منگل، 2 فروری، 2016

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔
حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور معاشی اعتبار سے مستحق طلبہ و طالبات کو یہ وظائف دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سن ۲۰۰۳ کے آخری ایام کا ذکر ہے کہ مسز گلزار کے پاس فاونڈیشن سے خط آیا جس میں ان وظاِئف کی تفصیل تھی اور ان سے سفارشات طلب کی گئی تھیں کہ متذکرہ وظائف کس طور پر دیئے جائیں؟ ہم ان دنوں کالج اور اسکول میں معروضی سوالات پر مشتمل کوئز کرانے میں ماہر ہو چکے تھے اور مسسز گلزار نے ہمیں داخلہ امتحان اور معروضی مقابلوں کا انچارج بنا دیا تھا۔
سن ۱۹۹۸ میں جب ہم ہمدرد میں استاد ہوئے تھے کالج میں داخلے محض امیدوار کا روبرو انٹرویو لینے پر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہمدرد میں قدم جمنے کے بعد، محترم طارق ظفر اور محترم حسن احمر کے مشورہ پر یہ ہم ہی تھے جنھوں نے مسسزگلزار سے ایک فیلڈ ٹرپ کے دوران یہ بات منوائی کہ آئندہ کالج کے داخلے تحریری امتحان کے بغیر نہیں ہوں گے۔
پنجابی کی کہاوت ہے کہ 'جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے'، سو مسسز گلزار نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی کہ تحریری امتحان کا مواد تیار کرو۔ ہم نے ہر مضمون کے استاد سے معروضی سوالات تیار کروائے اور انھیں کمپیوٹر پر منتقل  کر کےان کے جوابات کی الگ کنجی یعنی 'کی' وضع کی۔ یہ ساری ڈیزائنگ ہماری تھی۔ عزیزم صالح جتوئی سے ہم نے ایک ٹرانسیرنسی بنوائی جو جوابات کے نشانات پر مشتمل تھی کہ اسکی مدد سے جوابی پرچہ میں الف، ب، ج، د، پر لگائے گئے امیدوار کے نشانات با آسانی جانچے جا سکتے تھے اور محض چند لمحوں میں صحیح جوابات کی گنتی ہو سکتی تھی۔
اس ساری تفصیل کے بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں اول یہ کہ آئندہ کے بلاگز کا پس منظر واضح ہو سکے اور دوسرا یہ کہ ہم پندرہ سولہ برس پہلے کی بات کر رہے ہیں کہ جب ہمدرد اسکول میں کمپیوٹر گنتی کے تھے اور انٹرنیٹ ندارد تھا۔ مزید یہ کہ کالج کی عمر تین چار برس تھی سو جو نظام وضح کیا جا رہا تھا وہ عدم سے وجود پا رہا تھا اور اس میں مسسز گلزار کا ہم پر اعتبار شامل تھا۔
جب یہ سارا عمل پایہ تکمیل تک پہنچا تو ہم نے داخلہ فارمز کی بھی فہرست تیار کی اور امیدواران کی تعداد اور منتخب کردہ مضامین کے مطابق پرچوں کی کاپیاں تیار کروائیں اور تحریری امتحان کے مکمل لوازمات کے ساتھ امتحان منعقد کیا۔ ممتحن کی ڈیوٹیز اور امتحانی ہالز کے نمبر تک ہم نے خود ترتیب دیئے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نتیجہ اسی دن مرتب دیا۔
اس ابتدائی معروضی طرز کے امتحان کی کامیابی کے بعد مسسز گلزار نے ہمیں زبانی اور معاشی داد کےساتھ ساتھ یہ ذمہ داری مستقل طور پر سونپ دی۔ ہم تحریری معروضی  کوئز کرانے کے انچارج مقرر کر دیئے گئے اور اس کام کا ماہانہ معاوضہ ہماری تنخواہ میں شامل کردیا گیا۔ اس وقت ہم سمیت تمام اساتذہ تنخواہ کے ہندسوں کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ کام کرنا چاہتے تھے یہی وہ خلوص تھا کہ جو ہمدرد کی بنیادوں میں حکیم صاحب کے ہاتھوں بھرا تھا۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو ملازم نہیں سمجھتے تھے کیونکہ مسسز گلزار تمام اساتذہ کو ایک کنبہ کی مانند رکھتی تھیں۔ اسلئے کوئی نوکری نہیں کرتا تھا بلکہ دل سے کام کرتا تھا۔
آنے والے برسوں میں داخلہ امتحان کے علاوہ ہر جماعت اور کلیہ کے مطابق معروضی طرز امتحان کے الگ الگ پرچے تخلیق کر لئے گئے اور ان کا تمام ریکارڈ ترتیب دیا گیا، حتٰی کہ ہر پرچے کا الگ نمبر شمار اس پر درج ہوتا تاکہ کوئی مواد ادھر ادھر نہ ہو سکے۔

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اگلے بلاگ کا انتظار فرمائیں۔

جمعہ، 27 نومبر، 2015

اشتیاق احمد کے نام

 از کراچی
27 نومبر 2015
پیارے انکل اشتیاق احمد
اسلام علیکم،
امید ہے کہ آپ جنت میں ہونگے، دل چاہا کہ خراج عقیدت کے طور پر آپ پر ایک مضمون لکھوں، مگر پھر سوچا کہ کیوں نا آپ کو براہ راست ہی مخاطب کر لیا جائے۔ آپ کی حیات تو سسپنس سے بھرپور کہانیوں پر مشتمل رہی لیکن آپکی وفات بھی آپ کے ناولز کے کیسسز کی طرح تفتیش کا شکار ہو گئی۔
سترہ نومبر کو بورڈنگ کرا کے  آپ کراچی کے ہوائی اڈے سے ملکِ عدم کے سفر پر چل دیئے اور ہمارے جیسے بہت سے قارئین کو سوگوار چھوڑ گئے۔ 
'دھت تیری کی'، ' یہ تو کسی ناول کا نا م ہو سکتا ہے'، 'جلتی ہے میری جوتی' جیسے تکیہ کلام اور ان کے ادا کرنے والے کردار، محمود، فاروق اور فرزانہ یتیم ہوگئے ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ یتیم کسی کاروباری مصنف کے ہتھے نہ چڑھ جائیں اور وہ انھیں اپنی کمائی کا دھندہ بنا ڈالے۔
آپ کے لکھے ناولز کے ذریعہ ناشرین نے تو خوب دولت کمائی اور آپ محض دال روٹی پر ہی رہے ۔ کیا کریں کہ آپ کی پیدائش آپ کے اختیار میں نہ تھی ورنہ اگر آپ فرنگیوں کے ملک میں ہوتے توہر طور سے جے کے رولنگ کے ہم پلہ ہوتے۔
ہماری آپ سے ملاقات کی خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی، مگرہمیں یہ شرف ضرور حاصل ہے کہ آپ ہمارے لکھے خطوط کا جواب دیتے تھے۔
یہ سن چھیاسی، ستاسی کا ذکر ہے کہ اسکول میں ہم سے سینیئر طلبہ آپ کے ناول پڑھا کرتے تھے ایک آدھ بار ان سے مستعار لے کر آپ کے ناول پڑھنا شروع کئے تو پھر انکا چسکا ہی پڑ گیا۔
اس زمانے میں ہمیں روزانہ ایک اٹھنی جیب خرچ کے لئے ملا کرتی تھی اور محلے کی لائبریری سے آپ کے ناول ایک روپے یومیہ کرائے پر ملا کرتے تھے. ہم اور ہمارے برادر خرد اپنے جیب خرچ کے پیسے ملا کر ہر نیا آنے والا ناول لائبریری سے لے کر پڑھتے اور آئندہ آنے والے ناولزکا انتظار کرتے۔
آپکی 'دو باتیں' اور'ناول پڑھنے سے پہلے'سے لے کر اگلے ناول کی جھلکیاں ایک ہی نشست میں پڑھنے کے ہم نے کئی ریکارڈ قائم کیے. مزہ تب آتا جب آپ کا لکھا کوئی خاص نمبر شائع ہوتااور ہم موسم گرما کی تعطیلات میں رات دیر تک جاگ کر اسے ختم کرنے کی تگ و دو کرتے۔
آپ کے کرداروں کی نوک جھونک اور محاورات کی جنگ نے ہماری اردو خوب نکھاری اور ہم اسکول میں نہایت روانی کے ساتھ اردو کی بلند خوانی کرتے تھے، واضح رہے کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کچھ لکھنے کی عادت ہوئی تو آپ کا اندازِ تحریر ہمارے سامنے تھا- آج اگر ہم تھوڑا بہت لکھ سکتے ہیں تو اسکی وجہ بھی یہی ہے آپ کے جملوں کی روانی نے ہمیں اس جانب راغب کیا۔
یاد آیا آپ نے چاند ستارے کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا تھا، تب تک ہمارا جیب خرچ بڑھ چکا تھا اور ہم ہر ماہ یہ رسالہ خریدا کرتے تھے۔ مگر آپکا یہ رسالہ شاید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا اور جلد ہی آپ نے اسے بند کر دیا.شیخ غلام علی اینڈ سنز سے لے کر اٹلانٹس پبلیکیشنز تک آپ لکھاری ہی رہے اور کاروباری نہ بن سکے۔
ہمیں اشتیاق پبلیکیشنز کا ساندہ کلاں والا پتہ زبانی یاد ہوگیا تھا جو آپ کے ناولز میں درج ہوتا تھا اور اس پر ہم آپکوخط لکھتے تھے۔
جاسوسی اور سسپنس سے بھرپور ناول لکھنا تو آپ کی شخصیت کا ایک پہلو تھا اور اپنی تحریروں میں آپ ہمیں حالات حاضرہ سے بھی روشناس کرواتے تھے. اس کے ساتھ ساتھ، ختم نبوت کے عقیدہ کو نوجوان نسل میں واضح کرنے کا جو کام آپ نے کیا وہ آپ کے لئے تا قیامت صدقہ جاریہ رہے گا۔ اسلام کے بنیادی عقائد بشمول عقیدہ توحید کے بارے میں، ہم آپ کے ناولز کے آخر میں دیئے گئے اوراق سے استفادہ کرتے۔
آپ کے ناولز کی طرح ہمدرد کا نونہال بھی ہم باقاعدگی سے پڑھتے تھے، آپ کی کہانیاں اس میں شائع ہونے لگیں بلکہ ماضی قریب سے تو آپ ہر ماہ ایک کہانی اس میں لکھ رہے تھے۔ آج جب ہمارے بچے نونہال پڑھتے ہیں تو آپ کی کہانی دیکھ کر ہم انھیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ابھی پچھلے ماہ صاحبزادی اپنے اسکول کی لائیبریری سے آپ کا ایک ناول پہلی بار پڑھنے کو لائیں تو ہم نے انھیں آپکے تخلیق کردہ کرداروں کے بارے میں بتایا۔ اس پرصاحبزادے بھی آپ کے ناول پڑھنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ محض دس برس کے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ وہ کے ناولز کی روانی کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ صاحبزادی جو کہ بارہ برس کی ہیں ، نے خوب سمجھ کر آپ کے ناولز پڑھنا شروع کردیئے ہیں۔ حالیہ منعقد ہونے والے کتب میلے سے ہم نے انھیں  آپ کے ناولز خرید کر دیئے اور آج کل وہ انھیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے پہلے ہم نے انھیں پڑھا، ناول گو کہ پرانے تھے اور ہمارے زیرِ مطالعہ رہ چکے تھے مگر دوبارہ پڑھ کر بھی ہم بور نہیں ہوئے, ان سطور کے منظر عام پر آنے تک ہماری اولاد متذکرہ ناولز پڑھ چکی ہے۔
انکل آپ اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں انسان کے اعمال ہی اسکے کام آتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ اللہ آپ کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑائے گا، کیونکہ آپ نے اپنے قلم کے ذریعہ ہم لوگوں میں خوشیاں بانٹیں ہیں اور ہمیشہ اصلاحی ادب لکھا ہے۔ ملکِ خداداد کے حاکم بھلے ہی آپ کو کسی اعزاز سے نہ نوازیں آپ کے قاریئن کی کثیر تعداد آپ کے حق میں سدا دعا گو رہے گی۔
اللہ آپ کے درجات کو بلند فرماکر ،جنت کے اعلٰی درجے میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
فقط
 آپکی تحاریر کا ایک قاری 

ہفتہ، 23 مئی، 2015

چینی شہرِ بہاراں کا حال

مارچ ۲۰۱۵ کے آخری ایام کی ایک سہ پہر تین بجے کے لگ بھگ ہم چین کے پھولوں کے شہر کُنمنگ کے مرکز میں واقع  ہوٹل کراون پلازہ کی سولہویں منزل کے کمرہ نمبر سترہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اب کی بار ہم کراچی سے براستہ کولمبو، کُنمنگ پہنچے تھے۔ ہمارا ارادہ لنکا ڈھانے کا نہیں تھا بلکہ سری لنکا کی ہوائی کمپنی والے ہمیں ڈھونے پر معمور تھے۔ یہ سفر  طیارے  کی کولمبو سے روانگی میں تاخیر کے باعث خاصی تھکا وٹ والا ثابت ہوا۔ اور ہم نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں کے مصداق پوری رات بندرانائکے کے ہوائی اڈے پرگزارا کئے۔
خدا خدا کر کے چھے گھنٹوں کی تاخیر کے بعد ہم فجر میں چھے بجے کولمبو سے روانہ ہوئے اور قریبا سات گھنٹوں کی تاخیر سے دوپہر دو بجے کُنمنگ کے چھوٹے سے بین الاقوامی ہوائی  اڈے پر اُترے۔ ہوائی اڈے پر ہمیں لینے کے لئے ہمارے میزبانوں کی جانب سےٹیکسی موجود تھی جس نے ہمیں ہوٹل پہنچادیا۔
چین کا یہ ہمارا چوتھا سفر تھا، گذشتہ تین دوروں میں ہم بیجنگ ہی آتے رہے تھے مگر اب کی بار چین کے جنوب مشرق میں میانمار کی سرحد سے متصل صوبہ یُنّان کا دارالحکومت ہماری منزل تھا۔ جسے بجا طور پر پھولوں کا شہر یا شہرِ بہاراں کہتے ہیں۔ سال کےبارہ مہینے یہاں بارش ہوتی ہے یا درجہ حرارت اعتدال پر رہتا ہے۔ گو کہ اس شہر کا خطِ استوا سے شمال کی جانب اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا ہمارے کراچی کا مگر ساحلِ سمندر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کراچی کی طرح بہار اور خزاں والی تپش نہیں ہوتی۔
ہوٹل والوں کے طعام کے اوقات چینی قسم کے تھے، ناشتہ سات تا ساڑھے دس تک ہوتا تھا، ظہرانہ ساڑھے بارہ سے اڑھائی بجے تک اور عشائیہ کا وقت عصر کے وقت کے کچھ دیر بعد شروع ہو کر عشاء پر ختم ہو جاتا تھا۔ ان دنوں وہاں غروبِ آفتاب سات بیس کے لگ بھگ ہوتا تھا۔سو تین بجے ہوٹل پہنچنے والے کو کھانے کے لئے ساڑھے چھے بجے تک کا انتظار کرنا پڑا۔ ہم نے ان تین گھنٹوں میں اپنا حلیہ درست کیا اور کچھ سستا لئے۔ کھانے کے لئے ڈائننگ ہال میں گئے تو دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین سے بھی ملاقات ہوئی۔ اب کھانے میں سے حرام طعام کو الگ کرنے کا ایک بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا۔ ہم نے ایک پیالی چاول اُبالنے کا آرڈر دیا اور مچھلی کا ایک بڑا قتلہ بھی تلوا لیا۔ پھل، سبزیوں کی سلاد اور ابلے ہوئے چنوں کی چاٹ بھی خود ہی بنا ڈالی اور سیر ہو کر کھایا۔ مغرب ادا کی اور لمبی تان کر سو گئے، عشاء رات کے آخری پہر میں آنکھ کھلنے پر پڑھی۔
اگلے دن فجر میں بیدار ہوئے اور نماز کے بعد تیار ہو کر سات بجے ہی ناشتہ کے لئے چلے گئے۔
ناشتہ کے بعدمیٹنگ تھی، کہ جس میں ہم پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پاکستان اور چین کی دوستی ہمیں جہاں دیگر شعبہ جاتِ زندگی میں نظر آتی ہے وہیں سائنس کا میدان بھی اس سے خالی نہیں۔ چین نے ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک پر مشتمل مشترکہ سائنسی منصوبوں کی ایک تنظیم بنام ایپسکو  بنا رکھی ہے، پاکستان اس کا سرگرم رکن ہے۔ اس تنظیم میں خلائی سائنس کے کافی منصوبے شامل ہیں۔ دیگر ارکان میں تھائی لینڈ، پیرو، بنگلہ دیش، ترکی، منگولیا اور ایران شامل ہیں۔ہم اب تک جتنی دفعہ بھی چین گئے، اسی تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی کی خاطر گئے اور ہر بار تنظیم  کے خرچہ پر گئے، گویا چینی  ہمارے میزبان رہے۔
چینی مندوبین کی پریزنٹیشن کے بعد ہمیں لب کشائی کے لئے کہا گیا۔ ہم نے قریبا آدھ گھنٹہ اپنے خیالات کا ظہار کیا جو کہ ایجنڈے کا حصہ نہ تھا یعنی فی البدیہہ تھا، مگر ہم ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھے۔ ہمارے تاثرات اور بیان کردہ سائنسی حقائق کو خاصا سراہا گیا، کیونکہ یہ اس منصوبہ سے حاصل کردہ ڈیٹا سے متعلق تفصیلات تھیں جو ہم نے پاکستان میں چینی انسٹرومنٹ سے لی تھیں اور کسی میٹنگ یا کانفرنس میں پہلی بار پیش کی جا رہی تھیں۔
ظہرانہ میزبانوں کی جانب سے ہی کراون پلازہ کی اُسی چوتھی منزل پرتھا جس پر میٹنگ منقعد کی جا رہی تھی۔ یہاں دو کرداروں کا تعارف ضروری ہے، مسٹر اینڈ مسسز چودھری۔ چودھری صاحب پاک فوج کے ریٹائر بریگیڈیئرہیں  اورملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی  اعلٰی فوجی اور انتطامی عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں، ایپسکو میں بھی اہم منصب پر فائز ہیں۔ ان کی خاتونِ اول پڑھی لکھی چودھرائن ہیں اور دونوں کی کیمسٹری بڑے مزے کی ہے۔
میٹنگ کے پہلے روز ظہرانہ کے دوران ہمیں اُن میاں بیوی کی پہلی نوک جھونک ملاحظہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ مسسز چوھدری کو اس بات پر اعتراض تھا کہ ان چینی میزبانوں نے حلال طعام کا اہتمام الگ سے کیوں نہیں کیا جبکہ چوھدری صاحب انھیں سمجھا رہے تھے کہ بی بی ایسا نہیں ہوتا، جب آپ روم میں ہوتے ہیں تو رومیوں جیسا برتاو کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں پھل سبزی کھانے پڑ رہے ہیں تو ایک وقت کھا لو، عشائیہ پر اپنی پسند سے کچھ منگوا لینا۔خیر مسسز چوھدری چاروناچار سبزیاں زہر مار کرتی رہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ توری کی ایک دش محض ابلی ہونے کے باوجود ہمیں بڑے مزے کی لگی، اس بات کا اظہار جب ہم نے مسسز چوھدری سے کیا تو فرمانے لگیں کہ آپ کو بھوک لگی ہے تبھی آپ مزے لے لے کر کھا رہے ہیں، ورنہ گھر میں تو چوھدری صاحب کا یہ حال ہے کہ توری کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ، یہ بات سن کے چوھدری صاحب نے اپنا ہاتھ توریوں کے ڈونگے کی جانب بڑھایا۔
ظہرانے اور نماز کے بعد دوبارہ میٹنگ کا آغاز ہوا اور سہ پہر کے بعد ہم اس دن کی کاروائی سے فارغ ہوئے۔ شام میں ہم مٹر گشست کے لئے باہر نکل گئے۔ بہار اپنے پورے شباب پر تھی اور دھوپ کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فضا کو خوشگوار بنا رہے تھے۔ہم  ہوٹل سے نکل کر دائیں ہاتھ کی سڑک پر دریا کے متوازی سیدھے چلتے رہے۔ ہمارا ہوٹل دریا کے کنارے تھا، اب دریا سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اباسین نہ سہی کوئی راوی یا چناب جیسا دریا ہوگا تو قارئین اس مغالطہ میں نہ رہیں  اس دریا کی حالت ہمارے ہاں کی نہروں سے بھی گئی گزری تھی۔ ایک برساتی نالے کو چینی دریا کہنے پر بضد تھے۔
ہم ناک کی سیدھ میں چلتے رہے اور سڑک کنارے دوکانوں سے ونڈو شاپنگ کرتے کرتے ایک چوک سے بائیں جانب مڑے۔ اس دوران اشیاء کی قیمتیں دیکھ کر ہمیں سڈنی یاد آ گیا، کیونکہ ایک مناسب سی شرٹ کی قیمت پاکستانی روپوں میں اتنی تھی کہ کراچی میں ہم اتنی قیمت میں تین اچھے برانڈ کی شرٹس خرید سکتے تھے ۔ اگلے بازار میں بھی یہی حال تھا اور جتنی اشیاء حجم میں چھوٹی ہوتی جا رہی تھیں اتنا ہی انکی قیمت بڑھتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوکان سے خشک میوہ جات کی قیمت معلوم کی تو وہ بھی ایمپریس مارکیٹ سے زیادہ تھی۔ یہ شہر قیمتوں کے معاملہ میں بیجنگ کو بھی مات دے گیا تھا۔ جس طرح کراچی ایک غریب پرور شہر ہے اسی طرح چین میں بیجنگ کا بازار بھی تمام چینییوں کی قوتِ خرید کے اندر آتا ہے، مگر کنمنگ آکر ہمیں ایسا لگا کہ ہم ایک دم زینب مارکیٹ سے کلفٹن کے ڈالمن مال میں آ گئے ہوں کہ وہی اشیاء برانڈز کے نام پر مہنگے داموں بک رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں آپ لان کو ہی لے لیں کہ جو سوٹ چار ہندسوں میں تمام لوازمات سمیت  با آسانی تیار ہو جاتا تھا ، اب اس کی قیمت پانچ ہندسوں سے شروع ہوتی ہے اور وہ بھی محض کپڑے کی، اس پر مزید یہ کہ اگر آپ چار لوگوں میں بیٹھیں ہوں اور کوئی اچانک پوچھ لے کہ یہ سوٹ کہاں سے لیا تو کسی برانڈ کا نام نہ لینے پر بڑی سبکی ہوتی ہے۔
کنمنگ کے بازار میں راوی چین ہی چین لکھتا تھا، متوقع ، نئے اور پرانے جوڑے ہر طرح کی خریداری میں مصروف تھے، چند ایک اپنے بچوں کے ہمراہ مچھلیوں کے سرِ راہ بنے تالابوں کے کنارے بیٹھے تھے اور کچھ کھانے پینے کے ڈھابوں اور کھوکھوں سے اپنی زبانوں اور معدوں کو تقویت پہنچا رہے تھے اور بقول انشاء،  ہم بھی وہیں موجود تھے۔
آوارہ گردی کے بعد ہوٹل پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا، نماز کے فورا بعداستقبالی  عشائیہ تھا سو دوپہر والے ہال میں پہنچے جہاں بڑی سی گول گھومنے والے میز کے گرد پھر سے تشریف فرما ہوئے۔ اب کی بار مسسز چوھدری کی فرمائش پر چند ایک ڈشز مچھلی، جھینگے اور چاول  پر مشتمل تھیں، جن میں سب سے زیادہ چٹخارے اور مزیدار جھینگے تھے۔ ہم اب تک کے چین کے دوروں کی بدولت چینی لکڑیوں یعنی چاپ اسکٹس سے کھانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں اور مٹر، مونگ پھلی اور چنے تک ان لکڑیوں سے کھا سکتے ہیں۔ اس کا مزیدعملی مظاہرہ ہم نے جھینگوں کو اسٹکس کی مدد سے اٹھا کر کیا اس پر ہمارے چینی میزبان نے ہمیں داد دی،جبکہ مسسز چوھدری جھینگا کانٹے میں پروے چبا رہی تھیں۔
عشائیہ کے ساتھ ہی ہمارا دن اختتام پذیر ہوا اور ہم نے اپنے کمرے میں سکونت اختیار کی۔
اگلے دن  کا آغاز بھی گذشتہ روز کی طرح ہوا ، میٹنگ کا اختتام ظہرانہ پر ہی کر دیا گیا، گویا بقیہ پورا دن ہم آزاد تھے، سو ہم نے اپنے میزبانوں سے الیکٹرانک مارکیٹ کا پتہ لکھوایا اور ان کی ہدایت کے مطابق ہوٹل سے باہر لبِ ِسڑک ٹیکسی کا انتظار کرنے لگے۔ اس شہر میں ٹیکسی ملنا دشوار ہے۔ ایک کار والے نے ہمیں محوِ انتظار دیکھ کر اپنی گاڑی روکی اور پوچھا کہ کہاں جانا ہے، ظاہر ہے کہ اشاروں کی زبان کام میں لانا کچھ مشکل نہیں تو ہم نے مارکیٹ کا چینی زبان میں لکھا پتہ اس کے بوتھے کے سامنے کر دیا۔ اس پر اس نے کرایہ بتایا اور ہم نے اس سے بھاو تاو کیا، کیونکہ ہم چین میں پہلی بار نہیں آئے تھے اور جانتے تھے کہ یہاں بھی وطن کی طرح دام کم کروائے جا سکتے ہیں، اگر ٹیکسی ہوتی تو اس میں لازمی طور پر میٹر ہوتا اور کرایہ طے کرنے کی نوبت نہ آتی۔ تھوڑی سی بات چیت کے بعد ہم اس گاڑی میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ قریبا بیس منٹ کے سفر کے بعد کار والے نے ہمیں مارکیٹ پر اتارا اور کہنے لگا کہ اگر ہم چاہیں تو وہ ہمارا انتظار کر سکتا ہے، مگر ہم نے کرایہ ادا کر کے اسے 'شے شے' کہا اور ایک دوکان کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ بیجنگ کی الیکٹرانک مارکیٹ کے سامنے کنمنگ کی اس مارکیٹ کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسے آپ بولٹن مارکیٹ کا مقابلہ ایک کریانہ کی دوکان سے کریں۔ مگر پھر بھی یہاں کمپیوٹر  اور الیکٹرانک کی دیگر اشیاء ان کے لوازمات سمیت دستیاب تھیں۔ ہم نے اپنی مطلوبہ اشیا با آسانی خرید لیں اور ایک دوکان والے سے پوچھا کہ الیکٹرانک ڈکشنری کہاں سے ملے گی۔اس نے ہمیں بتایا کہ ہمیں  کتابوں کی دوکان پر جانا پڑے گا، ہم نے اسے سمجھایا کہ ہم کتاب نہیں خریدنا چاہتے بلکہ ڈیجیٹل ڈکشنری تلاش کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی کیونکہ دوکان والے کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی اور جو نہیں آتی تھی تو وہ ہمیں انٹرنیٹ پر ٹائپ کرنے کو کہتا اور ہمارے جملہ کا چینی ترجمہ کر کے پڑھ لیتا۔اسی پر ہم نے اسے اپنی مطلوبہ چیز کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر دکھا دی، لہٰذا شک دور ہو گیا کہ ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس پر اس نے ہمیں دوکان کا نام لکھ دیا اور کہا کہ آپ ٹیکسی میں چلے جائیں ہم نے جواب دیا کہ بھائی ٹیکسی ملتی کہاں ہے  تم ہمیں بس کا نمبر اور اسٹاپ کا نام لکھ دو آگے ہم جانیں اور ہمارا کام۔ اس سے بس کا نمبر اور منزل کا پتہ لکھوا کر ہم نے اسکا شکریہ ادا کیا اور بس اسٹاپ پہنچ گئے جو مارکیٹ میں ہی تھا۔ ایک دو منزلہ بس میں سوار ہوئے اور ڈرائیور کو پتہ دکھایا اس نے اثبات میں سر ہلایا اورٹکٹ خریدنے کا کہا، ہم نے ٹکٹ خریدا اور ایک نشست پر جا بیٹھے۔ اگلے اسٹاپ سے کالج کی چند لڑکیاں بس میں سوار ہوئیں، ان میں سے ایک قدرے یورپی لگی ہم نے اس سے پتہ دکھا کر پوچھا کہ یہ اسٹاپ کب آئے گا۔ وہ بھِی چینی ہی نکلی، مگر ہمارا سوال اسے سمجھ آگیا تھا لیکن جواب دینا اس کے لئے مشکل ہوگیا۔ اللہ بھلا کرے موبائل بنانے والوں کا کہ اب اس میں پورا جہان سما جاتا ہے، تو اس دوشیزہ نے انگریزی میں لفظ ٹرمینل لکھ کر موبائل ہمیں دکھا دیا، گویا ہمیں اس بس کے انتہائی اسٹاپ پر اترنا تھا۔
مزہ اس وقت آیا جب ڈرائیور نے ہمیں  اترنے کا اشارہ کیا کہ آخری اسٹاپ آگیاہے۔ بس سے اتر کر دیکھتے ہیں تو وہی کل والی جگہ تھی کہ جہاں ہم سبھی دیکھا کئے تھے۔ پتہ ایک دوکان والی حسینہ کو دکھایا جسے انگریزی آتی تھی، تو بولی کہ آپکی دوائے دل بیچنے والی دوکان بڑھ چکی ہے۔ہم نے اس سے پوچھا کہ کوئی اور دوکان کا پتہ بتلا دو، تو کہنے لگی کہ انگریزی ذرا ٹھہر ٹھہر کر بولیں، ہم نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر پوچھا تو اس نے ایک اور دوکان کا پتہ دیومالائی زبان میں لکھ کر دے دیا۔یہاں بھی ٹیکسی کا مشورہ دیا گیا۔ مگر ٹیکسی ملنا دشوار تھا۔ ایک آدھ ٹیکسی والا ملا بھی تو وہ پہلے سے کسی سواری کے ساتھ منسلک تھا۔ اسٹاپ پر بیٹری سے چلنے والی بے شمار سائیکلز موجود تھیں جو مرد و زن یکساں تعداد میں چلا رہے تھے۔ ہمیں اجنبی مسافر جان کر ایک سائیکل والا پوچھنے لگا کہ کہاں جانا ہے، ہم نے پتہ دکھلایا تو کہنے لگا کہ میں لے چلوں گا ہم نے اُسےپاکستان اور فرینڈ کا واستہ دے کر کرایہ کم کرنے کو کہا  تو وہ ہمیں کہنے لگا 'آجا وے بے جا سیکل تے' ۔ جب ہم مطلوبہ پتہ پر پہنچے تو وہاں  بھی دوکان بند ہو چکی تھی۔ جی میں آئی کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ معلوم ہوا کی پانچ  بج چکے ہیں لہٰذا دوکانیں تو بند ہونی ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ کیسا شہر ہے جہاں دن کی روشنی میں ہی دوکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔ وطن میں تو رات گئے تک بازار کھلے رہتے ہیں چاہے حکومت لاکھ کوشش کرے کہ مغرب کے وقت کاروبار بند کر دیا جائے تاکہ بجلی کا بحران کسی حد تک حل ہو سکے مگر ہم ٹس ے مس نہیں ہوتے۔
رات میں عشائیہ پر ہماری ملاقات جارج نامی ایک سراندیپی سے ہوئی، انھوں نے اپنا تعارف سری لنکا کے کیبن کریو کے طور پر کرایا ۔ اتفاق سے ہماری روانگی ان کے ساتھ انھی کی پرواز میں تھی، اس پر ہماری ان سے دوستی ہو گئی اور ہم نے انھیں اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی جو انھوں نے خوشدلی سے قبول کر لی۔ ان سے کمرے میں دنیا کے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ ہم نے ان کی تواضع پیک فرینز کے بسکٹس اور چینی سبز چائے سے کی۔ انھوں نے ہم سے گفتگو کے دوران ہی ہمیں ٹوکا کہ کہیں ہم استاد تو نہیں رہے یا ہیں؟ یہ اندازہ انھوں نے ہمارے طرزِ گفتگو سے لگایا کہ ہم انکے بقول ہر بات کی جزیئات تفصیل سے بیان کر رہے تھے۔
اگلے دن ہم سات بجے ہی ڈائننگ ہال میں  ناشتہ کے لئے موجود تھے کیونکہ پونے آٹھ بجے ہمیں کنمنگ کے مضافات میں اپنے میزبانوں اور دیگر مندوبین کے ساتھ معلوماتی دورے پر جانا تھا۔یہ مقام انتظامی طور پر تو کنمنگ میں ہی شمار ہوتا تھا مگر اس کا فاصلہ شہر سے براستہ سڑک ڈیڑھ دو گھنٹوں پر مشتمل تھا۔یہ ایک وادی نما مقام تھا جو آبادی سے کافی ہٹ کے تھالیکن سائنسی اعتبار سے یہاں دنیا کے بہترین انسرٹومنٹس اور ریڈار لگائے گئے ہیں جو کرہ ہوائی اور بالا فضائی تحقیقات میں کام آتے ہیں، یوں یہ ہمارے مطلب کی جگہ تھی جہاں صحیح معنوں میں ریڈیوسائنس کی جا رہی تھی۔ ہم دوپہر تک یہاں رہے اور کنمنگ واپس آتے ہوئےایک قریبی قصبہ میں پیزا ہٹ پر ظہرانہ کے لئے رکے۔ سہ پہر تک ہم کنمنگ کے ہوائی اڈے پر تھے کیونکہ چند مندوبین کی واپسی کی پروازوں کا وقت قریب تھا۔ وہاں  سے ہمارے میزبان بقیہ افراد کو کنمنگ کی ایک بڑی جھیل دکھانے لے گئے، جس میں جہازرانی کے ساتھ ساتھ ایک ڈیم بھی بنا ہوا ہے۔
جھیل کا پانی صاف تھا  اور کنارا شمالا جنوبا تھا، کراچی کے لحاظ سے بات کریں تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم سی ویو پر آفتاب کے غروب سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے موجود ہیں کیونکہ سورج اور پانی کا محل وقوع سی ویو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ لیکن اس ترتیب کے باوجود جو واضح فرق تھا وہ وہاں پر صفائی کا انتظام تھا۔ جھیل کاکنارا پختہ تھا جس پر ایک اونچی روش بچھائی گئی تھی۔ اس روش پر مختلف ٹائلز کی مدد سے ڈیزائن اور تصاویر کندہ کی ہوئی تھیں۔
ہم وہاں کچھ دیر چہل قدمی کرتے رہے اور شام ڈھلنے کے قریب ہوٹل روانہ ہوئے۔ آج کنمنگ میں ہماری آخری شام تھی، کیونکہ ہمارا جہاز رات کے دو بجے روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں آخری عشائیہ سے پیشتر ہی ہم اپنا زادِ راہ باندھ چکے تھے۔  عشائیہ پر منگولیا اور تھائی لینڈ کے مندوبین سے ملاقات ہوئی اور اسلام پر گفتگو ہوتی رہی۔ شراب کی حرمت اور دیگر احکامات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھے گئے ، مذہب کو منطق سے سمجھنا یا سمجھانا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسا عظیم سائنسدان خدا کے وجود سے انکاری ہے لیکن دوسری طرف مغربی دنیا، اسلام  کے خوف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی طرف تیزی سے راغب بھی ہو رہی ہے۔ ہم نے حتی المقدور اور اپنی ناقص معلومات کی روشنی میں انھیں تسلی بخش جوابات دیئے۔ کسی حد تک مناظرہ کی تربیت ہمیں اپنے آسٹریلیا کے آنجہانی استاد محترم کے ساتھ دو برس گزارنے پر ہو چکی تھی سو وہ کام آئی، منگول مندوب کو تو ہم نے چنگیز خان کا ذکر کر کے چپ کرادیا اور تھائی مندوب ویسےہی شریف آدمی تھے آسانی سے قائل ہو گئے۔
یہ رات کیونکہ سفر کی رات تھی لہٰذاسونے کا تو سوال نہیں تھا اور ویسے بھی گیارہ بجے ٹیکسی نے ہمیں ہوٹل سے ہوائی اڈے لے جانا تھا۔ مقررہ وقت پر ہوٹل چھوڑا اور ٹیکسی سے ہوائی اڈے کو روانہ ہوئے، دو گھنٹوں بعد کاونٹر کھلا، بورڈنگ پاس تو دے دیئے گئے ساتھ ہی معلوم ہوا کہ جہاز تاخیر سے روانہ ہوگا - ہوائی کمپنی والے تمام مسافروں کو  دو بسوں میں لاد کر واپس کنمنگ میں ایک ہوٹل لے گئے۔ یعنی ابھی کنمنگ میں ہمارامزید  آب و دانہ لکھا تھا۔ ہوائی کمپنی نے ہمیں ناشتے کے ڈبے دیئے اور رات کے تین بجے ایک مقامی ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع ایک کمرے میں خوابِ خرگوش کے مزے لینے کے لئے چھوڑ دیا۔ فجر میں ٹیلیفون پر خودکار الارم کے ذریعہ بیدار کیا گیا اور قریبا چھے بجے دوبارہ کنمنگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا۔ سات بجے جہاز میں جانے کی اجازت ملی۔ جہاز میں پہنچتے ہی جارج سے ملاقات ہوئی جو پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہمارا استقبال کرنے لگے اور تاخیر پر نہایت شرمندہ ہوئے۔ انھیں رات بارہ بجے ہی جہاز کی روانگی میں  تاخیر کا پتہ چل گیا تھا مگر اسوقت تک ہم ہوٹل سے نکل چکے تھے لہٰذا  اُن کا ہم سے رابطہ نہ ہو سکا ورنہ ان کے بقول وہ ہمیں اس تاخیر کی پیشگی اطلاع دے دیتے۔
دورانِ پرواز انھوں نے ہمارا خاص خیال رکھا اور ہمیں اکانومی میں ان کی بدولت بزنس کلاس جیسی سہولیات میسر آئیں۔ کنمنگ میں لوگوں کی آسودگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹے سے جہاز میں اکانومی تقریبا خالی تھی اور بزنس کلاس کی تمام نشستیں پُرتھیں۔کولمبو پہنچ کر اگلی پرواز کے لئے انتظار گاہ میں چلے گئے ۔ اس میں بھی کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ مسافروں میں کثیر تعداد میمن کاروباری حضرات و خواتین کی تھی جو اپنے ساتھ فی کس چار چار ڈبوں سے کم سامان نہیں لا رہے تھے۔
جہاز سے نکلتے ہی ہمارا ستقبال کراچی کی مرطوب ہوا  نے کیا اور یوں ہمارا یہ سفر تمام ہوا۔
جھلکیاں:
کولمبو کے ہوائی اڈا پر گوتم بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ موجود ہے جس کی طرف پیٹھ کر کے تصویر کھنچوانا منع ہے-
کنمنگ کے سفر میں کولمبو پر تاخیر کی وجہ سے ہمیں اضافی عشائیہ دیا گیا، جس میں سب کچھ حلال تھا، ہوائی کمپنی کا ملازم جو کہ سنہالی تھا فر فر اردو بول  رہا تھا۔
ہوائی اڈے پر مسلمانوں کے لئے باقاعدہ مصلہ کا اہتمام ہے۔
کنمنگ میں آپ بس کا سفر فقط ایک یوان میں کر سکتے ہیں۔
ہم کنمنگ میں پتہ پوچھنے کے لئے لکھا ہوا پرچہ لوگوں کو اکثر الٹا دکھاتےرہے –
چینی حکومت  انٹرنیٹ کو چھان کر عوام تک پہنچاتی ہے۔ گوگل کی کوئی بھی سہولت چین میں نا پید ہے، اسی طرح فیس بک سمیت دیگر سوشل ویب سائٹس بھی دستیاب نہیں۔ آپ کچھ بھی کریں کوئی بھی پراکسی سیٹنگ کرلیں چینی آپ کو اس سائٹس تک نہیں پہنچے دیں گے۔

ختم شُد

اتوار، 18 جنوری، 2015

تعزیتِ استادِ محترم

گذشتہ ہفتہ جامعہ این ایس ڈبلیو سے  برقی پیغام موصول ہوا کہ ہمارے استادِ محترم ڈاکٹر رابرٹ جان اسٹیننگ دنیا میں نہیں رہے۔ اس افسوس ناک خبر پر ان کی سر پرستی میں بسر کئے دو برس  آنکھوں کے سامنے ایک فلم رول کی طرح چلنے لگے۔ ان دو برسوں میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ ہم  اُنکی علمیت اور قابلیت کے قائل ہوئے۔ حالاتِ حاضرہ ہوں یا تاریخی واقعات ، گھریلو معاملات ہوں یا  سائنسی موضوعات ، غرض  وہ دنیا جہان کے ہر موضوع پر بات کر سکتے تھے۔ ان کا سب سے پسندیدہ موضوع مذہب تھا۔ کٹر عیسائی اور مبلغ تھے جس کی بدولت دیگر مذاہب کی بھی بھرپور معلومات رکھتے تھے۔
انھوں نے اپنی پی ایچ ڈی کوئنر لینڈ، آسٹریلیا سے کی تھی اورویسٹ انڈیز میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے، کینیڈا میں بھی مقیم رہے اور شادی بھی وہیں کی۔ مسز کیرل ان کے ساتھ انکی مذہبی تبلیغ میں پیش پیش تھیں- دونوں میاں بیوی افریقہ کے غرباء میں دین کی تبلیغ کی خاطر انکے لئے کپڑے بھجواتے جو خاتونِ خانہ خود سیتی تھیں ۔ استادِ محترم 645 نامی ایک مقامی گرجا گھر سے وابستہ تھے، جسکا ذکر گذشتہ بلاگ میں کیا جا چکا ہے۔
جامعہ این ایس ڈبلیو سے کافی عرصہ وابستہ رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہیں مہمان استاد کے طور پر منسلک رہے۔ آئنو سفیرک فزکس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعہ پر مشتمل اختیاری مضمون آن لائن پڑھاتے تھے۔ جس میں انکے چند شاگرد مسلمان بھی ہوتے جو استادِ محترم کر اسلام کی تبلیغ کرتے۔ استادِ محترم یہ واقعات ہمیں تفصیل سے بتاتے۔
انکی ایک اور اہم ذمہ داری سائنسی تحقیقاتی مقالوں کی جانچ بھی تھی۔  وہ ناتجربہ کا ر محققین کی تکنیکی اور سائنسی غلطیاں ہمیں ماہرانہ انداز میں سناتے ۔
ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہماری سڈنی میں پہلا دن تھا اور ہماری استادِ محترم سے بھِی پہلی ملاقات تھی، دیگر ابتدائی اور بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہمیں دو برس بعد ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ ہمیں اس میں شرکت کرنا ہوگی۔ ان کی سفارش پر جامعہ نے ہمیں ناصرف اس کانفرنس میں شرکت کے لئے وظیفہ دیا بلکہ ہمارے اسکول آف فزکس نے ہوائی سفر کا ٹکٹ بھی دیا اور یوں ہم سرکاری خرچ پر میلبورن گئے۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے جب ہم نے پریزینٹیشن بنائی تو استاد ِ محترم نے ہمیں اسکی ریہرسل بھی کرائی۔
ہم اُنکی دعوت پر دو بار ان کے گھر بھی حاضر ہوئے جس میں انھوں نے ہمیں اپنے دین کی تبلیغ بھی کی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ان کی تبلیغ کا ہم پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا۔ ایک بار تو ہم نے دورانِ گفتگو انھیں جتلا دیا کہ جس طرح وہ عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہونا پسند نہیں کریں گے اسی طرح ہم بھی ان کے ہاتھ آنے والے نہ تھے، بحث مزید بڑھی تو ہم نے کہا کہ آپ کی عیسائیت شخصیت پسندی سے ہوتی ہوئی شخصیت پرستی تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اسلام میں خدا پرستی ہے بندہ پرستی قطعی نہیں ہے۔ ان سے مذہبی گفتگو کے دوران ہم دل ہی دل میں سورۃ الکافرون کی آیات دھرا رہے ہوتے تھے۔
وہ خون کا سرطان پال رہے تھے جو پچھتر برس کی عمر میں جان لیوا ثابت ہوا اورانکا جسدِ خاکی ،خاک میں جا ملا۔


ہفتہ، 1 نومبر، 2014

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، تیسرا اورآخری ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں اور دوسرا یہاں پڑھیں۔
اگلے دن صبح سویرے ہی ہم ڈائیوو کے اڈے پر پہنچے، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور موسم کچھ خنک تھا، بہار کی بارش پوٹھوہار کو بھی سر سبز بنا دیتی ہے اور بقول چچا غالب درودیوار پر بھی سبزہ اُگنے لگتا ہے۔
ڈائیوو کا سفر نہایت آرام دہ تھا اور آجکل کی جدید مواصلاتی سہولیات سے پُر تھا کہ وطن میں پہلی بار ہم نے بس کے سفر میں وائی فائی کا لطف اٹھایا۔ آجکل کے دورمیں ہم شاید خوراک اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکیں مگر وائی فائی کے بغیر نہیں جیا جا سکتا۔
راستہ میں موٹروے پر پھوار پڑتی رہی۔ بھیرا کے مقام پر کچھ سستانے کے لئے وقت دیا گیا تو ہم نے چائے اور ہلکا ناشتہ کیا-
جب ہم لاہور پہنچے تو دوپہر ہو چلی تھی۔
لاہور میں گرمی تھی اور اس گرمی میں ہم ہوٹل کی تلاش میں نکلے۔ خدا خدا کر کے اسٹیشن سے کچھ دور ایک مناسب سا ہوٹل ملا اور ہم نے ایک رات وہیں گزارنے کا ارادہ کیا۔ دوپہر کے کھانے میں لاہور کے روایتی دال چاول اور برگرلبرٹی چوک سے لا کر کھائے۔کھانے کے بعد ریلوے ھیڈ کوارٹر جاکر اگلے دن کی کراچی واپسی کی بُکنگ کرائی اور بعد از سہ پہر لاہور دیکھنے نکلے۔ وقت کی کمی کے باعث واہگہ بارڈر تک نہ جا سکے اور شام کی موسلادھار  بارش نے ہمیں دوبارہ ہوٹل کے کمرے میں آنے پر مجبور کر دیا۔ بارش سے موسم ایک دم بدل گیا اور ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ رات میں بچے جلد سو گئے اور ہم بھی سونےکا ارادہ کئے بیٹھے تھے کہ ہمارے خالہ زاد برادر ،جنکا تبادلہ اسی برس کراچی سے لاہور ہوا تھا، تشریف لے آئے۔ یہ لاہور میں چھڑے یعنی اکیلے ہی قیام پذیر ہیں اور ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔ یہ ہمارے لئے لاہور کے مشہور محمود نان بائی کی تازہ اور خستہ نانخطائی لائے تھے۔ بلاشبہ ایسی نانخطائی ہم نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں کھائی تھی کہ جو منہ میں رکھتے ہی گھل جائے اور طبیعت میں بھاری پن بھی محسوس نہ ہو۔
اگلی صبح لبرٹی چوک سے پائے کا ناشتہ کیا اور سیاحت کا آغاز ریس کورس سے کیا۔ یہاں جشنِ بہاراں کی وجہ سےپھولوں کی  نمائش جاری تھی۔ مختلف اقسام کے پھول اور پودےاپنی بہار دکھا رہے تھے۔ جاپانی بونسائی سے لے کر پاکستانی یاسمین اور سرخ گلاب سے لے کر یورپی پھولوں کی انگنت ترتیب نہایت خوبصورتی سے پارک میں سجائی گئی تھیں۔ ہم نے یہاں کچھ وقت گزارا اور تصاویر اتاریں۔ اس کے بعد ریس کورس کا ایک طویل چکر کاٹا اور دوسری جانب سے باہر نکلے۔
اب کی بار ہماری منزل داتا دربار تھی۔ وہاں پہنچے تو ایک جمِ غفیر دکھائی دیا جو دربار میں داخلہ کا متمنی تھا مگر سیکیورٹی کی سختی کے باعث قطار بنانے پر مجبور تھا، کیونکہ ہم عام طور پر تو قطار کی پابندی نہیں کرتے۔ پولیس والے جامہ تلاشی کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کو اندر جانے دے رہے تھے۔ عورتوں اور مردوں کے  لئےداخلی و خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے تھے۔ اتنی سختی کی وجہ ماضی میں ہونے والے بم دھماکے تھے جن سے خاصا جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔
اندرونی منظر ایک روایتی مزار کا تھا کہ جہاں مختلف اقسام کے زائرین اپنے اپنے انداز میں فاتحہ خونی کر رہے تھے یا ماتھا ٹیک رہے تھے۔ ہم نے محض فاتحہ پڑھی اور باہر کی راہ لی۔
اگلی منزل مینارِ پاکستان تھی، مگر وہاں جاکر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تخریب کاری کے خطرے کی وجہ سے مینارِ پاکستان کے چبوترے پر بھی جانے کی اجازت نہ تھی اور اس کے گرد خاردار تار لگی ہوئی تھی۔ ہم نے سبزہ زار میں ہی کچھ دیر آرام کیا ۔ یادگار کے داخلی دروازے پر سڑک کے کنارے لاہوری چاٹ سے لطف اندوز ہوئے اور پھر سڑک پار کر کے بادشاہی مسجد کی راہ لی، یہاں بھی وہی عالم تھا کہ بادشاہی مسجد کےمرکزی داخلی دروازہ بند کر کے آگے خار دار تار لگا دی گئی تھی۔ بچوں کو بہت غصہ آیا کہ ہمارے  اہم و تاریخی مقامات تو بند کر دیئے جاتے ہیں اور دہشت گرد کھلے دندناتے بھرتے ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے ہم علامہ اقبال کے مقبرہ پر فاتحہ خونی نہ کرسکے اور نہ ہی عالمگیری مسجد میں داخل ہو سکے البتہ عالمگیری دروازے سے شاہی قلعہ میں ضرور داخل ہوئے ۔
شاہی قلعہ کی حالت پر ہم بہت پہلے ایک بلاگ لکھ چکے ہیں۔ یہاں کی حالت کچھ خاص تسلی بخش نہ تھی۔ زیادہ تر عمارات و محلات یا تو تزئین و آرائش کے لئے بند تھے یا پھر انکے درو دیوار تضادِ زمانہ کی منہ بولتی تصویر تھے۔اس کے باوجود بھی یہاں سیاحوں اوراسکولوں کے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ شاہی قلعہ لاہور کا تفصیلی دورہ و مشاہدہ کرنے کے لئے پورا ایک دن بھی نا کافی ہے اور ہمارے پاس  وقت  بہت کم تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم نے قلعہ کے اہم مقامات کا مشاہدہ  کر لیا، جس میں قابلِ ذکر شیش محل، بارہ دری اور سکھوں کے دور کا عجائب خانہ ہیں۔ہمنےقلعہ کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا تو بارہ بجے کا وقت  تھا۔ ہماری ایک ہونہار شاگردہ بنام مہوش فریال ،لاہور میں مقیم ہیں ،ان سے ہمارا رابطہ تھا، انکے مشورہ اور وقت کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے شالامار باغ اور پھر فورٹریس اسٹیڈیم جانے کا ارادہ کیا، کیونکہ چار بجے ہم نے کراچی کی ریل لینا تھی اور اس سے پہلے اپنا سامان ہوٹل سے اٹھانا تھا۔
شاہی قلعہ سے نکل کر سڑک پر آئے اور وہاں  ایک گنے والے سے تازہ رس لے کر پیا۔ شالامار باغ پہنچے اور کچھ چہل قدمی کی۔ کچھ تصاویر کھینچیں اور وہاں سے فورٹریس اسٹیڈیم پہنچے۔ یہاں پر اسٹیڈیم کی بیرونی دیوار کو بازار کی شکل دی گئی ہے۔ اس کے تمام اطراف میں شو روم اور دوکانیں ہیں، جہاں ونڈوشاپنگ کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہیں سے بریانی پیک کروا لی کہ ریل گاڑی میں کھا لیں گے۔ لبرٹی چوک کے برگر ہمیں لاہور کے مختصر دورے میں پسند آئے تھے سو لبرٹی سے یہ برگر لیتے ہوئے بھاگم بھاگ ہوٹل پہنچے اور وہاں سے سامان اٹھا کر اسٹیشن کی راہ لی۔ جب ہم ریل کے مطلوبہ ڈبے میں اپنی نشستوں پر آکر بیٹھے تو ساڑھے تین سے کچھ اوپر ہوئے تھے اور ریل کی روانگی کا وقت چار بجے کا تھا۔ یوں گذشتہ روز دوپہر سے شروع ہونے والے لاہور کا دورہ اُس دن سہ پہر میں تمام ہوا اور ہماری ریل نے ٹھیک وقت پر لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے کراچی کے سفر کا آغاز کیا۔
واپسی کا سفر خیروعافیت سے کٹَا اور ہم کم و بیش ٹھیک وقت پر اگلے دن کراچی پہنچے۔ آپ دنیا کے کسی بھی خطہ میں چلے جائیں  سکون آپ کو اپنے ہی گھر میں آکر ملتا ہے۔

ختم شُد

جمعہ، 10 اکتوبر، 2014

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، دوسرا ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں پڑھیں۔
اگلے دن ہم بچوں کو جامعہ قائدِاعظم میں بنے اپنے ایک دفتر لے گئے۔ وہاں پر ہمارے ماتحت عملہ نے ہماری تواضع جامعہ کی سموسہ چاٹ سے کی۔ وہاں کچھ وقت گزار کر ہم واپس پہنچے اور ظہرانے کے بعد بچوں کی خالہ اورخالو ہمیں دامنِ کوہ اور مونال دِکھانے لے گئے۔ مونال ہم اپنے گذشتہ سرکاری دورے میں نہ جا سکے، جسکا حال ہم قارئین کے نذر کر چکے ہیں مگر اب کی بار ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں دن کے اجالے میں ہو آئے۔
مونال کا راستہ واقعی بہت کٹھن ہے اور اس پر گاڑی چلانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے ،مگر ہمارے ہم زلف نہات مہارت سے مہران کو اوپر چڑھارہے تھے، ایک مقام پر پہاڑی سڑک قریبا چالیس درجے کا زاویہ بناتی ہے اور ایسے میں کلچ اور گیئر کا صحیح استعمال ہی گاڑی کو اس چڑھائی سے پار کروا سکتا ہے۔
مونال کے دنوں اطراف وادیاں ہیں۔ ایک جانب پورا اسلام آباد دیکھا جا سکتا ہے تو دوسری طرف مرگلہ کی وادی میں چھوٹے موٹے گاوں انچائی سے نہایت دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔
دامنِ کوہ اور مونال کی زیارت کے بعد ہم نے شاہدرہ کی راہ لی، وہاں بھی سالگراں کی مانند پہاڑی جھرنے ایک نالے کی صورت اختیار کرتے ہیں اور لوگ پانی میں پاوں ڈال کر تازہ پکوڑوں اور چائے سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ سو ہم بھی اس راہ چل پڑے۔ شاہدرہ جانے کے لئے پہلے آپ کو دامنِ کوہ سے اسلام آباد اترنا پڑتا ہے اور پھر آپ جامعہ قائدِاعظم سے نیشنل سینٹر فار فزکس کی جانب جاتی سڑک پر مزید آگے جاتے ہیں اور ایک خطرناک موڑ سے نالہ پار کر کے اس متذکرہ مقام تک پہنچتے ہیں۔ جب ہم اس وادی میں پہنچے تو شام پڑ چکی تھی، مگر مغرب میں وقت تھا۔ سو ہم نے جلدی سے چائے اور پکوڑوں کا آرڈر دیا اور پانی میں چہل قدمی کرنے لگے۔ جیسے ہی چائے اور پکوڑے تیار ہوئے ہم نےمزے لے لے کراُن سے انصاف کیا ، اس دوران ہم پانی میں رکھی کرسیوں پر ٹکے ہوئے تھے۔
جب ہم  شاہدرہ سے نکلے تو آفتاب مرگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے پوری طرح غائب ہو چکا تھا۔یہاں سے ہم لیک ویو پہنچے، جو کہ راول جھیل کے کنارے قدرے نئی تفریح گاہ ہے۔ یہاں پر ایک خوبصورت پارک بنایا گیا جس میں درخت اور پھول اگائے گئے ہیں۔ یہاں کی سب سے قابلِ دید چیز، پرندوں کی آماجگاہ یعنی aviaryہے، جو ہے تو مصنوعی مگر اس میں قدرتی عنصر کو غالب کیا گیا ہے۔ اس آماجگاہ میں پرندے آزادانہ طور پر اپنے قدرتی ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔ اس میں اُن کے کھانے پینے کا خاطر خواہ اہتمام کیا گیا ہے۔ آماجگاہ کا عملہ نہایت مستعد اور ذمہ دار ہے۔ یہاں ہمیں کبوتر سے لے کر مور تک دیکھنے کو ملے۔ سفید موروں کی نایاب نسل کا دیدار بھی ہیں یہاں  نصیب ہوا۔
 ہمارا اگلا پڑاو اسلام آباد شہر میں تہذیب بیکری تھا۔ یہ راحت کے نام سے جانی جاتی تھی مگر اب انکے کچھ اندرونی معاملات کی وجہ سے نام بدل دیا گیا ہے۔ یہاں بیکری کے دیگر آئٹمز کے ساتھ ساتھ سلاد اور پیزا بھی دستیاب ہوتے ہیں اور بھیڑ دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مفت مل رہا ہے۔ اسلام آبادی بھی کھانے پینے میں لاہوریوں سے کم نہیں، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ہر منٹ میں ایک پیزا اوون سے باہر آتا اور اسلام آبادی اسے لے کر چلتے بنتے۔ چند افراد بیکری کے باہر سبزہ زار میں لگی کرسیوں پر تشریف فرما  پیزے سے انصاف کرتے اور زیادہ تر پیزے کے حصے گھر جا کر کرتے۔ ہمارے ہم زلف نے بھی ایک ایکسٹرا لارج پیزا کا آرڈر دیا اور اپنی باری آنے پر پیزا وصول کیا۔ باہر موجود نشستوں پر بیٹھ کر ہم نے پیزا کھایا۔ پیزا نہات لذیذ اور خستہ تھا، چاہنے کے باوجود بھی ہم مکمل پیزا ختم نہ کرسے کیونکہ پیٹ بھر چکا تھا اور پیزا ابھی باقی تھا۔ باقی ماندہ پیزا سمیٹا اور گھر کی راہ لی۔
اگلے دن ہم نے پنڈی کے مشہور راجہ بازار کا چکر لگایا اور چھوٹی موٹی خریداری کی۔ یہاں پر ایک گلی میں دہی بھلے اور چھولوں کی چاٹ فروخت ہوتی ہے اور بالخصوص خواتین کا رش ہوتا ہے، ہم بھی اپنی خاتونِ اول کے ساتھ تھے تو یہاں کی روایتی چاٹ سے سیر ہوئے۔
ظہر کے بعد ہمارے ہم زلف نے ایک ٹیکسی والے کو فون کیا اور ہمیں اسلام آباد دکھانے کو کہا۔گذشتہ روز ہم نے راول جھیل کا ایک کنارا دیکھا تھا تو آج ہم نے راول ڈیم دیکھنے کا ارادہ کیا۔ راول ڈیم گو کہ ایک اہم مقام ہےلیکن یہاں سیاحوں کے لئے خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔ سبزہ زار میں سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے اور تفریح گاہ میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اکتاہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ ڈیم کی جانب بھی کوئی راستہ یا حفاظتی حصار نہیں ہے اور کوئی بھی با آسانی ڈیم کے چلّو بھر پانی میں غرق ہو سکتا ہے۔
جھیل  اور ڈیم کے دیدار کے بعد ہم لوک ورثہ پہنچے، وہاں بچوں نے عجائب گھر اور گیلیریز میں خاصی دلچسپی لی۔ اسکے بعد یادگارِ پاکستان، شکر پڑیاں پر پڑاو ڈالا، وہاں بھی بچے تحریکِ پاکستان اور اسکے پس منظر کی پیش کردہ عکاسی سے خوب لطف اندوز ہوئے اور انکی معلومات میں گراں قدر اضافہ ہوا۔ اس طرح کی مشاہداتی معلومات اُن کو اسکول کے کمرے میں محض کتابوں سے نہیں مل سکتی تھی۔
مغرب ہو چکی تھی اور شکر پڑیاں پر تعمیر شدہ پھول، چاند اور تارے والی یادگار برقی قمقموں میں نہایت حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ ہم نے بچوں کو خود سے اس میں کنندہ عمارتوں اور مقامات کی شناخت پر معمور کیا جو انھوں نے بہت آسانی سے بوجھ لیں اور اس پر خوش ہوئے۔
اسلام آباد کا دیدار فیصل مسجد کی زیارت کے بغیر ادھورا ہے ، ہمیں وہاں عشاء ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا، گو کہ ہم نے یہ نماز اکیلے ہی پڑھی کیونکہ ہم مسافر تھے پر اندر ونی ہال میں نماز کی ادائگی کا ماحول ہی کچھ الگ سا تھا۔ اندر قرآن پاک کے نسخے  رکھے تھے۔ ان نسخوں کی جسامت ایک جیبی کتابچہ سے لے کر جہازی جسامت تک تھی اور مختلف اسلامی خطوط میں خطاطی کی گئی تھی، جن میں خطِ کُوفی، خطِ نسخ، خطِ نستعلیق نمایاں تھے۔
جب ہم بچوں کی خالہ کے ہاں پہنچے تو دس بج چکے تھے۔ گھر پہنچ کر  سامان سمیٹا  کیونکہ اگلی  ہم نے صبح لاہور روانہ ہونا تھا۔

جاری ہے
نوٹ: اس بلاگ کے ساتھ ہی ہمارے ۱۰۰ بلاگ مکمل ہوئے

اتوار، 5 اکتوبر، 2014

پوٹھوہار اور لاہور کی سیر- پہلا ٹکڑا

'ہاں ایسے ٹورسٹ جو ایک چھوٹی سی پہاڑی چڑھ کر ہی تھک جاتے ہیں'، وجیہہ نے  پھبتی کسی۔ اسی لمحے ہم اسلام آباد کے سینٹورس پلازہ کے صدر دروازہ پر پہنچے اور ٹیکسی والے عمر عباسی کو فارغ کیا۔
الحمد اللہ ، ہم تو اندرون اور بیرون ملک سفر کیا ہی کرتے ہیں اور نگری نگری گھومتےرہتے ہیں مگر ہمارے اہل و عیال اب تک ملتان سے آگے نہ جا سکے۔ اس بار تعلیمی سال کے خاتمہ پر بچہ پارٹی ملتان اپنے ننھیال روانہ ہوئی اور ہم نے انھیں مری وغیرہ گھمانے کا ارادہ کیا۔ ملتان سے انکو لیا اور براستہ سڑک ڈائیوو میں راول پنڈی کے سفر کا آغاز کیا۔
وجہیہ فاطمہ نے جماعت پنجم کے سالانہ امتحانات دیئے تھے اور محمد علی سوم سے چہارم میں جانے کے منتظر تھے، ان دونوں کا یہ بس کا پہلا طویل سفر تھا۔ ملتان سے بس کبیر والہ سے ہوتی ہوئی جھنگ والے روڈ پر چڑھ گئی اور براستہ سرگودھا، پنڈی پہنچی۔ راستہ میں اہلِ خانہ نے سفر سے لطف اٹھایا، کھانا کھایا، خوش گپیاں کیں اور بس سےباہر کے مناظر پر تبصرے کئے۔ بس کی میزبان سے ہمارے بچوں کی دوستی ہوگئی اور وہ ہمارا خاص خیال رکھنے لگیں۔ جھنگ اور سرگودھا کے اسٹاپس پر اترے۔ سرگودھا کے اڈے پر شام کی چائے پی۔ مغرب کے بعد اندھیرے کے باعث بچوں کو نیند کے جھونکے آنے لگے کیونکہ باہر کے مناظر دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ان کی بوریت بڑھ رہی تھی۔ رات کے ساڑھے نو بجے ہم پنڈی کے بس کے اڈے پر پہنچے۔
وہاں سے ٹیکسی کے ذریعہ بچوں کی چھوٹی خالہ کے گھر پہنچے اور سو پڑے۔ اگلے دن ناشتہ کئے بنا ہی تیار ہوکر فیض آباد آئے اور وہاں ناشتہ کیا، ایک ٹیکسی والے سے پتریاٹہ اور مری کے سفر کا کرایہ طے کیا اور پتریاٹہ کے سفر کا آغاز کیا۔ ٹیکسی ڈرائیور، عمر عباسی بہت دلچسپ انسان تھے، پورا پاکستان دیکھ چکے تھے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے تھے، کراچی میں بھی کئی برسوں کے قیام کا شرف حاصل تھا اور بے تکان بولتے تھے، مگر باتیں مزے کی کرتے تھے۔گاڑی چلانے میں خاصی مہارت رکھتے تھے اور سڑک پر موجود ہر ڈرائیور انکے نزدیک اناڑی تھا، ما سوائے انکے۔
وہ ہمیں موٹر وے سے پتریاٹہ لے گئے اور ہمیں ہدایت دی کہ اگر ہم انکے بتائے ہوئے وقت کے مطابق سیر کرتے رہے تو با آسانی پتریاٹہ ، مری اور اسلام آباد تک کے قابلِ دید مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ہم نے انکی ہدایات پر بھرپور طریقہ سے عمل کیا اور شام تک ان سے خوشگوارتعلقات استوار ہو چکے تھے۔
پنڈی سے روانہ ہوتے ہوئے ہم نے فیض آباد سے ناشتہ تو کر لیا تھا مگر چائے نہیں پی تھی، عمر بھائی سے کہا کہ ہمیں چائے ایسی جگہ سے پلائیں جہاں سے ڈرائیور حضرات چائےپیا کرتے ہیں، ایسی جگہوں پر چائے اچھی ملتی ہے۔ لہٰذا پتریاٹہ پہنچتے ہی انھوں نے سب سے پہلے پارکنگ کے پاس ایک کھوکھے والے کو چائے بنانے کا آرڈر دیا ۔ ہم سڑک کے کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور بچے قریب کی چھوٹی چھوٹی اونچائیوں پر چڑھنے اور اترنے لگے۔ اتنے میں چائے آگئی اور ہم نے بسکٹس کے ساتھ چائے پی۔ چائے واقعی مزے کی تھی اور اسے پینے کے بعد ہم خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگے۔
پتریاٹہ کی سب سے بڑی دلچسپی چیئر لفٹ اور کیبل کار ہیں۔ ہم چیئر لفٹ کی چار ٹکٹس خرید کر قطار میں جا لگے۔ بچے  چیئر لفٹ میں  چڑھنےاور اترنےکے طریقہ کار  کا مشاہدہ کرتے رہے اور ہم سے پوچھتے رہے کہ یہ چیئر لفٹ کہاں جائے گی اور آگے کے مناظر کیسے ہونگے۔ اس دوران ہماری باری آگئی ، وجہیہ اپنی والدہ کے ساتھ اور علی صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے۔ بچوں کو لفٹ میں سوار ہونے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اوپر جاتے ہوئے لفٹ ہچکولے لیتی ہوئی اس وقت تیز ہو جاتی جب اسکے تار کا کوئی ستون راستے میں آتا، علی صاحب نے اس کا نام اسپیڈ بریکر رکھ دیا۔ نیچے کے مناظر قابلِ دید تھے اور حدِ نگاہ کے بڑھ جانے کے باعث ہم افق کے پار تک دیکھنے کی کوشش میں لگے تھے۔ سرسبز پہاڑ اور گہری وادیاں، مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں ، پس منظر میں برف پوش پہاڑ  اور دھوپ چھاوں کا عالم سب مل کر ماحول کو نہایت پر کشش اور حسین بنا رہے تھے۔
اوپر پہنچے تو اگلا سفر کیبل کار کا تھا۔ یہاں بھی قطار بنی اور اس میں سوار ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ، کیونکہ کیبل کار بھی چیئر لفٹ کی طرح  رُکتی نہیں تھی ،محض رفتار میں کمی واقع ہوتی تھی۔ با آسانی اس میں بھی سوار ہوئے اور مزید اونچائی کی جانب سفر کیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنی سیر گاہ پر پہنچے ، وہاں ریسٹورانٹس، دوکانیں اور پہاڑی راستے ہیں۔ہم نے کچھ دیر وہاں چہل قدمی کی۔ بچوں نے چھرے والی بندوق سے نشانے لگائے۔
وہاں ایک گھنا جنگل بھی تھا اور اونچے نیچے راستے اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی تھیں۔ ہم سڑک سے ہٹ کر پہاڑی راستے سے اوپر آنے لگے ، یہ راستہ جنگل سے گزرتا تھا۔ بچے تو خوب لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پہاڑ دیکھے تھے۔ اوپر پہنچ کر ہماری سانس ہی پھول گئی اور تھکن کا احساس ہونے لگا۔ کچھ دیر سانس لینے کو بیٹھے اور پھر واپسی کا راستہ لیا۔ وہاں  پر ایک مکئی والے سے چنے اور مکئی کے بھنے ہوئے دانے خریدے اور خود بھی بھٹی پر دانوں کو بھونتے ہوئے تصویر کھنچوائی۔ بچوں نے آئسکریم کھانے کی فرمائش کی تو انکو کون دلا دی اور پھر اُترائی کے سفر کے لئے کیبل کار میں سوار ہوئے۔ دورانِ سفر بچوں کی گفتگو سے دو نئے شادی شدہ ہمسفر لطف اندوز ہوتے رہے اور انھوں نے  تاڑ لیا کہ ہم کراچی سے آئے ہونگے۔
کیبل کار سے اتر کر چیئر لفٹ میں سوار ہوئے، اب کی بار صاحب زادے والدہ کے ساتھ تھے اور بیٹی، ابا کے ساتھ۔ نیچے پہنچ کے عمر بھائی سے رابطہ کیا اور انکی ٹیکسی میں مری روانہ ہوئے۔ جب ہم مری پہنچے تو قریبا چار سوا چار کا وقت تھا۔ عمر عباسی نے ہمیں ایک ڈیڑھ گھنٹہ مری کی مال روڈ پر چہل قدمی کے لئے دیا۔ ہم نے پہلے تو کچھ پیٹ پوجا کی اور پھر مال روڈ پر آوارہ گردی شروع کردی۔ مری میں ٹھنڈک کا احساس ہوا، مگر آہستہ آہستہ ہمارے جسم درجہ حرارت کے عادی ہو گئے اور فضا خوشگوار لگنے لگی۔ مال روڈ پر  کرنے اور دیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ کہیں نام والے چابی کے چھلے بِک رہے ہیں تو کہیں آلو کی چپس، کوئی دستکاری کا اسٹال لگا ئے بیٹھا ہے تو کوئی پہاڑ پر خود کو سنبھالنے کے لئے چھڑیاں بیچ رہا ہے، میووں کی دوکان سجی ہے تو ساتھ ہی کشمیری شالیں بھی برائے فروخت ہیں۔ اور ان سے سے دل بھر جائے تو سڑک پر آتے جاتے نفوس بھی اپنے اندر پورا جہاں رکھتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد نئے شادی شدہ جوڑوں کی ہوتی ہے اور کچھ منچلوں کی بھی ، ساتھ ہی ساتھ ہم جیسے دو بچوں اور ایک بیوی والے جی-پی-او مری  کی سیڑھیوں پر بیٹھے، آئسکریم کھاتے اور بچوں کو مناتے دکھائی دیتے ہیں۔
مال روڈ سے نیچے اتر کر جب ہم عمر عباسی کی ٹیکسی میں بیٹھے تو پانچ سے اوپر کا وقت تھا۔ اس دوران ہم نے ایک دوکان سے تازہ پکوڑے خرید لئے تھے جن کے ساتھ انصاف کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے ٹیکسی میں ہی کیا۔
واپسی پر عمر عباسی ہمیں پرانی شاہراہ مری  سے لے گئے، سانگلی کے مقام پر پہاڑی جھرنے دیکھنے رُکے۔وجیہہ کو برف دیکھنے کی خواہش تھی تو عمر عباسی نے ہمیں مری روڈ کے کنارےپر موجود برف کے پگھلتے ہوئے چند ٹکڑے دکھائے۔ ان برف کے ٹکڑوں کو بھی استعمال میں لا کر ایک شخص نے برف کا پتلا یعنی سنو مین بنا ڈالا تھا اور اس کے ساتھ تصویر کھینچوانے کے پیسے لیتا تھا۔
مری سے اترتے ہوئے ہم سالگراں کے مقام پر پہنچے جہاں گذشتہ دنوں بہت سے حادثات ہوئے ہیں۔ سالگراں پر ایک پارک بنایا گیا ہے، جسکے لئے پہاڑی نالہ پار کر کے دوسری  جانب جانا پڑتا ہے۔ یہ مقام نہایت خوبصورت ہے، پہاڑوں سے اترتا پانی یہاں پتھروں پر سے گزرتا ہے۔ آپ بڑے مزے سے پانی میں پاوں ڈال کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہاں حسن اور بےحسی دونوں ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، قدرتی حسن، پہاڑوں ، پانی اور پتھروں میں ہے جبکہ بے حسی کھائی میں گری ہوئی ایک بس کے ڈھانچہ میں نظر آئی جو اس خونی موڑ سے لڑھکی ہوگی۔
شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے، سو ہم اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ میں ایک ہوٹل سے چائے پی۔ عمر عباسی نے جب سڑک کنارے ہوٹل میں چائے کا آرڈر دیا اپنے لئے 'ٹوکن' کا لفظ استعمال کیا۔ بعد میں ہمارے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ٹوکن آدھی پیالی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور عموما ڈرائیور حضرات آدھی پیالی چائے پیا کرتے ہیں۔
چائے سے فارغ ہو کر عمر عباسی نے ہمیں سینٹورس اتارا۔ وہاں انسانوں کی ایک طویل قطار شاپنگ پلازہ میں جانے کی منتظر دکھائی دی۔ ہم بھی قطار میں جا لگے۔ سینٹورس بلاشبہ بین الاقوامی طرز کو شاپنگ مال ہے۔ اسلام آبادی اس پر اتراتے ہیں، مگر ہم  کراچی میں ڈالمن مال رکھتے ہیں اور سڈنی میں ایک سے ایک شاپنگ مال دیکھ چکے ہیں تو ہم سینٹورس سے کچھ خاص مرعوب نہ ہوئے۔

کچھ وقت وہاں گزار کر ہم عشائیہ کے لئے سیور چل پڑے جو کہ قریبا ایک میل کے فاصلہ پر بلو ایریا میں تھا۔ وہاں ایک جمِ غفیر تھا کہ جیسے کھانا مفت تقسیم کیا جا رہا ہو۔ جیسے تیسے ایک میز پر جگہ ملی اور ہم نے وہاں کا مشہور پلاو کھایا۔ اس کے بعد گھر کی راہ لی۔ہم کراچی والے ہر طرح کے چاول کا طعام پکانے اور کھانے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور اس بات پر اِتراتے بھی ہیں، لہٰذا اسلام آباد کا سیور کا پلاو ہمیں خاص متاثر نہ کر سکا۔
جاری ہے