سر رئیس الدین احمد کی شخصیت ہمدرد پبلک اسکول اور کالج سے وابسطہ کسی بھی فرد کے لئے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے دور کے تمام طالب علم آج اپنی عملی زندگیوں میں ان سے حاصل کردہ علم و دانش کو نافذ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انھوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی تعلیم دی اور ساتھ ساتھ اردو زبان، تاریخ اور علم و ادب کی بھی ترویج پر زور دیا۔
ہماری خوش قسمتی کہ گذشتہ دنوں وہ غریب خانہ پر تشریف لائے اور ایک کتاب بعنوان 'موتیا کی خوشبو میپل کے رنگ: میری کینیڈین پاکستانی کہانیاں' ہمیں پڑھنے کے لئے دی۔ اس سے پیشتر وہ سرسری طور پر ادیب آن لائن کا تذکرہ کر چکے تھے، ان کی عادت ہے کہ وہ نہایت سادگی اور بناوٹ سے پاک گفتگو کرتے ہیں کہیں پر بھی اپنی علمیت یا قابلیت کا شور نہیں مچاتے۔ اسی لئے انھوں کے ادیب آن لائن اور اس سے اپنی نسبت کو عام انداز میں بیان کیا۔ یہ کتاب ادیب آن لائن نے چھاپی ہے۔
خیر ہم نے کتاب لگ بھگ دو ہفتوں میں پڑھ ڈالی۔ گو کہ ایک نشست میں پڑھی جاسکتی تھی، مگر غم دل اور غم روزگار کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہ تھا۔ کتاب میں مصنفہ محترمہ قرۃ العین صبا کے سوشل میڈیا کا رابطہ دیا ہوا تھا، سو ان سے رابطہ کیا اور مثبت جواب آنے پر ان سے کتاب پر تبصرہ لکھنے کا وعدہ کیا۔ اس دوران سر رئیس الدین سے بھی محترمہ کی بابت مزید معلومات حاصل کیں۔ جنابہ سر رئیس کی رشتہ دار ہیں اور کئی برس سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔
ہم بھی کینیڈا میں ایک ہفتہ قیام کر چکے ہیں اور ٹورنٹو اور گرد و نواح کے ساتھ ساتھ نیاگرا تک ہو آئے تھے۔ گو کہ یہ سن ۲۰۰۸ کی بات ہے، مگر جھیلوں کے دیس کا سحر ابھی بھی خیالوں کی دنیا میں تازہ ہے۔
قرۃ العین صبا کی آپ بیتی نے جگ میتی کا مزہ دیا اور ہم ایک کے بعد ایک انشائیہ پڑھتے اور غالب کے ہمنواہوتے جاتے
ع میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
صبا جی کے اسلوب میں سادگی اور روانی ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ ایک کہانی گو سے اسکی داستان خود اس کی زبانی سن رہے ہیں۔ کینڈا کی جھیلوں کا ذکر ہو یا چاند کا، موسم کی بات ہو یا کہ اردو زبان کی، پکوڑوں کی کتھا ہو کہ ٹین ایجرز کے مسائل غرض یہ کہ ادب، جغرافیہ، زبان، فلسفہ، شخصی خاکے، سماجی معاملات، کینیڈا کی ملٹی کلچرل سوسائٹی کے رنگ، کتابوں پر تبصرہ، حالات حاضرہ یا مصنفہ کی روز مرہ زندگی کے حالات، اس مجموعہ میں ایک قاری کو سب کچھ میسر آئے گا۔
کہیں آپ ان کے ساتھ خود کو کراچی کی راشد منہاس روڈ پر واقع دانشکدہ سے کتابیں خریدتا پائیں گے تو کبھی اماں کے ساتھ لاڈ کرتا، ایک جگہ وہ کالج کی دوشیزہ ہیں تو دوسرے انشائیہ میں خود ایک ماں، غرض قاری ہر ہر مقام پر خود
کو ان کی کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
کو ان کی کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
ہم جیسے امجد اسلام امجد کو اپنا چائلڈ ہوڈ کرش ماننے والے تو گویا صبا جی کے امجد پر تحریر کردہ خاکے کے گرویدہ ہو جائیں گے بلکہ ان کے کتاب خریدنے کے پیسے فہرست مضامین پڑھ کر ہی وصول ہو جائیں گے۔
ہم کوئی ادیب یا نقاد تو ہیں نہیں کہ علمی ادبی قسم کا تبصرہ کریں، لیکن اتنا ضرور کہ سکتے ہیں کہ ان کی ہر تحریر میں احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ یہ صرف ہمارا مشاہدہ نہیں بلکہ محترمہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا صاحبہ کا بھی فرمانا ہے۔
ڈاکٹر عارفہ کے ساتھ ساتھ کتاب پر تبصرہ محمد احمد، ڈرامہ نگار اور انجینیئر ڈاکٹر محمد نقاب خان صاحب نے بھی لکھا ہے۔
محترمہ قرۃ العین صبا کینیڈا کی سیر تو کراتی ہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ قاری کو اسکی جلاوطنی یا ہجرت کا بھی احساس دلاتی ہیں۔ ایسا ہم نے بھی محسوس کیا کیونکہ ہمارا دو برس کا آسٹریلیا کا قیام اور وہاں کی روداد صبا جی کی تحاریر میں جا بجا بکھری پڑی ہے۔
حدیث مبارکہ ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہوتا ہے۔ ہمیں موتیے کی خوشبو اور میپل کے رنگ میں اپنا ہی عکس نظر آیا۔
انگریزی میں کہیں تو، اٹ از آ مسٹ ریڈ بک۔
نوٹ: کتاب کے تصویر ادیب آن لائن کے فیس بک پیج سے لی گئی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں