زندگی حالتِ گمنامی میں جو بسر کرتے ہیں
قیدِ دوراں کی رہائی سےبسر کرتے ہیں
زینت محفل کی ہوجانا کچھ بڑی بات نہیں
جھونکے ہوا کے بھی شجر کو ثمر کرتے ہیں
طالبِ مسکراہٹ سے فقط عرض ہے اتنی
ہم،چشمِ نم سے حالِ دل نشر کرتے ہیں
بکھرنا ذات کا اپنی، قابلِ ماتم ہی سہی
اہلِ دل ہر غم پر، صبردرصبر کرتے ہیں
تکمیلِ حصولِ مقصد حاصلِ زندگی جانو
پختہ حوصلے ہی دیوار میں در کرتے ہیں
ہمنشیں چھوڑ دے گر ہاتھ، نہ دل ہاراپنا
تنہا ذات کو اپنی، رب کی نذر کرتے ہیں
نام اسکا نہ پکاریں گے سرِ عام کبھی
عہد نبھا نہ سکیں گے، پر کرتے ہیں
رنج و غم میر نے بھی دیوان کرڈالےکتنے
ہم طریقِ میر کی دل سےقدر کرتے ہیں
Bikharna zaat ka apni, qabil-e-matam he sahi...
جواب دیںحذف کریںWah wah .. bht khoob.. !
wah wah!! sir ap to chah gaye=D
جواب دیںحذف کریںsir bohat khoob
جواب دیںحذف کریںBohat Khoob...:)
جواب دیںحذف کریںAyaz Bhai kya hi baat hai. Balike ek adad sher main apne Facebook status k liye udhaar le raha hun. Bohat aala.
جواب دیںحذف کریںwah wah
جواب دیںحذف کریںنام اسکا نہ پکاریں گے سرِ عام کبھی