعار سُنایا کرتے تھے، ایک بار انکی نظم 'محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپننا قدرت نے رکھا ہے' پری میڈیکل کے بارہوں جماعت کے سیکشن میں منہ زبانی سُنا ڈالی اور نئی نسل کو امجد کے تخیل پرواز سے روشناس کرایا۔

'علی ذیشان کے لئے ایک نظم' میں انھوں نے نئی نسل کو مخاطب کیا ہے اور عرفان یعنی خود آگاہی کے اس لمحہ کی بات کی ہے جو ہر کسی کے لئے الگ اور منفرد تجربہ ہو تا ہے۔  

ہم امجد کی شاعری پر لکھتے چلے جائیں گے اور ورق تمام ہوتے جائیں گے۔ خرم سہیل نے لکھا ہے کہ امجد کی خواہش تھی کہ وہ تاریخ کے اوراق میں بحیثیت شاعر زندہ رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انکی یہ خواہش بجا تھی اور اردو ادب اس پر فخر کرے گا کہ اسے امجد اسلام امجد جیسا شاعر ملا۔

انکے انتقال پرجہاں ہم افسردہ ہیں کہ خوبصورت لفظوں کا ایک با کمال خالق اس دنیا سے رخصت ہوا وہیں ہمیں اس بات کا بھی دکھ ہے کہ پچیس فروری کو ہونے والے مشاعرہ میں وہ موجود نہیں ہوں گے اور ہماری اولاد انھیں پہلی بار روبرو دیکھنے اور سُننے سے محروم ہو گئی۔

وہ یقینا چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں ستارہ بن چکے ہیں جو نہ صرف اپنا اجالا رکھتا ہے بلکہ مسافروں کے لئے بھی چراغ منزل کا کام کرتا ہے۔

حق مغفرت کرے۔