ہم اس بات پر مسرور ہیں کہ ہمارے بلاگ کواردوبلاگز میں شامل کر لیا گیاہے، اس موقع پر ہم نےسوچا کہ کچھ اپنے بارے میں قارئین کو آگاہ کرتے چلیں تاکہ ہم اس دیارانٹرنیٹ میں اجنبی نہ گردانے جائیں۔
آج سےپینتیس برس قبل شہرِ قائد میں جنم لینے کے بعد ہم نے دیگر بچوں کی طرح رونا شروع کردیا اوریہ عادت غالبا اس وقت تک برقرار رہی جبتکہ ہم پہلی جماعت میں اسکول میں داخل نہ کرادئیے گئے۔ حروف تہجی کی پہچان والدہ محترمہ نے گھر میں ہی کرادی تھی اس وجہ سے ہمیں براہِ راست اوّل درجہ میں داخلہ مل گیا اور پریپ وغیرہ نہیں پڑھنی پڑی۔
زمانہ طالبعلمی میں ریاضی سے خاص رغبت تھی اور جب الجبراء پہلی بار پڑھا تو اسکے گرویدہ ہو گئے۔ ہم جماعتوں سے مشقی سوال حل کرنے کی دوڑ لگاتے اور زیادہ تر جیت ہماری ہی ہوتی۔ اسی زمانہ میں بچوں کے اردو رسائل پڑھنا شروع کئے اور ہمدرد نونہال ہمارا پسندیدہ رسالہ ٹھہرا کہ محلہ کےکتب فروش کے پاس آتے ہی ہم اسکا تازہ شمارہ خریدتے اور ایک ہی رات میں ختم کر ڈالتے۔ اسی دوران برادرِ خرد بھی ہمارے ہم عصر ہو گئے اور ہمارے اس شوق نے ان پر بھی خاصا اثر ڈالا، ہم دونوں بھائی ابنِ صفی سے لے کراشتیاق احمد اور سیّارہ سے لے کر خواتین ڈائجسٹ تک سبھی پڑھتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا کلام اور نثربھی پڑھی یوں اردو سے ایک رشتہ استوار ہوا جس میں بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دہلی کالج کریم آباد سے انٹرکیا اور جامعہ کراچی سے طبیعات میں سولہ سالہ سند حاصل کی جوکہ سن انیس سو ستانوے کا واقع ہے۔ ڈگری کے مکمل ہوتے ہی اپنے شعبہ طبیعات، جامعہ کراچی میں عارضی استاد مقرر ہوئے اور ماہ نومبر سن اٹھانوے میں ہمدرد کالج برائے سائنس اور کامرس کراچی میں طبیعات کے لیکچرارمنتخب ہوئے اور درس و تدریس کو اوڑھنا بچھونا جانا۔ یہ سلسلہ سن دو ہزار چھ تک جاری رہا۔اس دوران شہر قائد کے مختلف چنگ سینٹرز میں بھی پڑھاتے رہے یوں طلبہ وطالبات کی ایک فوج سے تعلق رہا اور ایک کثیر تعداد آج بھی ہم سے باہمی رابطہ میں ہے۔
جوکوئے ہمدرد سے نکلے تو سوئے سرکار چلے اور ایک تحقیقاتی ادارے سے منسلک ہو گئے اور ہنوز اسی سے وابستہ ہیں ۔گذشتہ برس جلا وطن ہوئے اور سرکارکے وظیفہ پر شہرِ اورپیرا ہاوس، سرزمینِ کنگرو میں تحقیقاتی مقالہ پر مشتمل ایم ایس کی ڈگری کے حصول کی کوشش میں سرگرمِ عمل ہیں۔
اِسی دورِ جلاوطنی میں اردو کی محبت انٹرنیٹ کے ذریعہ اُمڈ پڑی اور بلاگ کا آغاز کیا، مقامی ساتھیوں کے حالات قلمبند کئے اور پھر ہمدرد کی یادداشتیں حوالہ قارئین کیں کبھی کبھار دیگر چند ایک مضامین پر بھی لکھا، یوں نصف صد کے قریب ذاتی تجربات اور مشاہدات بلاگ کر چکے ہیں، اب اردو بلاگز کا پلیٹ فارم نصیب ہوا ہے توہمارا مطالعہ بڑھے گا اورنئے موضوعات پر لکھنے کی ہمت ہوگی۔
امید ہے کہ قارئین ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں گے ورنہ بقول غالب
ع ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
جزاک اللہ
Mukhtasaran Jamay blog ! :) :)
جواب دیںحذف کریںGood to read about u sir!!!
جواب دیںحذف کریںn congrats to be a professional blogger :P
Good one sir, but u can write more on it !
جواب دیںحذف کریںbohat aala..
جواب دیںحذف کریںAakhir kaar sir aap nay bata hi dia k itni asaani se itne ache blogs kaise likh lete hain ....ye jaan kar khushi hui k ab ka blog pakistan blogs main register hogaya hai aur mjhe poori umeed hai k aap k parhne aur pasand karne walon ki tadad main mazeed izafa hoga INSHALLAH ! .All the best sr (y)
جواب دیںحذف کریںBohat Aala Sir khush amdaid Urdu Blogs mai...:)
جواب دیںحذف کریںNIcE Sir As AlwAyS
جواب دیںحذف کریںbohat khoob!!
جواب دیںحذف کریںbohat aala sir. waisay aap se meray bachpan ka aik shoq bohat match kerta hai yani kutab beeni.
جواب دیںحذف کریںzaberdast sir...kya umda andaz-e-bayan hai...pehli baar parha sir..aur waqai bht pasand aya..
جواب دیںحذف کریںGood read makes good writer.u proved it.good luck for ur masters
جواب دیںحذف کریںA good read Sir...keep writing..:)
جواب دیںحذف کریں