تھائی ایئر ویز سے
سفر کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو کہ کافی خوشگوار رہا۔ ہفتہ اور اتوار کی
درمیانی شب جناح انٹرنیشنل کے ہوائی اڈے سے جہاز نے اڑان بھری تو ہم نشستی پیٹی سے
بندھے سفر کی دعا پڑھ رہے تھے۔ ہماری منزل جنوب مشرقی چین کے صوبے فوجیان کا شہر
شیان تھی جو کہ بحیرہ چین میں آبنائے تائیوان سے لگا ہوا ہے۔سترہ سو مربع کلومیٹر
کے رقبہ پر پھیلا یہ شہر ، دو مرکزی جریروں اور خشکی کے ساتھ ساتھ چند ننھے منھے
جزائر پر مشتمل ہے۔ اسکے چھ قصبے ہیں، مرکزی حیثیت بڑے جزیرے کی ہے، جسے شیامن کے
نام سے پکارا جاتا ہے۔ انگریز سرکار نے بیسویں صدی کے آغاز تک اس پر قبضہ کئے رکھا
اور پہلی جنگ عظیم کے بعد یہاں سے واپس وطن سدھارا۔ سن 1912 سےیہ چین کے قبضہ میں آیا۔
بندرگاہ یہاں پہلے سے ہی تھی چینیوں نے اسے مزید ترقی دی اور آج شیان ایک مصروف
منڈی کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہوائی سفر براستہ بنکاک تھا جہاں ہم سویرے سات
بجے سے پیشتر اترے اور ہوائی اڈے پر ایک حلال ریسٹورانٹ سے ناشتہ کیا۔ اگلی پرواز
دس بجے کے قریب تھی سو بنکاک کا ہوائی اڈا تھا اور انٹرنیٹ کا ساتھ تھا۔ اگلی پرواز
میں نشستیں خالی تھیں لہٰذا ہم استراحت فرما کر با آسانی شیامن مقامی وقت کے مطابق
سہ پہر تین بجے اترے۔
ہمارے میزبان نے
ہوائی اڈے کے باہر ہمارا خیرمقدم کیا۔ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنےوالے ایک
مندوب بھی ہمارے نامعلوم ہم پرواز تھے اور
انہی میزبان کے منتظر تھے، لہذا ہم تینوں پوگاٹی میں پین پیسیفک ہوٹل پہنچے- ہوٹل
چار پانچ ستاورں والا تھا اور ستاروں سے کچھ قریب سترہویں منزل پر ہمیں کمرہ عنایت
فرمایا گیا۔ نہا دھو کر تازہ دم ہوئے اور گردوپیش سے آگاہی حاصل کی۔ ہوٹل میں ہی
ہمارے طعام کا بندوبست کیا گیا تھا، ناشتہ صبح سات بجے شروع ہوتا تھا، ظہرانہ بارہ
تا دو بجے تک اور عشائیہ کا آغاز شام چھ ہوتا تھا- کھانا بوفے انداز کا تھا، ہم
ملکوں ملکوں گھوم کر قابل خورد ونوش خوراک سے کافی حد تک واقفیت حاصل کر چکے ہیں
لہٰذا اب باآسانی چھانٹ کر اپنے کھانے کے لوزمات الگ کر لیتے ہیں۔ عشائیہ کرکے
کمرے میں آئے اور اگلے دن کی تیاری کر کے سوپڑے۔
اگلے دن میٹنگ تھی
جس میں معمول کی کاروائی بھگتائی اور دو دن کی میٹنگ کا کام ایک ہی دن میں مکمل کر
ڈالا۔ اس میں ہمارا ساتھ ہمارے میزبان اور دیگر مندوبین بھی دیتے ہیں اور ہم بنا کسی
اختلاف کے گھنٹوں صرف کر کے میٹنگ کے منٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دن کے اختتام پر ہمارے
میزبانوں نے ہمیں اگلے دن کے پروگرام سے آگاہ کیا۔
اگلے دن ناشتہ کے
فورا بعد ہمیں شیامن کے محکمہ موسمیات کے دورہ پر جانا تھا، ایک بڑی گاڑی میں لد
کر ہم قریبی دفتر پہنچے۔ محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے جو کہ
ایک پہاڑی پر واقع ہیں۔ اس کے اہم شعبہ جات میں ایک ٹاور شامل ہے جو کہ بیس منزلہ
ہے اور اس پر ایک بڑا ڈش انٹیانصب کیا گیا ہے جو موسمیاتی ڈیٹا سیارے سے وصول کرتا
ہے۔ مرکزی عمارت میں موسمیاتی مراکز ہیں اور ایک ٹی وی کا اسٹوڈیو بھی ہے۔ اس کے
علاوہ یہاں بالا فضائی وخلائی تحقیق کے آلات بھی ایک الگ عمارت میں نصب کئے گئے
ہیں۔ ہماری دلچسپی کا سامان آئنوسفیئر سے متعلق آلات تھے جن کا ہم نے بغور مشاہدہ
کیا اور دیگر مندوبین سے اس کے متعلق گفتگو میں حصہ لیا۔
تمام افراد نے
موسمیاتی مرکز کے ٹی وی اسٹودیو میں بطور خاص دلچسپی لی کیونکہ ہمارے میزبانوں نے
ہمیں نا صرف وہاں کی نیوزکاسٹر سے ملاوایا
بلکہ سب نے فردا فردا اس حسینہ کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ ساتھ ہی تمام
افراد نے ایک ایک کرکے ٹی وی کیمرے کے سامنے بھی تصاویر بنوائیں۔ یہ ایک منفرد
تجربہ تھا۔
آخر میں ہمیں ٹاور
کی سترہویں اور انیسویں منازل پر لے جایا گیا، جن پر بالترتیب ایک عجائب گھر اور
مشاہدہ گاہ ہیں۔ عجائب گھر میں شیامن شہر کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا تھا، دلچسپ
امر یہ تھا کہ تمام نودرات اور پرانی اشیاء اس منزل کے فرش میں تھیں اور اوپر شیشے
کا ایک اور فرش چہل قدمی کے لئے بنایا گیا تھا۔ گویا آپ کو ان نوادرات کے مشاہدہ
کے لئے اپنے جوتوں کی سمت دیکھنا پڑتا تھا۔
انیسویں منزل پر تین
سو ساٹھ کے زاویہ پر آپ شہر کا مشاہدہ کر سکتے تھے۔ بلند و بالا عمارات، بندرگاہ،
لمبے پل اور سمندر ہمارے شوق مشاہدہ کی
تسکین کر رہے تھے۔ عام تاثر ہے کہ کسی ملک کے بڑے شہر جدید ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے
شہروں میں سہولیات محدود ہوتی ہیں، لیکن شیامن کے درودیوار اس تاثر کی نفی کرتے
ہیں۔ یہ شہر گو کہ چھوٹا ہے مگر یہاں دنیا کی تمام سہولیات بدرجہ اتم پائی جاتی
ہیں اور چینیوں نے بیجنگ شہر جیسی بلند وبالا عمارات اس جزیرے پر بھی تعمیر کر
رکھی ہیں۔
شہر کے خوبصورت
مشاہدہ کے بعد ہمیں ظہرانے کے لئے واپس ہوٹل پہنچایا گیا اور تاکید کی گئی کہ کھانے کے بعد جامعہ شیامن کے لئے
تیار رہیں۔ ڈائننگ ہال میں غیر حلال اشیاء الگ کرنے کےعمل سے گزرے اورپیٹ پوجا کے
بعد وین میں جا بیٹھے۔ اعلان ہوا کہ شیامن یونیورسٹی ایک رومانوی جامعہ ہے، کیونکہ
یہاں گل و بلبل کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اس لئے علم کے متلاشی اس کے ماحول کے
زیر اثر خود بھی پھول و بھنورے بن جاتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈگری کے ساتھ
نکاح نامہ اضافی ہاتھ آتا ہے۔
لیکن ہم اس گلستان
کے دورے سے محروم رہے، شیامن شہر کی طویل سرنگوں سے گزر کر جب ہم وہاں پہنچے تو
جامعہ کے مرکزی دروازے پر مامور سنتری نے ہمیں ٹھینگا دکھاتے ہوئے کہا کہ آج کے
زائرین کی جامعہ یاترا کی گنتی پوری ہوچکی ہے، آپ کو اگر اتنا ہی شوق تماشہ ہے تو
کل تشریف لے آئیے گا۔
اس کوچے سے بے آبرو
ہوکر نکلے تو ساحل کی راہ لی اور تپتی دوپہر میں سمندر کا نظارہ کیا۔ ہمارے میزبان
بضد تھے کہ وہ کوئی نہ کوئی جامعہ تو ہمیں ضرور دکھائیں گے، چناچہ ہم جزیرے سے
خشکی کے سفر پر روانہ ہوئے اور ایک نہایت ہی طویل پل بنام شیامن برج پار کرکے
جامعہ ہوُاکُن پہنچے۔ یہ یونیورسٹی بطور خاص بحریہ سے متعلق علوم پر ڈگری دیتی ہے
جسے اس وقت کے ایک سمندری سوداگر یعنی نیول مرچنٹ نے تعمیر کرایا تھا اور بعد میں
حکومتی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ ان صاحب کا مجسمہ یہاں ایستادہ ہے۔
جامعہ کی سیر کے بعد
ہم ایک نہر کے کنارے پہنچے، یہ نہر سمندر کے پانی کی گزرگاہ کے طور پر بنائی گئی
ہے، اس کے ایک کنارے پر تعلیمی اداروں کی ایک طویل قطار ہے، جس میں اسکول سے لے کر
یونیورسٹی، ہنر مندی کے کالج وغیرہ سب شامل ہیں اور اس مجموعہ کو ایجوکیشن ولیج کا
نام دیا گیا ہے۔ نہر کے دوسرے کنارے پر سڑک ہے جس پر آپ گاڑی چلاتے ہوئے نہر کا
دیدار کر سکتے ہیں، دل چاہے تو گاڑی پارک کر کے چہل قدمی فرما لیں اور نہر والے پل
پر بیٹھ کر اپنے ماہی کا انتظار کرتے ہوئے گانا گائیں یا خوانچہ فروشوں کے بھٹوں،
آئسکریم اور دیگر اشیائے خوردونوش سے لطف اٹھائیں۔
ہوٹل واپسی کے سفر
کے دوران ہم نے فرمائش کی کہ ہمیں کمپیئوٹر مارکیٹ پہنچا دیا جائے۔ وہاں سے ہم
ہوٹل خود پہنچ جائیں گے۔ ہماری خواہش کے مطابق ہمیں بائی ناو نامی مارکیٹ پر اتار
دیا گیا۔ہماری ضرورت کی شے ہمیں اس مارکیٹ میں نہ ملی مگر ایک دوکان والے نے ہمیں
ہماری کافی مدد کی ہم نے انھیں بتایا کہ ہم پاکستان سے ہیں تو وہ اس پر کافی خوش
ہوئے اور ہم سے لکھ کر بات چیت کی۔ انکا نام مکمل چینی سا تھا مگر ہمیں شینگ یاد
رہ گیا۔ شینگ صاحب چینی زبان میں لکھتے اور انٹرنیٹ پر اس کا انگریزی ترجمہ کر کے
ہمیں پڑھوا دیتے ہم انگریزی میں لکھتے اور وہ اسکا ترجمہ اپنی دیومالائی زبان میں
کر ڈالتے۔ اس بندہ خدا نے ہمیں پانی کی بوتل خرید کر پانی پیش کیا اور جب ہم نے ان
سے رخصت چاہی تو ہوٹل کا پتہ پوچھنے لگے، ہم نے ہوٹل کا چابی والا کارڈ انھیں
دکھایا تو انھوں نے اپنے موبائل سے 'اُوبر' کے ذریعے ٹیکسی بک کرائی اور فرمایا کہ
کرایہ ہمارے اکاونٹ سے کاٹ لیا گیا ہے لہذا کرایہ ادا نہ کیجیئے گا، ہم نے کہا کہ
تم ہم سے کرایہ لے لو تو انھوں نے منع کردیا اس پر ہم نے کہا اللہ کے بندے تم نے
ہم پر احسان کیا، اس کا بندلہ ہم کیسے چکائیں گے۔ کہنے لگے کہ اگر آپ کا کوئی
جاننے والا شیامن آئے اور اسے کمپیئوٹر سے متعلق کچھ خریدنا ہو تو میری دکان کا
پتہ بتا دیجیئے گا، احسان کا بدلہ اتر ہو جائے گا۔ ان کے ان الفاظ نے ہماری چینیوں
کے ساتھ دوستی کے جذبے کو مزید پختہ کیا اور ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ وطن جانے سے
پیشتر ہم انکی دوکان پر دوبارہ ضرور آئیں گے۔ہوٹل پہنچے تو مغرب ہو چکی تھی اور
عشائیہ کا وقت ہونے والا تھا۔عشائیہ میں اندازہ ہوا کہ ہمارے میزبانوں کے مہمان
بڑھ چکے ہیں، کیونکہ بنگلہ دیش، ایران
اور ترکی کے احباب تشریف لا چکے تھے۔
اگلی صبح ٹریننگ کا
دن تھا، میٹنگ میں تو محض نو افراد تھے جن میں چین کے ساتھ ساتھ، تھائی لینڈ اور
پاکستان کی شمولیت تھی، مگر ٹریننگ میں بیس افراد شامل تھے۔ ان میں بڑی تعداد چینی
دوستوں کی تھی جنھوں نے سوفٹ ویئر بنائے تھے اور ان کی سکھلائی کے لئے دو دن مختص
کئے گئے تھے۔ پہلے دن ان سوفٹ ویئرز کا تعارف پیش کیا گیا۔ درمیان میں کافی کے دو
وقفے بھی دیئے گئے۔ اس دن ہوٹل سے باہر نہ نکل سکے اور اچھے بچوں کی طرح پڑھائی
کرتے رہے۔
اگلا پورا دن بھی
تربیت پر مشتمل تھا، مگر ہم سب اچھے طالب علم ثابت ہوئے اور جلد ہی سوفٹ ویئر
چلانا سیکھ لئے تو اساتذہ نے ہمیں آدھے دن کی چھٹی دے دی۔ ظہرانے کے بعد ترکی سے
آئے ہوئے مندوب جن کا نام علی الپ تھا کے ساتھ آوارہ گردی کے لئے نکل پڑے۔ علی
انقرہ کی ایک جامعہ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں اور پہلی دفعہ ملک سے باہر آئے
تھے۔ کیونکہ آج کے دور کے جوان ہیں تو ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کی معلومات اپنی جیب
میں آئی فون کی صورت میں رکھتے ہیں۔ انکا
آئی فون ترکی کے موبائل نمبر کے ساتھ چین میں بھی چل رہا تھا اور گوگل فیس بک کہ
جو چین میں کام نہیں کرتے، ان کے موبائل پر سب نشر ہو رہے تھے۔
ہوٹل سے نکل کر ہم
نے ٹیکسی لی اور ایس ایم لائف اسٹائل نامی مارکیٹ پہنچے۔ جہاں ہم نے جی بھر کے
ونڈو شاپنگ کی اور اسٹار بکس سے کافی پی۔ بچوں کے لئے کچھ تحائف لئے اور شیامن کے
لوگوں کو دیکھا کئے۔ وہاں ایک ایپل اسٹور بھی تھا جسکا مینیجر ایک کینیڈیائی گورا
تھا اور اہل زبان تھا، چین میں شائستہ انگریزی خال خال ہی سننے کو ملتی ہے، اس لئے
ہم نے اس سے خوب گپ شپ کی۔ اسٹور بہت بڑا تھا اور اس میں فرنیچر نہایت سادہ رکھا
گیا تھا۔ دیوار پر بیس فٹ سے بھی بڑی اسکرین لگی تھی اور اسٹور کے سیلز مین اور
گرلز بڑی مستعدی سے گاہکوں کا سواگت کر رہے تھے۔
واپسی پر ہم نے آدھا
راستہ شوق شوق میں پیدل طے کیا اور جب بری طرح تھک گئے تو ٹیکسی میں بیٹھ کر ہوٹل
پہنچے، عشائیہ کے بعد سو پڑے، کیونکہ اگلے دن ہمیں ایک قریبی چھوٹے جزیرے کی سیر
کو جانا تھا جس کا انتطام ہمارے میزبانوں نے کیا تھا۔
کشتی اگر صراط
مستقیم پر چلے تو پانچ منٹ میں آپ سامنے والے جزیرے' گولانگیو' پر اتر سکتے ہیں جو
جزیرہ شیامن اور مرکزی بری فوجیان صوبے کے درمیان واقع ہے۔لیکن سیاحوں کے لئے یہ
سفر بیس منٹوں کا ہے کیونکہ انھیں سیر کرانا مقصود ہے۔یہ چھوٹا سا بحری سفر ایک
بیڑی یعنی فیری میں کیا جاتا ہے جس میں چارسو کے لگ بھگ مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔
ناشتہ کے بعد ایک
چینی گائیڈ نے ہمیں ہوٹل سے ایک بس میں سوار کرایا اور اپنی تقریر شروع کردی، اس
کا چینی نام کچھ اور تھا مگر اپنی پسند سے اس نے اپنا نام مائیکل، باسکٹ بال
کےایک کھلاڑی سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔اس
نے ہمیں سیر کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ گولانگیو کو ایک صدی قبل انگریز سرکار کے
تسلط سے آزاد کرایا گیا تھا۔ سلطنت برطانیہ کے سورج کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں
کہ یہ کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، اس کے باوجود تہمت ہم پر ہے کہ ہمارے آباواجداد نے
تلوار کے زور پراپنا مذہب پھیلایا۔
اس کے مطابق ہمیں اپنے اپنے پاسپورٹ ٹکٹ خریدنے
کے لئے دکھانا ضروری تھے۔ جب ہم لانچ کے اڈے کی جانب محو سفر تھے تو ذہن میں منوڑا
کے لئے جانے والی لانچ کا تصور تھا جو کیماڑی سے چلتی ہیں، مگر وہاں پہنچ کر جب ہم
نے فیری ٹرمینل دیکھا تو وہ سڈنی کے سرکولرکی سے کسی طور کم نہ تھا، چینیوں نے
اپنے ملک کی ہر چیز کو خوب سجا سنوار کر رکھا ہے اوریہ سب کے سب کم از کم آدھے مومن صفائی کی وجہ سے ہیں۔فیری کا سفر خاصا ہموار
تھا، اس میں حفاظتی بند باندھنے کا مظاہرہ ہوائی سفر کی طرح کیا گیا۔ ایک بڑے ٹی
وی پر گولانگیو سے متعلق دستاویزی فلم چل رہی تھی، ایک بڑے پیانو پر دھن بجائی گئی، یہ سب کچھ چینی زبان میں تھا۔
البتہ موسیقی کی زبان اپنی ہی تھی۔ اس پیانو کی منطق بعد میں سمجھ آئی۔
چہل قدمی کا آغاز
لانچ سے اترتے ہی ہو گیا تھا، پہلا پڑاو ایک ساحلی مقام تھا کہ جس پے غار نما پتھر
اُگے ہوئے تھے۔ اس سے اوپر چلے تو ایک خوبصورت باغ میں پہنچے جس میں پتھروں سے راہ
داریاں اور جھروکے نما گھر بنے ہوئے تھے، ساتھ ہی تالاب بھی تھا جس میں رنگ برنگی
ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ یہاں کچھ دیر سستانے کو رکے اور پھر مزید اونچائی کا
سفر شروع ہوا۔اب ہمارے سامنے ایک دومنزلہ عمارت تھی جس کے مرکزی دروزے سے داخل
ہوتے ہی ہم ایک بہت بڑے ہال میں آگئِے جس میں دنیا جہاں سے اکھٹا کردہ سو کے قریب
پیانوسجائے گئے تھے۔ ہمیں بیاتا گیا کہ یہ جزیرہ ان پیانوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے،
اس پیانو کے عجائب گھر کو سن دو ہزار ایک میں عوام کے لئے کھولا گیا تھا اور یہ
تمام پیانو ایک مقامی پیانو نواز ہُویویی نے جمع کئے تھے۔اب ہمیں فیری میں پیانو
بجائے جانے کی منطق سمجھ آگئی۔
ان کا درشن کرنے کے
بعد ہم نے پھر سے اپنی آوارہ گردی کا آغاز کیا۔ واضح رہے کہ اس جزیرے کی قدرتی
حیات یعنی جانوروں اور پودوں کا خیال رکھنے کی خاطر حکومت نے باقاعدہ ایک محکمہ
تشکیل دے رکھا ہے اور آپ یہاں کسی قسم کی حیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے،
حتٰی کہ درخت کاٹنا بھی منع ہے، اگر آندھی طوفان کی وجہ سے کوئی درخت گر بھی جائے
تو بھی وہ حکومت کی ملکیت رہتا ہےاور اسکی لکڑی یا شاخیں وغیرہ لے جانا جرم ہے۔
ایسے ہی چند درختوں کے تنے ہم نے لب سڑک دیکھے جنھیں محفوظ کرلیا گیا تھا۔ راستے میں اسی جزیرے کے درختوں پر اُگے پھل فروخت
کئے جا رہے تھے، ہم نے بھی تازہ شہتوت خرید کر کھائے، ہمارے میزبان ہمیں کہنے لگے
کہ ان کودھو کر کھایئے گا، مگر ہم اپنے شہر میں ریڑھی والے سے انڈے والا بن کباب
خریدتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ بن کباب والے نے ہاتھ دھوئے ہیں یا نہیں تو یہ
اَن دھُلے شہتوت ہمارا کیا بگاڑ لیتے۔ شہتوت بلاشبہ بہت میٹھے تھے اور ان کو کھانے
سے ہماری انگلیاں رنگدار اور چپچپی ہو گئی تھیں۔
اب ہم ایک بازار سے
گزر رہے تھے، راستے کے دونوں اطراف مختلف اشیاء کی دوکانیں تھیں۔ زیادہ تر دوکانوں
پر خشک و تر سمندری حیات فروخت کی جارہی تھیں۔ آپ کسی بھی آبی مخلوق کا انتخاب
کریں، دوکاندار آپ کے سامنے اسے پانی سے نکالے گا اور حسب منشا کچا یا پکا کر آپ
کو پیش کر دے گا۔ رہی بات خشک حالت کی تو ان تمام سمندری حیات کو مومی لفافوں میں
ملفوف کیا گیا تھا جن سے آپ حسب ذائقہ لطف اٹھا سکتے تھے۔
چلتے چلتے ہم ایک
پرانی انگریزی طرز کی حویلی میں آن پہنچے، یہاں نان بائی 'پائی' بناتے ہیں۔ یہ
حویلی ایک صدی پرانی تھی جو اب ایک جدید مارکیٹ بن چکی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ شہرت
تو پائی تھی، مگر یہاں خشک کردہ پھل اور سمندری حیات کے پیکٹ بھی دستیاب تھے، اس
کے علاوہ سچے موتیوں کے ہار اور زیورات بھی سیاحوں کی دلچسپی کا محور تھے، اوپری
منزل پر میوزیکل باکسز بھی فروخت کئے جارہے تھے۔
خاظرین کو دیکھتے ہی
وہاں موجود حسینائیں انھیں اسٹول پر بیٹھنے کی دعوت دیتی ہیں اور گرم یا سرد قہوہ
پیش کرتی ہیں، ساتھ ہی میزوں پر سجی چھوٹی چھوٹی خانے والی پلاسٹک کی رکابیوں میں
مختلف خشک خوراک کھانے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یہ نفاست سے کاٹے گئے پھلوں اور آبی
حیات کے سوکھے ٹکڑے ہوتے ہیں جنھیں کھانے کے لئے خلال یعنی تیلیاں موجود ہوتی ہیں۔
آپ مفت کا قہوہ پیئیں اور ساتھ ہی پھل، جانور وغیرہ کے ٹکڑے حسب ذوق و پسند اپنے
معدے میں انڈیلتے جائیں۔ اس دوران وہ حسینائیں پائی اورپیش کردہ تمام خوراک کے
پیکٹ لاکر آپ کے سامنے رکھتی چلی جاتی ہیں اور آپ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی
ان میں سے ایک آدھ پیکٹ خرید لیتے ہیں۔ ہم نے مفت کا قہوہ تو خوب پیا اور خشک
خوراک میں سے صرف پھلوں پر ہاتھ صاف کیا، جس میں آم اور کیلے کے ٹکڑوں کی تعداد
زیادہ تھی، البتہ آبی حیات والے ٹکڑوں سے خود کو محفوظ رکھا کہ کہیں ہم کسی سانپ
یا دریائی گھوڑے کے جسموں کے کچھ حصے اپنے خون میں شامل نہ کر لیں۔
اپنی ایک میزبان
پروفیسر خاتون کی مدد سے ہم نے موتیوں کے زیورات بھی پرکھے اور ان کے ایما پر
چھوٹی موٹی خریداری کر ڈالی، کیونکہ ایک تو موتی سچے تھے اور دوسرا انکی قیمت خاصی
معقول تھی۔ ہماری دیکھا دیکھی دیگر مندوبین نے بھی موتیوں کے ہار وغیرہ خریدے۔
یہاں سے نکل کر پھر
پیدل مارچ کا آغاز کیا اور مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے ونڈو شاپنگ کی۔ ایک بڑے
چوک پر نئے شادی شدہ جوڑے بھری دوپہر میں اپنی شادی کے البم کے لئے فوٹو سیشنز
کروا رہے تھے، دولہا حضرات تو خیر پینٹ کوٹ میں ملبوس تھے مگر شاباش ہے ان چینی
دولہنوں پر جو اپنے وزن سے کہیں زیادہ کی سفید فراک یا غرارہ سنبھالے کیمرے کے
سامنے پوز دئیے جا رہی تھیں۔ یہ جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتیں تو فراک کے کئی گز
کا گھیر لپیٹ کر کسی بطخ کی مانند پھدکتی پھرتیں۔ فوٹو سیشن کے وقت ان کے لباس کا
یہی پھیلاو ہوا میں لہرانے کے کئی انداز بنانے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور
ماہر عکسبند عین اس وقت کیمرہ کلک کرتا جب ہوا میں اڑتا جاتا وہ سفید کپڑا ریشم
کا۔
اسکے بعد ہم کھو
گئے، ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ساتھ ترکی مندوب تھے اور ہم دونوں باقی لوگوں سے کچھ
پیچھے چل رہے تھے، ایک چوک پر پہنچ کر باقی تمام افراد ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو
گئے۔ کافی تلاش کے بعد ہم انھیں قریبی فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹ میں ڈھونڈنے میں کامیاب
ہوئے۔ پتہ چلا کہ ظہرانے کےلئے سب نے وہاں رکنا مناسب سمجھا اور ہمارا انتظار کئے
بغیر مرغی کا آرڈر بھی دے ڈالا کہ انکی معلومات کے مطابق مرغی تو ہمارے لئے حلال
تھی اور لحم خنزیر حرام۔ اب ہم حلال ہونے اور حلال کرنے کا فرق انھیں اسوقت نہیں
سمجھا سکتے تھے، لہذا صبر شکر کر کےآلو کے چپس اور کولڈ ڈرنک سے کام چلایا۔
ظہرانے کے بعد ہمیں
آبی حیات دکھانے کی خاطر ایک مچھلی گھر لے جایا گیا۔ اسے مچھلی گھر کہنا زیادتی
ہوگی۔ ان لوگوں نے اس کا نام اوشنیریئم رکھا ہوا تھا اوراس میں کوئی مبالغہ بھی
نہیں تھا۔گولڈفش سے لے کر کیچھوے اور جیلی فش سے لے کر پینگوئن تک یہاں موجود تھے،
جنھیں کافی حد تک ان کے قدرتی ماحول میں رکھا گیا تھا۔سب سے زیادہ دلچسپی کا مظہر،
شارک کا ٹھکانہ تھا جو ہمارے سروں پر تھا اور ہم ایک سرنگ میں چل رہے تھے۔ گو کہ
ایسا ہی منظر ہم سڈنی میں بھی دیکھ چکے تھے لیکن چین کی آبادی کے مصداق یہاں ہر شے
بڑی اور وافر مقدار و تعداد میں پائی جاتی ہے لہذا یہ سرنگ بھی سڈنی کے مچھلی گھر
سے کہیں زیادہ طویل تھی۔
جب ہم اس مچھلی گھر
کی سیر کر کے باہر نکلے تو بری طرح تھک چکے تھے لہذا سمندر کے ساتھ بنی دیوار پر
سستانے کے لئے آن بیٹھے یہ دیوار ہمارے سی ویو جیسی تھی، لیکن صفائی قابل دید تھی،
دیوار کے ساتھ باغ بنایا گیا تھا، جس کے کنارے مختلف اشیاء کے خوانچہ فروش موجود
تھے۔ ان میں قابل دید ایک ضعیف خاتون تھیں جو وہیل چیئر پر بیٹھی آئس بکس میں رکھی
آئس کریم بیچ رہی تھیں۔ اس بات سے چینی قوم
کے محنتی اور خوددار ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
شام ڈھلنے کے قریب
ہم فیری میں سوار ہونے کے لئے مسافروں کی قطار میں آ لگے۔ واپسی کا سفر ہم نے فیری
میں کھڑے ہو کیا کیونکہ مسافروں کی تعداد زیادہ تھی اور فیری میں نشستیں کم تھیں۔
کھڑے رہنے کی وجہ سے ہم سمندر سے زیادہ لطف اٹھا سکے کہ پانی کے ہلکے ہلکے چھینٹے اور
سمندری ہوا ہماری تھکن میں کمی کر رہے تھے۔
فیری اسٹیشن پر
ہماری بس موجود تھی جس میں سوار ہو کر ہم ہوٹل پہنچے۔ عشائیہ جلد کر لیا اور اسکے
بعد کمرے میں سکونت اختیار کی۔
اگلے دن ہماری وطن
واپسی تھی، سکون سے ناشتہ کیا اور پھر ترکی دوست علی الپ کے ساتھ بائی ناو کی راہ
لی کیونکہ ہم نےجناب شینگ سے وعدہ کیا تھا کہ انکی کمپیوٹر کی دوکان پر دوبارہ آئیں گے۔ وہ صاھب ہمیں وہاں نہ ملے
اور ہم ونڈوشاپنگ کر کے واپس ہوٹل آگئے، ہماری پرواز کا وقت دوپہر میں تھا، یوں
ظہرانہ جلد کیا اور میزبانوں کی جانب سے مہیا کردہ ٹیکسی میں ہوائی اڈہ پہنچے،
واپسی کے سفر میں تھائی لینڈ کے مندوب پھر ہمارے ساتھ تھے، انکا سفر بنکاک تک کا
تھا جبکہ ہم نے وہاں سے کراچی کی پرواز بھرنا تھی۔
واپسی کا سفر پر
سکون گزرا، مغرب کے وقت بنکاک پہنچے اور اگلی پرواز کے لئے بھاگم بھاگ روانگی کے
مقام تک آئے، کراچی، پاکستان کے معیاری وقت کے
مطابق رات دس بجے پہنچے۔
نوٹ: یہ سفر ماہ اکتوبر سن دو ہزار سولہ میں کیا گیا تھا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں