جمعہ، 26 نومبر، 2010

تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

 آج ہمیں چند دوستوں  کےتوسط سےسولہویں ایشیائی کھیلوں کی ہاکی کے مقابلے کے بعد کی تقریبِ تقسیمِ انعامات  کی وڈیودیکھنے کو ملی، جب اسے چلایا تو منظر کچھ یوں تھا کہ تختہ فاتحین پر پاکستان، ملائیشیا  اور بھارت کے کھلاڑی موجود تھے۔ انگریزی اور چینی دونوں زبانوں میں اعلان ہوا کہ خواتین و حضرات برائے مہر بانی پاکستان کے قومی ترانے کیلئے کھڑے ہوں اور اس اعلان کے ساتھ ہی قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے شروع ہوتے ہی پاکستانی کھلاڑیوں نے یک زبان ہوکر پوری قوتِ گویائی سے پاک سر زمین شادباد کی صدا بلند کی جسکی گونج  سایہ خدائے ذوالجلال پر جا کر ختم ہوئی۔
یہ ترانہ ہم نے بارہا سنا اور پڑھا مگر آج اسے کھلاڑیوں کو پڑھتا دیکھ اور سن کر بے اختیار آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ سچ ہے کہ وطن کی قدر پردیسی ہی کر سکتا ہے۔ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہم تمام سہولتوں اور آسائشوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتے مگر وطن سے دور رہ کر ہی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک میں ہمیشہ تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں چاہے آپ اس ملک کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔
اس منظر سے اس بات پر بھی یقین پختہ ہوتا ہے کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے اور جب چین و عرب میں پاکستانی ترانہ کی گونج سنائی دے سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جسطرح ہم نے آج کھیل کے میدان میں جھنڈے گاڑے ہیں ہمارا نوجوان اور پڑھا لکھا با شعور طبقہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام میں بھی تبدیلی لا سکے۔کہ آج کل کے حالات میں ہم اسی طبقہ کو مسیحا مانتے ہیں۔ ہماری بات کو دیوانے کا خواب سمجھنے والوں کو ہم احمد فراز کی زبان میں پہلے ہی جواب دیئے دیتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے دیکھتے ہیں 

5 تبصرے: