ہفتہ، 8 اپریل، 2023

تصویرِ ہمدرداں، باتیں ٹینٹھ اے کی

تمہید: سن دو ہزار دس میں جب ہم نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تو اسکا عنوان 'کچھ سُنی کچھ ان سُنی' رکھا، مگر بعد میں 'بیادِ سڈنی' کر دیا۔ اب ایک دہائی گزرنے کے بعد اسے ایک اور نیا نام 'قلم کاری' دے دیا ہے۔ قلم کاری فنکاری کی طرز پر ایک عمل بھی ہے اور قلم کی صفت بھی کاری ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ تلوار کا وار بھر جاتا ہے مگر زبان کا نہیں بھرتا، اگر اس میں قلم بھی شامل کر لیا جائے تو قلم کی مار بھی بھرپور ہوتی ہے اور اس سے تخت یا تختہ کا فیصلہ لکھا جا سکتا ہے۔ یوں ہم نے اپنے بلاگ کو یہ عنوان دے ڈالا۔ ذیلی سرخی  اس بلاگ کی'کچھ یادیں، کچھ باتیں' ہے، تو گویا ہم ماضی کا تذکرہ بھی کریں گے اور اِدھر اُدھر کی گفتگو بھی۔ چیٹ جی پی ٹی کے زمانے میں خودنوشت لکھنے کا کوئی مشینی طریقہ بھی آ ہی جائے گا، مگر جب تک نہیں آتا ہم اصل انسانی تجربات تحاریر کے ذریعہ اپنے قارئین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اب اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں۔

تصویرِ ہمدرداں: اس عنوان کے تحت پہلے کافی بلاگ لکھے جاچکے ہیں اور ہمارے مستقل قاری اس ے واقف ہیں۔ نئے قارئین پرانی پوسٹس میں وہ بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔
مسز گلزار کا طریقہ تھا کہ درجہ نہم کے بعد دہم میں آنے والے طلبا و طالبات کو کسی نہ کسی بنیاد پر نئے سیکشنز میں تقسیم کر تیں۔ اس طرح بہت سی دوستیاں ٹوٹ جاتیں اور نئے دوست یا سہیلیاں بن جاتیں۔ مگر جو شاگرد درجہ اول سے ہمدرد پبلک اسکول میں زیرِ تعلیم تھے یہ تقسیم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ پاتی۔ کیونکہ دوستیوں کی بنیاد صرف ہم جماعت ہونا ہی نہ تھی، بلکہ اکثر طلبہ ایک ہی بس کے ہمسفر ہوتے تھے، چند ایک ہی محلہ یا گلی سے آتے تھے، بس الگ ہونے کے باوجود کچھ کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں اور بیشتر اسکول کے ہی دوست تھے۔ یوں پرانی دوستیاں محض جماعت کا سیکشن الگ ہونے سے ٹوٹنے والی نہ تھیں۔
دہم کے ان بننے والے سیکشنز میں لڑکیوں کے عموما دو اور لڑکوں کے تین سیکشنز بنتے تھے۔ اس وقت طبیعات صرف دہم میں پڑھائی جاتی تھی تو ہمارا واسطہ اسکول میں دسویں جماعت سے پڑتا تھا ورنہ ہم کالج پڑھاتے تھے۔ ٹینٹھ اے کا سیکشن لڑکیوں کا ہی ہوتا تھا اور میڈم گلزار کا پسندیدہ ترین ہوتا تھا، اس میں پڑھنے والی طالبات کو وہ پیار سے bright beauties کہا کرتی تھیں۔ اس سیکشن میں پڑھانا ایک منفرد تجربہ ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جماعت صلاحیتوں، شرارتوں، باتوں اور ذہانتوں سے بھرپور ہوا کرتی تھی اور کوئی بھی نا تجربہ کار استاد ان کی باتوں کے ریلے کے سامنے آسانی سے نہیں ٹھہر پاتا تھا۔ انھیں کلاس کا وقت گزارنے میں مہارت حاصل تھی، مگر ہم انھی کے استاد تھے۔ 
ایک سال اس سیکشن میں ہم نے ایک طالبہ کو ہماری ہی نقل اتارنے کو کہا تو ہم ان کے مشاہدہ پر حیران رہ گئے کہ بچے کتنی باریک بینی سے ٹیچر کا ایکس رے کر لیتے ہیں کہ ہماری غیر محسوس پر کی گئی حرکات بھی انھوں نے اس پیروڈی کا حصہ بنا ڈالیں۔ وہ محترمہ اب شہر کراچی کی معروف دندان ساز ہیں۔ 
سن دو ہزار چار ہمارا  ہمدرد میں پڑھاتے ہوئے چھٹا برس تھا، اس سال کی ٹینٹھ اے بھی نرالی تھی۔ ایک بار اردو کے پیریئڈ میں ہمارا فکسچر لگا دیا گیا۔ ہم کلاس میں گئے تو کوئی طبیعات پڑھنے کو تیار ہی نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دن فزکس کی کلاس نہ تھی تو کوئی بھی کتاب نہیں لایا تھا۔ اور مسز گلزار کا اصول تھا کہ نو بُک نو کلاس۔ ہم نے کہا کہ پھر کیا کیا جائے، جواب آیا سر اردو پڑھا دیں۔
اردو کی ٹیچر بہت منجھی ہوئی استاد تھیں اور نفس مضمون پر خوب گرفت رکھتی تھیں۔ جب بچوں کا کام جانچتی تھیں تو بقول ٹینٹھ اے کے کاپیاں واپسی پر دلہن بن کر آتی تھیں۔
اب ایسی ٹیچر کے مضون کو ہاتھ لگانا آبیل مجھے مار کے مترادف تھا۔ مگر ہم ٹھہرے سدا کے اردو پرست تو پوچھا کہ کیا پڑھ رہیں ہیں آپ اردو میں، جواب ملا کہ اقبال کی شکوہ، جوابِ شکوہ۔ ہم نے کہا کہ نکالیں کتابیں۔ اور خود بنا کتاب کے اقبال کا تعارف بیان کر ڈالا۔ ایک بند کی تشریح بھی کر ڈالی۔ کلاس کے وقت کے تمام ہونے کا پتہ گھنٹی بجنے پر چلا۔ کلاس سے سیدھا مسز گلزار کے آفس میں پہنچے اور انھیں بتایا کہ آج مابدولت نے ٹینٹھ اے میں اردو پڑھا دی ہے۔ اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگیں ' بَرا اچھا کیا'۔
مزہ تب آیا جب اگلی بار ہم ٹینٹھ اے میں گئے ۔ بر سبیلِ تذکرہ پوچھا کہ اقبال کی نظم مکمل ہو گئی؟ جواب ملا کہ اردو کی ٹیچر کو جب ہم نے بتایا کہ فزکس کے سر نے ہمیں اس کا تعارف اور ایک بند پڑھا دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ باقی نظم بھی آپ فزکس کے سر سے پڑھ لیجیئے گا۔
مگر ہم بھی باز آنے والے نہ تھے، شُدھ انگریزی میں طبیعات کے نوٹس زبانی لکھوانے کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کا تکڑا ضرور لگاتے۔ ایک طالبہ نے ایک بار پوچھا کہ سر یہ نوٹس جو آپ ڈکٹیٹ کراتے ہیں تو کیا یاد کر کے آتے ہیں۔
ایک بار نوٹس لکھواتے ہوئے  بیچ میں کوئی اور بات نکل آئی۔ ایک طالبہ اس دوران بات کو نہ پکڑ سکیں تو ہم نے انھیں ٹیوب لائٹ کا خطاب دے ڈالا۔ یہ خطاب ایک اور طالبہ نے نوٹس میں روانی میں لکھ دیا کہ سر نے اگلا لفظ ٹیوب لائٹ کہا ہے۔
ان باتوں سے اندازہ کر لیں کہ حکیم صاحب جتنے سادہ خود تھے اتنے ہی سادہ دل ہمدرد کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ بھی تھے۔
ع زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے
باقی باتیں پھر کبھی۔